وقت رخصت ہے اب مسجد قرطبہ …ایمن طارق

حال ہی میں اسپین وزٹ کے دوران مسجد قرطبہ (Mosque–Cathedral of Córdoba)جو ۱۲۳۶ میں واپس عیسائیوں کے قبضے میں چلی گئ کو دیکھ کر ٹوٹے پھوٹے الفاظ و تاثرات۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وقت رخصت ہے اب مسجد قرطبہ
کیا فسوں ہے سحر ہے درو بام میں
اک سنہری سے ماضی کی مٹتی جھلک ۔۔

وہ فضائیں جو تھیں گونجتی ہر گھڑی
لاالہ الا اللہ کا نغمہ تھا چاروں طرف
آج خاموش ہیں ۔۔

تیری عظمت کے چرچے تھے چاروں طرف
آج تعظیم تیری کہیں کھو گئ
یا وہ امت جو شاید کہیں سو گئ ۔۔

لا الہ کی صداوں کو سننے کی لزت سے محروم ہیں
سنگِ مرمر تیرے
شکوہ کرتے تھے محراب و گنبد تیرے
پوچھتے تھے وہ غازی کہاں کھو گۓ
جن کا زوقِ خدائ تھا سب سے جدا
جن کی ہیبت کا چرچا تھا ہر چار سو۔۔

مسجد قرطبہ
تیری تعمیر میں
تیری تشکیل میں
کچھ عجب لوگ تھے
جن کے سوزِ جگر نے
صدیوں نسل در نسل
عشق کی داستاں کو
رقم کر دیا
اور کہیں کھو گۓ
اُن کے جزبوں کی حدت سے
تپتی ہے مسجد تیری آج بھی ۔۔۔

دل نے چاہا بہت ایک سجدہ کریں
تیری تعظیم میں سر ڈھکیں چپ رہیں
کچھ کہیں کچھ سنیں رب رحمن سے
مسجد قرطبہ اب یہ ممکن نہیں
اب پلٹتے ہیں ہم
تجھ کو یوں چھوڑ کر
ہر طرف سر ہی سر
شور ہی شور ہے
تیری عظمت سے حرمت سے ہیں بے خبر
روندتے ہیں قدم تیری تقدیس کو ۔۔

آۓ تھے دور سے تجھ کو یوں دیکھنے
نظر تھی منتظر دل میں بھی شوق تھا
اک تڑپتی مچلتی سی ہے آرزو
کاش واپس جو پلٹیں کسی ایک دن
تیری تعظیم واپس تجھے دے سکیں
ان فضاوں میں توحید کی گونج ہو
ان زمینوں پہ جھکتی جبینیں دکھیں
مسجد قرطبہ
ہم پلٹتے ہیں اب
الوداع الوداع۔۔

۔۔۔ایمن طارق ۔۔
۶ اپریل ۲۰۱۹