برکتوں اور رحمتوں کا مہینہ رمضان۔۔محمد امجد چوہدری

رمضان کا مہینہ الحمدللہ اپنی برکتوں اور رحمتوں کے ساتھ جاری ہے اور تقریبا1/6 گزر چکا ہے۔روزہ اسلام کاتیسرا بنیادی رکن ہے۔رمضان کی اہمیت اس کی فرضیت سے واضح ہے۔اللہ تعالی’ فرماتے ہیں
اے ایمان والو روزے تم پر فرض کیے گئے ہیں جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تاکہ تم متقی بن جاو۔
اس آیت سے پتہ چلتا ہےکہ روزہ ایک ایسی عبادت ہے جوپہلی امتوں پر بھی فرض تھا اور آیت کا آخری حصہ فوائد بیان کرتا کہ فرض اس لیے کیے گئے تاکہ تم متقی ہو جاو۔ اور سب سے اہم بات کہ جنت کے آٹھ دروازوں میں سے ایک روزہ داروں کیلیے مخصوص کیاگیا ہے۔روزے کی اہمیت اور اس کا اجرو ثواب کے متعلق نبی مکرمؐ کی بیشمار احادیث مبارکہ ہیں جو ہم روز مساجد میں خطبات اور دیگر پروگراموں میں دیکھتے اور سنتے رہتے ہیں۔
لیکن میں سمجھتا ہوں یہ مہینہ ہمارے لیے ایک کورس کی حیثیت رکھتاہے۔شیطان قید کردیے جاتے ہیں اور بندےکی قدرتی طور پر دین کیطرف رغبت بڑھ جاتی ہے۔سو ہم اگر عہد و تہیہ کرلیں کہ اس ماہ کو غنیمت سمجھ کر اپنی اصلاح کرنی ہے توکوئی مشکل کام نہیں ہے۔اور اس سے ایک بہترین ، پرامن، دوسروں کااحساس وہمدردی کرنے والا جھوٹ ،منافقت،حسد،حق تلفی، ظلم ، زیادتی، دھونس دھاندلی، سے پاک، اور محبتوں بھرا معاشرہ تشکیل پا سکتا ہے۔آج تو ایک کیس میں CJ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس معاشرے کا سب سے بڑا مسئلہ جھوٹ اور دھوکہ ہے۔یہاں ہر کوئی۔۔۔۔
بہرحال میری نظر میں کافی حد تک معاشرتی مسائل اور پریشانیوں کے ذمہ دار ہم خود بھی ہیں۔دوسروں کے معاملات میں بےجا مداخلت ، دوسروں کے معاملات کو گھروں ، چوک چوراہوں پر بیٹھ کر زیر بحث لانا، کسی کو کسی بھی شعبے میں آگے بڑھتے، ترقی کرتے ہوئے دیکھ کر اس کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنے اور پریشان کرنے کی تدابیر کرانا، فضول قیاس آرائیاں کرنا کہ یہ فلاں نے کیاہوگا، فلاں نے ایسا ضرور کہا ہوگا وغیرہ وغیرہ۔ یہ ساری چیزیں تعلقات کی قینچی اور نفرت کے بیج ہیں۔یہاں معاشرے کے ایک ایک مسئلے کو زیر بحث لایا جاسکتا ہے۔لیکن مضمون کی طوالت سے مختصر کرتا ہوں ۔آو عہد کریں
قانون پر عمل کریں گے۔کسی پر ظلم نہیں کریں گے، کسی کا حق نہیں کھائیں گے، کسی کو دھوکہ نہیں دیں گے، سچ بولیں گے، بڑوں کی عزت اور چھوٹوں سے شفقت و محبت سےپیش آئیں گے، کسی سازش کا حصہ نہیں بنیں گے،ملاوٹ نہیں کریں گے، اپنے فائدے کی خاطر دوسرے کو نقصان نہیں پہنچائیں گے ،نفرتوں کی جگہ محبتیں بانٹیں گے وغیرہ وغیرہ۔
اگر ہم اپنےآپ کو ٹھیک کرلیں تو سب کچھ اچھی تبدیلی میں بدل جائیگا۔پھر آپ کی عزت ووقار کا ڈنکا ساری دنیا میں بجے گا۔ورنہ یاد رکھو جھوٹی ، فراڈی، قوم کو کوئی طاقت دنیا میں عزت نہیں دلا سکتی