مسجد حرام کے قالینوں سے متعلق جو آپ نہیں جانتے: 40 سالہ سفر کی کہانی

چالیس برس قبل مسجد حرام کے لیے قالین چار ملکوں سے درآمد کئے جاتے تھےمسجد حرام اور بیت اللہ کی تاریخ کی طرح حرم شریف میں موجود قالینوں کی بھی عشروں پر پھیلی داستان ہے۔ آج سے 40 سال پہلے مسجد حرام میں بچھائی جانے والے قالین بیرون ملک سے منگوائے جاتے تھے۔چالیس سال قبل جب بیرون ملک کی جگہ سعودی عرب میں تیار کردہ قالین بچھائے گئے۔ تبدیلی سے قبل قالینوں کا رنگ سبز اور جب کہ نئے تیار کردہ قالینوں‌ کا رنگ سرخ تھا۔مسجد حرام میں نمازیوں، معتمرین اور حجاج کرام کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کے لیے اعلیٰ معیار کے نرم وگداز قالینوں کی تیاری کے لیے باقاعدہ ایک کارخانہ قائم کیا گیا۔ مسجد حرام کے قالینوں کی تیاری کی نگرانی حرمین شریفین امور کی جنرل پریزیڈنسی کے سپرد کی گئی جس نے قالینوں کی تیاری، صفائی، دھلائی اور معطر کرنے کے لیے جدید ٹکنالوجی اور تکنیک کا استعمال کیا جاتا ہے۔
سعودی عرب کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ‘ایس پی اے’ کے مطابق ماضی میں مسجد حرام کے قالین چار عالمی دارالحکومتوں میں تیار کرائے جاتے مگر چار عشرے قبل مسجد حرام کے قالینوں کی تیاری کے لیے مقامی سطح پر ایک کارخانہ قائم کیا گیا۔
سنہ 1402ھ سے 1409ء تک مسجد حرام کے قالین بیلجیئم سے درآمد کیے جاتے۔ اس کے بعد سنہ 1416ھ تک جرمنی سے قالین منگوائے جاتے اور اس کے بعد 1420ھ تک لبنان سے قالین منگوائے گئے۔ سنہ 1434ھ تک مسجد میں سرخ رنگ کے قالین بچھائے جاتے رہے اور اس کے بعد مسجد میں موجودہ سبز رنگ کے قالین بچھائے گئے اور آج تک یہی رنگ استعمال ہو رہا ہے۔
مسجد حرام میں موجود قالینوں کی صفائی اور دھلائی کے لیے مکہ معظمہ میں ‘کدی’ کے مقام پر ایک پلانٹ نصب ہے جس میں قالین دھونے کے لیے جدید مشینری نصب ہیں۔ اس پلانٹ پر ایک گھنٹے میں 100 قالین دھوئے جا سکتے ہیں۔ پلانٹ میں ایک ہی وقت میں تین میٹر چوڑا قالین ڈالا جا سکتا ہے۔
اس کے علاوہ ایک گھنٹے میں 240 مربع میٹر قالین دھوئے اور صاف کیے جا سکتے ہیں۔ ایک دن میں اوسطا 1650 قالین دھوئے جاتے ہیں۔ دھلائی کے بعد دوسرا مرحلہ انہیں خشک کرنے کا ہوتا ہے۔ تیسرے مرحلے میں قالینوں کو معطر کیا جاتا اور گرمیوں میں 24 اور سردیوں میں 48 گھنٹے کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے۔ اس کے بعد ان کی پیکنگ کی جاتی ہے جب کہ آخری مرحلے میں مسجد میں قالین بچھائے جاتے ہیں۔حرمین شریفین پریزیڈنسی کے جنرل سپروائزر الشیخ ڈاکٹر عبدالرحمان السدیس کی ہدایت پر جہاں اعلیٰ معیار کے قالینوں سے مسجد حرام کو مزین کیا جاتا ہے وہیں ان کی صفائی کا خاص رکھنے کے ساتھ 24 گھنٹے انہیں معطر کرنے کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے