’’سعودی گرین کارڈ‘‘ کے حامل افراد کو کیا فوائد حاصل ہوں گے، جانئے!

مریم الجابر۔۔سعودی عرب کی مجلس شوریٰ‌ نے غیر معمولی خصوصیات کے حامل غیر ملکی تارکین وطن کے لئے ‘منفرد اقامہ پروگرام’ منصوبے کی منظوری دی ہے۔ منفرد اقامہ پروگرام سعودی عرب میں مقیم غیر ملکی شہریوں‌ کے لیے مُملکت کی طرف سے ایک نئی سہولت ہو گی جس کے تحت انہیں محدود پیمانے پر کاروبار کرنے اور اپنی مرضی سے مملکت میں آزادی کے ساتھ آمد ورفت کی اجازت ہو گی۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق منفرد اقامہ پروگرام، جسے عرف عام میں سعوددی گرین کارڈ کا نام دیا جا رہا ہے، دائمی اور عارضی دو اقسام پر مشتمل ہو گا۔ عارضی اقامہ پروگرام محدود اور مخصوص فیس ادا کر کے حاصل کیا جا سکے گا۔ مملکت میں رائج کئے جانے والے منفرد اقامہ پر رہائش پذیر تارک وطن کو سعودی عرب میں بعض اضافی مراعات حاصل ہوں گی۔ اسے محدود پیمانے پر سعودی عرب میں کاروباری سرگرمیوں میں حصہ لے سکے گا۔اس کے علاوہ منفرد اقامہ پروگرام رکھنے والے غیر ملکی کو اپنے خاندان کو ساتھ رکھنے، اقارب کو ملاقات کے لیے بلانے، مزورد منگوانے، جائیداد بنانے، نقل وحمل کے وسائل کی ملکیت حاصل کرنے کی اجازت ہو گی۔ اس کے عوض انہیں طے شدہ ضوابط کے مطابق فیس ادا کرنا ہو گی۔ منفرد اقامہ ہولڈر کو سعودی عرب میں آمد ورفت کی اجازت ہو گی۔ دائمی اقامہ غیر معینہ مدت کے لیے ہو گا، یا قابل تجدید ہو گا۔
حکومت نے مملکت میں مثالی اقامہ کے امور کے لیے ایک ادارہ قائم کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے جو صرف اقامہ معاملات کی نگرانی کرے گا۔منفرد اقامہ کے حصول کے لیے امیدوار کے لیے وضع کردہ شرائط میں کارآمد پاسپورٹ، مالی طور استحکام، عمر کی کم سے کم حد 21 سال، سعودی حکومت کی طرف سے باقاعدہ اقامہ حاصل کر چکا ہو، حکومتی ریکارڈ میں کسی قسم کے جرم میں ملوث نہ ہو اور متعدی امراض سے محفوظ ہونے کا تصدیق شدہ سرٹیفکیٹ بھی رکھتا ہو۔مجلس شوریٰ میں منفرد اقامہ سسٹم کی رائے شماری کے لیے اس کی حمایت میں 76 اور مخًالف میں 55 ووٹ ڈالے گئے۔
چند ماہ قبل سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز نے بلومبرگ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ’’ان کی حکومت سعودی عرب میں غیر ملکی شہریوں کو کاروباری سہولت کے لیے ‘گرین کارڈ’ کی طرز کا نیا اقامہ نظام متعارف کرائے گا جو مملکت میں اربوں ڈالر کے زرمبادلہ کی آمد اورسرمایہ کاری کا موجب ہو گا۔‘‘