افطار پارٹیاں امن کااستعارہ بن سکتی ہیں۔۔ڈاکٹرقمرفاروق

بہت کام جو ہم اس لئے نہیں کرتے کہ یہ کام مساجد یا مولوی حضرات کے ہیں وہی کریں گے۔حالانکہ مساجد اور مولوی حضرات ایسے کاموں کو بڑی فیڈریشنز کے کھاتے میں ڈالتے ہیں۔ اور اس طرح بڑے مقاصد والے کام آنکھ مچولی کی نظر ہو جاتے ہیں۔
رمضان المبارک رحمتوں اور برکتوں کے ساتھ ساتھ امن ، بھائی چارے اور اخوت کا پیغام بھی ساتھ لے کر آتا ہے۔ اور خاص طور پر مسلم دنیا سے باہر رہنے والے مسلمانوں کے لئے تو زیادہ اہم ہوتا ہے۔ اسی رمضان کے ذریعے ہم اسلام کا آفاقی پیغام عام انسانوں تک پہنچا سکتے ہیں کیونکہ ہمارے پاس زیادہ مواقع ہیں کہ ہم اپنے ان ہمسائیوں میں رہتے ہیں جنہوں نے اسلام کا نام تو سنا ہے لیکن اس کی تعلیمات سے نابلد ہیں۔ اس سنہری موقع پر اپنے ہمسائیوں، قریبی دوستوں جو غیر مسلم ہیں کو افطار کی دعوت دے کر اپنے اسلام کے پرامن پیغام اور اپنی ثقافت سے روشناس کروا سکتے ہیں۔ اور یہ ہم انفرادی طور پر اور اجتماعی طور پر کر سکتے ہیں۔ اگر ہم زیادہ لوگوں کو کھانا کھلا سکتے ہیں تو ہمیں چاہیئے کہ باہر کھلی جگہوں پر اجازت لے کر افطار کا اہتمام کریں اور اچھی ہمسائیگی کا ثبوت دیں۔
عالیہ شاہ نے لکھا ہے ’’گذشتہ چند مہینوں امریکہ ، برطانیہ ،نیوزی لینڈ ، سری لنکا میں جس قسم کے واقعات رونما ہوئے اس سے یہی نظر آتا ہے کہ ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔ اب وہاں مسجدوں پر حملے بھی ہو رہے ہیں، حجاب پر پابندی بھی لگائی جا رہی ہے۔ اب ان کا اعلان ہے کہ اگر تم ہماری تہذیب اور ثقافت کو رد کرو گے تو ہم بھی تمھیں رد کر تے ہیں۔مسلمان کئی عشروں سے ان ممالک میں چین و سکون کی وہ زندگی گزار رہے تھے جہاں عقیدے کی بنا پر تفریق نہیں تھی اور راوی چین ہی چین لکھتا تھا، لیکن حالیہ واقعات اس بات کے غماز ہیں کہ دنیا بدل گئی ہے۔امریکہ، برطانیہ، جرمنی، پیرس اور اٹلی جو کبھی مذہبی رواداری کی علامت تھے اب عقیدے اور رنگ و نسل کی بنیاد پر ہونے والے تصادم سے مبرا نہیں رہے۔‘‘
تو ایسی صورتحال میں جس طرح لندن میں ایک خاتون بشپ اور ایک مسلمان مئیر کی جانب سے سینٹ پال چرچ میں تمام قومیتوں اور فرقوں کے نوجوانوں کے لئےافطاری کا بندوبست ایک ٹھنڈی ہوا کا جھونکا اور دیگر عالمی رہنماؤں کے لئے اہم پیغام ہے۔ فرقوں اور عقیدوں کے بیچ تقسیم ہوتی دنیا کے لئے یہ افطار پارٹی امن کا استعارہ بنی ہے۔ نفرت کی بھڑکتی آگ کو و محبت کی دھیمی آنچ سے ہی شکست دی جا سکتی ہے۔
تو ان حالات میں مختلف ایسوسی ایشنز اور فیڈریشنز کا کردار بڑھ جاتا ہے۔ کہ وہ آگے آئیں اور امن کی بات کریں بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دیں۔ بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لئے رمضان المبارک کی با برکت ساعتوں سے بہتر کوئی موقع نہیں ہوسکتا جب سماجی پلیٹ فارم والے لوگ مقامی افراد ،حکومتی نمائندوں اور مختلف مذاہب کے ماننے والے اہم لوگوں کو ایک جگہ پر جمع کر کے امن کا پیغام دے سکتے ہیں۔
اسپین میں اور خاص طور پر بارسلونا میں بسنے والے مسلمانوں اور خاص طور پر پاکستانیو ں کو چاہیئے کہ وہ مساجد اور مولوی حضرات کی جانب دیکھنے کی بجائے خود ایک پیج پر جمع ہو کر بین المذاہب ہم آہنگی کے لئے کردار ادا کریں اور کسی چرچ ، گرودوارہ یا کھلے میدان میں بڑی افطار پارٹی کا اہتمام کریں جس میں حکومتی شخصیات اور مذہبی نمائندوں کو بلایا جائے اور اسلامو فوبیا کے بڑھتے رجحان کو کم کیا جائے۔