مہاجرین کی ایک بڑی تعداد ہسپانوی علاقے میلیلا اور سیوتا میں داخل ہونے کی کوشش

شمالی افریقہ سے مہاجرین کی ایک بڑی تعداد ہسپانوی علاقے میلیلا اور سیوتا میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ ابھی حال ہی میں باون مہاجرین زبردستی میلیلا کی سرزمین پر پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔ہسپانوی وزارت داخلہ کے مطابق تقریباً ایک سو مہاجرین نے اسپین کو مراکش سے الگ کرنے والی تقریباً چھ میٹر اونچی یہ باڑ پار کرنے کی کوشش کی۔ تاہم اس دوران ذیلی صحارہ خطے سے تعلق رکھنے والے باون افراد اسے پار کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ بتایا گیا ہے کہ ان تارکین وطن نے علی الصبح یہ کوشش کی تھی اور ہسپانوی اور مراکش کے سلامتی کے اداروں کے اہلکاروں نے ان میں سے نصف کو میلیلا میں داخل نہیں ہونے دیا۔
ذرائع نے بتایا کہ اس دوران ہسپانوی پولیس کے چار اہلکار اور ایک تارک وطن زخمی ہوئے جبکہ ایک تارک وطن کو پولیس افسر پر حملہ کرنے کے الزام میں حراست میں بھی لے لیا ہے۔ میلیلا میں داخل ہونے والے تمام مہاجرین کو ایک عارضی پناہ گاہ میں رکھا گیا ہے، جہاں پر انہیں ابتدائی امداد فراہم کی گئی۔
مقامی ٹیلی وژن پر نشر ہونے والی ویڈیو میں خار دار تاروں والی اس باڑ پر ان افراد کے سویٹر، جیکٹیں اور دیگر ملبوسات کو لٹکا ہوا دیکھا جا سکتا ہے۔اتوار کا یہ واقعہ گزشتہ برس اکتوبر کے بعد سے اب تک رونما ہونے والا سب سے بڑا واقعہ ہے۔ اس وقت تین سو مہاجرین نے یہ باڑ پار کرنے کی کوشش کی تھی، جس میں دو سو کے قریب افراد کامیاب ہو گئے تھے۔ تاہم اس شخص دل کی حرکت بند ہونے کی وجہ سے انتقال کر گیا تھا۔اسپین کے شمالی افریقہ میں دو علاقے ہیں،سیوتا آبنائے جبرالٹر کے پاس جبکہ میلیلا اس سے ڈھائی سو کلومیٹر دور بحیرہ روم کے کنارے پر واقع ہے۔