ڈنمارک: مہاجرین طلاق نہیں لے سکتے

طلاق لے سکنے کے لئے مہاجرین کے پاس اس ملک کا رہائشی پرمٹ کا ہونا ضروری ہے، عارضی رہائشی اجازت نامہ لینے والے مہاجرین ملک میں مقیم شمار نہیں ہوتے
ڈنمارک، عارضی رہائشی پرمٹ کے حامل مہاجرین کے طلاق کے مطالبات کو رد کر رہا ہے۔روزنامہ پولیٹیکن کی، طلاق کے معاملات نبٹانےوالے سرکاری ادارے کے فیصلوں کے حوالے سے، شائع کردہ خبر کے مطابق غیر ملکیوں کے قانون کے 7 ویں مادے کی تیسری شق ملک میں عارضی رہائشی پرمٹ کے ساتھ مقیم غیر ملکیوں کو طلاق کی اجازت نہیں دیتی۔
غیر ملکیوں کے قانون کے مطابق ڈنمارک میں مہاجرین کے طلاق لے سکنے کے لئے ان کے پاس اس ملک کا رہائشی پرمٹ کا ہونا ضروری ہے کیونکہ عارضی رہائشی اجازت نامہ لینے والے مہاجرین ملک میں مقیم شمار نہیں ہوتے۔خبر کے مطابق اس وجہ سے سرکاری محکمے کی طرف سے عارضی رہائشی اجازت نامہ رکھنے والوں کی طلاق کی طلب مسترد کی جا رہی ہے۔اس خبر کے بعد اپنی آراء کا اظہار کرتے ہوئے سوشل ڈیموکریٹ پارٹی اور ڈنمارک عوامی پارٹی کے سیاست دانوں نے اس قانون کو تبدیل کرنے کی اپیل کی ہے