امریکا 70 پاکستانیوں کو کل ملک بدر کرے گا

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ویزا پابندی پاکستانی شہریوں پر نہیں، وزارت داخلہ کے جوائنٹ سیکریٹری سمیت 3 افسران پر لگی ہے، جب کہ امریکا نے بدھ کے روز 70 پاکستانیوں کو ڈی پورٹ کرنے کا اعلان کیا ہے۔قومی اسمبلی کی خارجہ امور کی کمیٹی کا اجلاس احسان اللہ ٹوانہ کی صدارت میں شروع ہوا تو وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے خارجہ امور پر کمیٹی اراکین کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اگلے ماہ کی 27 تاریخ کو تمام سفارت کاروں کا اجلاس بلایا ہے، اجلاس میں معاشی سفارت کاری کے فروغ پر بات چیت ہوگی۔ کمیٹی اجلاس میں وزیر خارجہ نے انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ بھارت پاکستان کا باسمتی چاول اپنے نام سے فروخت کر رہا ہے، اس کیلئے قطر سے پاکستانی باسمتی چاول پر پابندی لگانے کا معاملہ اُٹھایا ہے۔امریکا سے ملک بدر کیے جانے والے پاکستانیوں سے متعلق وزیر خارجہ نے بتایا کہ پاکستان پر امریکا نے کوئی ویزا پابندی نہیں لگائی ہے، تاہم امریکا میں غیر قانونی طور مقیم افراد کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے، جہاں 70 غیر قانونی پاکستانیوں کو امریکا بدھ کے روز ملک بد کرے گا، جن پاکستانیوں کو ملک بدر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اُن پر ویزا قوانین سمیت مختلف قوانین کی خلاف ورزی کا الزام ہے، نکالے جانے والے پاکستانیوں پر مجرمانہ الزامات بھی ہیں، ان افراد کو امریکی ریاست ٹیکساس سے خصوصی پرواز کے ذریعے اسلام آباد لایا جائے گا۔
امریکا کے ساتھ ویزا معاملے پر وضاحت دیتے ہوئے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ امریکا کی جانب سے پاکستانیوں کیلئے ویزے کے حصول پر کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی ہے، ویزا پابندی پاکستانی شہریوں پر نہیں صرف 3افسران پر لگی، تینوں افسران کا تعلق وزارت داخلہ سے ہے، جس میں وزارت داخلہ کے جوائنٹ سیکریٹری بھی شامل ہیں۔افغان امن عمل پر وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ افغان امن عمل میں پاکستان کا اہم کردار ہے، جب مذاکرات میں ناکامی ہوتی ہے تو ہمیں قربانی کا بکرا بنایا جاتا ہے، کوئٹہ اور داتا دربار دھماکا وہ قوتیں کرا رہی ہیں جو پاکستان مخالف ہیں، امریکا آج پیسہ بند کردے تو افغان حکومت نہیں چل سکتی، جب امن عمل آگے بڑھتا ہے تو ایسی قوتیں متحرک ہوجاتی ہیں