مراکشی حکومت کے تادیبی اقدامات متعارف،اسپین پہنچنا مشکل ہوگیا

انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق یورپی یونین کے ممالک بحیرہ روم کی نگرانی بتدریج شمالی افریقی ممالک کے حوالے کر رہے ہیں۔ ان ممالک میں مراکش بھی شامل ہے، اس ملک نے بھی سخت حفاظتی اقدامات متعارف کرا رکھے ہیں۔مراکش ایسے نئے تادیبی اقدامات متعارف کرانے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے تا کہ یورپ پہنچنے کے لیے غیر قانونی تارکین وطن اُس کی سرزمین کو استعمال کرنے سے اجتناب کریں۔ مراکشی حکومت نے رواں برس پچیس ہزار غیرقانونی تارکین وطن کی آبنائے جبرالٹر کو عبور کر کے اسپین پہنچنے کی کوشش کو ناکام بنایا ہے۔مراکش کے بارڈر سکیورٹی محکمے کے سربراہ خالد زیرولی نے نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا رواں برس فروری سے اپریل کے دوران اسپین پہنچنے کی تیس فیصد کوششوں کو ناکام بنایا گیا تھا۔ زیرولی کے مطابق انسانی اسمگلنگ کے پچاس منظم مجرمانہ نیٹ ورکس کو ختم کر دیا گیا ہے اور یہ کارروائیاں گزشتہ برس کے مقابلے میں تہتر فیصد زیادہ ہے۔
خالد الزیرولی کا کہنا ہے کہ مجرمانہ کارروائیوں کے حامل گروپوں اور نیٹ ورکس کو سخت مراکشی اقدامات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ شمالی ساحلی پٹی پر پائے جانے والے ناقص ڈھانچے کے ساتھ ساتھ اُن راستوں کا پتہ چلایا گیا ہے، جن کو استعمال کر کے انسانی اسمگلرز اپنی سرگرمیوں کو جاری رکھے ہوئے تھے۔ مراکشی اہلکار کے مطابق اب انسانی اسمگلروں کے لیے معاملات بڑھانا آسان نہیں رہا ہے۔مراکشی سرحدی سلامتی کے سربراہ کے مطابق انسانی اسمگلر جن راستوں کو استعمال کرتے تھے، اب ان پر ہمہ وقت نگاہ رکھنے کے لیے نگرانی کی ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جا رہا ہے اور سکیورٹی عملے کی تعداد میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ اپنے انٹرویو میں تاہم انہوں نے نگرانی کے لیے استعمال کی جانے والی ٹیکنالوجی کی تفصیلات فراہم نہیں کی۔زیرولی نے ناقدین کے اُن دعووں کو غلط قرار دیا جو انسانی حقوق کے کارکنوں کے بیانات پر مبنی ہیں۔ انہوں نے غیرقانونی تارکین وطن کو روکنے کے اقدامات کو کریک ڈاؤن کہنے سے اتفاق نہیں کیا۔ زیرولی نے اُن الزامات کو غلط کہا جن میں کہا گیا کہ مراکشی بحریہ کی کشتیاں تارکین وطن کی کمزور کشتیوں کو سنبھالنے سے قاصر ہیں۔
تادیبی اقدامات کے باوجود انسانی اسمگلر غیر قانونی تارکین وطن کو اپنی کمزور کشتیوں پر سوار کر کے یورپ کا رخ کرنے سے گریز نہیں کر رہے۔ گزشتہ دنوں میں مراکشی کوسٹ گارڈز نے تین کشتیوں کو اپنے قبضے میں لیا تھا اور ان پر سوار 117 غیر قانونی تارکین وطن کو اپنی تحویل میں لے لیا تھا۔ ان تارکین وطن کا تعلق سب صحارا علاقے سے تھا۔