آبادی میں اضافے کے لیے فرانس کے میئر کی ’ویاگرا‘ بانٹنے کی پیشکش

کم ہوتی آبادی سے پریشان گاؤں مونٹیئرو کے میئر جین ڈیبزی کا کہنا ہے کہ گاؤں کے سکول کو کھلا رکھنے کے لیے مزید بچوں کی ضرورت ہے۔
اس پالیسی کی قانونی حیثیت ابھی صاف نہیں کیونکہ فرانس میں ویاگرا صرف ڈاکٹر کے نسخے پر ہی ملتی ہےاپنے گاؤں کی گرتی ہوئی شرح آبادی سے پریشان فرانس کے ایک میئر نے اس کا ایک انوکھا حل نکالا اور گاؤں کے رہائشیوں میں مفت ویاگرا (جنسی طاقت بڑھانے والی گولیاں) بانٹنے کا فیصلہ کرلیا۔ فرانس کے علاقے لوئرے کے گاؤں مونٹیئرو کے میئر جین ڈیبزی کو یہ امید ہے کہ ان کی یہ پالیسی گاؤں میں ’بے بی بوم‘ کو جنم دے گی جس کے نتیجے میں اتنے بچے پیدا ہو جائیں گے کہ مقامی سکول کو کھلا رکھا جا سکے۔650 افراد کی آبادی پر مشتمل یہ گاؤں پیرس کے جنوب میں واقع ہے۔ کچھ سالوں سے یہاں بچوں کی آبادی میں کمی ہوتی آرہی ہے جس کی وجہ سے یہاں کے سکول کو جاری رہنے کا خطرہ درپیش ہے، جہاں فی الوقت ابھی 30 بچے زیرتعلیم ہیں۔
مقامی نیوز ویب سائٹ سے بات کرتے ہوئے میئر جین ڈیبزی نے کہا: ’بـچوں کے بغیر کوئی بھی گاؤں ختم جاتا ہے۔‘انہوں نے مزید کہا کہ ویاگرا کی گولیاں 18 سے 40 سالہ جوڑوں میں تقسیم کی جائیں گی تاکہ انہیں بچوں کو جنم دینے میں مدد مل سکے اور اس طرح مونٹیئرو اور ایک پڑوسی گاؤں کے سکولوں کو بچایا جا سکے۔جنسی طاقت کو بڑھانے والی ویاگرا گولیاں نہ صرف موجودہ رہائشیوں کو دستیاب ہوں گی بلکہ ان کو بھی جو یہاں آکر رہائش پذیر ہوں گے۔البتہ اس پالیسی کی قانونی حیثیت ابھی واضح نہیں ہے کیونکہ فرانس میں ویاگرا صرف ڈاکٹر کے نسخے پر ہی دستیاب ہوتی ہیں۔میئر جین ڈیبزی نے اعتراف کیا کہ ان کے پاس گولیوں کا کوئی سٹاک جمع نہیں ہے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ ان کی تجویز کا مقصد صرف توجہ حاصل کرنا ہے تاکہ ان کے گاؤں کا سکول کھلا رکھا جاسکے