سماجی تنظیمیں اور ہماری ذمہ داری۔۔محمد امجد چوہدری تھلہ کلاں

مجھے عام دنوں میں گاہے گاہے اور رمضان میں بالخصوص کئی ایسے میسج موصول ہوئے یقینا آپ سب کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوگا کہ جن سے پتہ چلا کہ اللہ کی مخلوق ایک اچھی زندگی تو بہت دور کی بات بنیادی ضروریات بلکہ پیٹ بھر کر تین وقت کا کھاناکھانے سے بھی قاصر ہے۔ایسے میسج دیکھ کراور اپنی آنکھوں سے ایسے حالات دیکھ کر، ایسی خبریں سن کر ، ایسے واقعات سن کر دل خون کے آنسو روتا ہے کہ اے خدایا تو اپنی مخلوق پہ رحم فرما۔
آج ہم دیکھیں تو بیشمار سماجی تنظیمیں خدمت خلق میں جتی ہیں۔ہر گاوں میں تنظیم بلکہ دو دو تین تین، اور شہروں میں بھی لاتعداد تنظیمیں کام کر رہی ہیں۔اور یہ تنظیمیں اپنی فنڈنگ کیلیے سوشل میڈیا، پرنٹ میڈیا، الیکٹرانک میڈیاجن میں بیشمار لوکل ٹی وی چینل شامل ہیں استعمال کررہی ہیں۔اور سچی بات یہ ہے کہ ہم سب بشمول میں اپنی فوٹو ، انٹرویو کیلیے اپنے پڑوس ، گاوں علاقے میں ضرورت مندوں کی مدد کرنے کی بجائے ان کو دینا پسند کرتے ہیں۔کیونکہ وہ اپنے کام کے ماہر ہیں ہماری خوب مشہوری کرتے ہیں جو ہمیں اچھی لگتی ہے۔اور انسانی فطرت بھی ہے۔اور غریب آدمی کے پاس میڈیا نہیں ہے جو ہماری مشہوری کرے ویسے بھی انہیں اپنی عزت نفس بھی بچانا ہوتی ہے۔
بعض تنظیموں کے پاس اضافی بجٹ سالہا سال پڑا رہتا ہے اور وہ اس میں مزید اضافے کیلیے کوشاں رہتی ہیں۔میرا پیغام یہ ہے کہ بعض تنظیمیں تو وہ عظیم کام کررہی ہیں جو دوسری سو تنظیمیں مل کر بھی نہیں کرسکتیں ۔ان کی مدد تو ہرحال میں جاری رکھنی چاہیےلیکن بعض ایسی ہیں جو غریبوں کے منہ سے نوالا چھین رہی ہیں۔تو خدا را سب سے پہلے اپنے رشتہ داروں، گلی محلے، گاوں، علاقے میں مستحق لوگوں کا خیال رکھیں اس کے بعد ۔۔۔مدد کرکے اپنا شوق پورا کریں۔ویسے بھی اول خویش بعد درویش Charity begins at home کا حکم ہے۔کوئی دوست بھائی اس کو منفی انداز میں نہ لے میں نے اپنے دل اور مشاہدے کی بات آپ تک پہنچائی ہے۔