قطر :تارکِ وطن مزدوروں کی نامساعد حالات کی دُہائی،اُجرتوں کی کئی ماہ سے عدم ادائی

قطر میں جنوبی ایشیا بالخصوص نیپال سے تعلق رکھنے والے تارکِ وطن ورکروں کا مسلسل استحصال کیا جارہا ہے،انھیں کئی کئی ماہ سے ان کی اجرتیں ادا نہیں کی جارہی ہیں اور جن کمپنیوں میں وہ کام کرتے ہیں،انھوں نے ان کے پاسپورٹس بھی ضبط کررکھے ہیں۔اس بات کا انکشاف جرمن ٹیلی ویژن چینل ڈبلیو ڈی آر کی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں کیا گیا ہے۔یہ دستاویزی رپورٹ اس چینل کے رپورٹر بنجمن بیسٹ نے تیار کی تھی اور اس کا عنوان: ’’ڈبلیو ڈی آر اسپورٹ ان سائیڈ : ٹریپڈ ان قطر‘‘ تھا۔ یہ اس چینل سے پانچ جون کو نشر کی گئی تھی۔
اس دستاویزی رپورٹ کے مطابق تارکِ وطن ورکروں نے یہ عام شکایت کی ہے کہ وہ جن قطری کمپنیوں کے لیے کام کررہے ہیں ، وہ انھیں ان کی اجرتیں ادا نہیں کررہی ہیں جس کے پیش نظر وہ انتہائی نامساعد حالات میں گزارہ کر رہے ہیں۔ ان کے آجروں نے ان کے پاسپورٹ ضبط کر لیے ہیں تاکہ وہ قطر سے واپس جا سکیں اور نہ کسی اور کمپنی میں کام کرسکیں۔ایک نیپالی ورکر نے بتایا کہ ’’ ہم یہاں قیدی ہیں،ہر روز ہم روٹی کھاتے اور صرف پانی پیتے ہیں۔رقم کے بغیر ہم کچھ بھی خرید نہیں سکتے۔ماہ بہ ماہ ہماری صورت حال بد سے بدتر ہی ہوتی جارہی ہے ۔میں اب یہاں کچھ نہیں کرنا چاہتا اور صرف اپنے گھر (وطن) واپس جانا چاہتا ہوں‘‘۔اس نے بتایا کہ ’’ نومبر2018ء کے بعد سے ہمارا آجر ہمیں مسلسل یہ دلاسے دے رہا ہے کہ ہماری تن خواہیں آنے ہی والی ہیں۔وہ ہمیں مزید صبر سے کام لینے کی تلقین کررہا ہے‘‘۔اس مزدور نے بتایا کہ اس کو گذشتہ آٹھ ماہ سے کوئی تن خواہ نہیں ملی ہے۔
اس ڈاکومینٹری کے مطابق قطر نے اپنے یہاں تارکینِ وطن کے کفالہ نظام میں اصلاحات کا وعدہ کیا تھا اور کہا تھا کہ تارکِ وطن ورکروں کے رہنے سہنے کے معیار اور حالاتِ کار کو بہتر بنایا جائے گا لیکن غیرملکی مزدوروں کے حالات میں کوئی بہتری نظر نہیں آئی ہے بلکہ ان کی صورت حال مزید ابتر ہی ہوئی ہے۔جرمن ٹی وی کے رپورٹر نے خفیہ کیمرے کے ذریعے تارکین ِ وطن کے رہن سہن کی منظر کشی کی ہے۔انھیں تنگ وتاریک کمروں میں گنجائش سے زیادہ تعداد میں ٹھونسا گیا تھا،ان کمروں کی دیواریں گندی تھیں اور فرش پر مردہ کاکروچ پڑے ہوئے تھے۔غسل خانے اور طہارت خانے کھلے میدان میں بنائے گئے ہیں،ان پر چھت بھی نہیں اور انھیں تپتی دھوپ میں ان ہی میں قضائے حاجت کے لیے جانا پڑتا ہے۔
رپورٹر نے جن مزدوروں سے انٹرویو کیے ، انھوں نے بتایا کہ وہ 2022ء میں قطر میں ہونے والےفیفا عالمی کپ فٹ بال ٹورنا منٹ کے لیے اسٹیڈیموں کی تعمیر کے منصوبوں پر کام کر رہے ہیں لیکن انھیں گذشتہ کئی کئی ماہ سے ان کی اجرتوں سے محروم رکھا جارہا ہے۔ ان حالات سے دل برداشتہ ایک مزدور کا کہنا تھا کہ ’’ بعض اوقات تو مجھے یہ خیال آتا ہے کہ اس طرح کی زندگی جینے سے تو مرجانا بہتر ہے‘‘۔اس نے اپیل کی کہ ’’ہمیں ان حالات سے نکالا جائے‘‘۔اس نے مزید بتایا کہ اس کو اپنے خاندان کی فکر لاحق ہے کیونکہ اس نے گذشتہ آٹھ ماہ سے ایک پائی بھی انھیں نیپال نہیں بھیجی ہے۔وہ خود واپس نیپال نہیں جاسکتا ہے کیونکہ اس کے آجر نے اس کا پاسپورٹ ضبط کررکھا ہے۔اس کی نیپال میں مقیم بیوی کا انٹرویو بھی اس رپورٹ میں شامل تھا۔اس نے بتایا کہ وہ بہت ہی کٹھن حالات میں رہ رہی ہے اور اپنے بچوں کی اسکول کی فیس بھی ادا نہیں کرسکتی ہے۔اس نے بتایا کہ ہم جس طرح کے حالات سے دوچار ہیں ،وہ میں بیان نہیں کرسکتی۔
واضح رہے کہ قطر 2022ء میں ہونے والے عالمی کپ کی تیاریوں کے ضمن میں مزدوروں کے حقوق کی پامالی پر مختلف الزامات کی زد میں ہے۔اس پر پہلے بھی نیپال سے تعلق رکھنے والے مزدوروں سے جبری مشقت لینے کے الزامات عاید کیے جا چکے ہیں اور گذشتہ برسوں کے دوران میں ان میں سے بہت سے مزدور شدید درجہ حرارت میں کام کے دوران دم توڑ گئے تھے جبکہ انھیں کام کے مقابلے میں معاوضہ بھی کم دیا جا رہا ہے۔ اس ڈاکومینٹری کے مطابق قطر میں 2009ء کے بعد اس طرح کے کٹھن حالات میں کام کرتے ہوئے 1426 نیپالی ورکر موت کے مُنھ میں جاچکے ہیں