کینیڈا کے صوبے کیوبک میں مذہبی علامات پر پابندی کا بل منظور

شمالی امریکی کینیڈا کے آبادی کے لحاظ سے دوسرے بڑے اور سیکولر ترین صوبے کا دعویٰ کرنے والے صوبے کیوبک کی اسمبلی نے مذہبی علامات پر پابندی کا بل منظور کرلیا۔سرکاری افسران کو کام کے دوران مذہب کو ظاہر کرنے والے لباس اور دیگر مذہبی علامتی چیزوں کے استعمال سے روکنے کے حوالے سے یہ بل کافی عرصے سے زیر بحث تھا۔ابتدائی طور پر کیوبک صوبے نے 2017 میں بھی سرکاری افسران پر چہرہ ڈھانپنے پر پابندی عائد کی تھی اور اس کے بعد مذہبی علامات پر پابندی پر قانون سازی چل رہی تھی۔ترکی کے خبر رساں ادارے ’انا دولو‘ کے مطابق مذہبی علامات پر پابندی کے بل 21 کو سیکولر صوبے کی اسمبلی نے اکثریت سے پاس کیا۔
بل کے تحت کوئی بھی سرکاری افسر ڈیوٹی کے دوران چہرہ ڈھانپنے سمیت کسی بھی مذہب کو ظاہر کرنے والی علامات ظاہر نہیں کر سکتا۔نئے بل کے تحت سرکاری ٹرانسپورٹ کے ملازمین بھی مذہبی علامات کو استعمال نہ کرنے کے پابند ہوں گے۔
بل میں ’نظم و ضبط کے اقدامات‘ کی شق شامل کرتے ہوئے تمام سرکاری ملازمین کو اس بات کا پابند کیا گیا ہے کہ وہ مذہبی علامات کا استعمال نہ کریں۔مذہبی علامات پر پابندی کے اس نئے قانون سے سب سے زیادہ مسلمان اور خاص طور پر مسلمان خواتین متاثر ہوں گی اور بل پر کینیڈا کی کئی مسلمان تنظیموں نے خدشات کا اظہار بھی کیا ہے۔مسلمان تنظیموں کے مطابق مسلم خواتین کو نظم و ضبط کے اقدامات کے تحت پردہ کرنے سے روکا جاتا ہے اور پردہ کرنے والی خواتین کو سیکیورٹی کے نام پر روک جاتا ہے۔
کیوبک صوبے کے اس بل پر خود وہاں کی اپوزیشن جماعتوں نے بھی مخالفت کی ہے اور کہا ہے کہ بل کے اصل مسودے میں یہ بات شامل نہیں تھی کہ نظم و ضبط کی خلاف ورزی کرنے والے سرکاری ملازمین کو گرفتار کیا جائے گا۔مسلمان تنظیموں نے بل 21 کی منظوری کو مسلمانوں کے خلاف سازش قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس بل کا مقصد مسلمانوں اور خصوصی طور پر خواتین کو ٹارگٹ کرنا ہے۔صوبے کیوبک کی جانب سے اس طرح کے بل پاس کرنے پر کینیڈا کے وزیر اعطم جسٹن ٹروڈو بھی ماضی میں خدشات کا اظہار کر چکے ہیں۔جسٹن ٹروڈو نے ماضی میں کہا تھا کہ صوبے کیوبک کی حکومت کا کام یہ نہیں ہے کہ وہ لوگوں کو بتائے کہ انہیں کس طرح کا لباس پہنا ہے اور کون سا لباس نہیں پہننا؟
صوبے کیوبک کی اسمبلی کی جانب سے مذہبی علامات کے استعمال پر پابندی کے بل سمیت امیگریشن بل بھی منظور کیا ہے جس پر بھی لوگوں نے خدشات کا اظہار کیا ہے۔نئے امیگریشن بل کے تحت صنر ہند منر غیر ملکی افراد کو ہی صوبے میں ملازمتیں دی جائیں گی اور انہیں ورک ویزا جاری کرنے سے قبل فیرینچ زبان کے ٹیسٹ سمیت دیگر ٹیسٹ پاس کرنا ہوں گے۔اس وقت صوبے کیوبک کو 18 ہزار غیر ملکی افراد نے ملازمت کی درخواستیں دے رکھی ہیں اور نئے بل منظور ہونے کے بعد کم سے کم 5 ہزار درخواستیں خارج ہوجائیں گی۔