پاکستانی آم اور ان کی اقسام

پاکستان متعدد پھلوں خصوصاً آم کی پیداوار کے حوالے سے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ پاکستان میں آم کو مٹھاس اور بہترین ذائقے کے سبب پھلوں کا بادشاہ کہا جاتا ہے۔ پاکستانی آم کے بارے میں دنیا بھر کے زرعی سائنس دانوں کی متفقہ رائے ہے کہ اس سے زیادہ میٹھا اور خوش ذائقہ آم کرہ ارض پر کہیں اور پیدا نہیں ہوتا ہے۔ دنیا کے دیگر ممالک میں پیدا ہونیوالی آموں کی اقسام کے مقابلے میں پاکستانی آم اپنے ذائقے، تاثیر، رنگ اور صحت بخش خوبیوں کے لحاظ سے سب سے منفرد ہیں۔ آم کے پھل کا شمار پاکستان میں پیداوار کے لحاظ سے دیگر پھلوں کی نسبت دوسرے نمبر پر کیا جاتا ہے۔ پاکستان سالانہ تقریباً 18 لاکھ ٹن آم کی پیداوار حاصل کرتا ہے۔ اگرچہ پاکستان کے چاروں صوبوں میں آم کی پیداوار ہوتی ہے، مگر قومی پیداوار کا بڑا حصہ پنجاب اور سندھ سے حاصل ہوتا ہے۔ملک میں آموں کی دو سو سے زائد اقسام ہیں مگر ان میں سے بیس اقسام کے آم کو تجارتی بنیاد پر کاشت کیا جاتا ہے اور انہیں برآمد کر کے زرمبادلہ کمایا جاتا ہے۔ آموں کی مشہور اقسام میں سندھڑی، نیلم، چونسا، انور رٹول، دوسہری، بیگن پھلی، انفانسو، گلاب خاصہ، زعفران، لنگڑا، سرولی، اور دیسی آم شامل ہیں۔پاکستان کے علاوہ آم کی کاشت انڈونیشیا، تھائی لینڈ، سویڈن، ڈنمارک، فلپائن، ملائیشیا، سری لنکا، مصر، امریکہ، اسرائیل، فلوریڈا، برازیل اور ویسٹ انڈیز میں کی جاتی ہے۔
پاکستان میں سال 2002 تا 2012ء کے دوران آم کی مجموعی پیداوار بالترتیب دس لاکھ چونتیس ہزار ٹن، دس لاکھ پچپن ہزار ٹن، سولہ لاکھ تہتر ہزار ٹن، سترہ لاکھ تریپن ہزار ٹن، سترہ لاکھ انیس ہزار ٹن، سترہ لاکھ ٹن، اٹھارہ لاکھ دس ہزار ٹن، اٹھارہ لاکھ ٹن اور دس لاکھ ٹن تھی جبکہ میڈیا اطلاعات کے مطابق رواں سال موسم میں ناخوشگواری کے باعث آم کی پیداوار میں ۰۳ فیصد کمی کا سامنا ہے۔ پاکستان سے ساٹھ فیصد آم دبئی برآمد کیا جاتا ہے اور دیگر ممالک میں سعودی عرب کے علاوھ کویت، مسقط، بحرین، برطانیہ، فرانس، جرمنی، نوروے، ہولینڈ، بیلجیئم، سنگا پور، ملائیشیا اور ہونگ کونگ شامل ہیں۔
ماہرین کے مطابق گزشتہ گیارہ برسوں میں آم کے قابل کاشت رقبہ میں صرف دو فیصد اضافہ ہوا جبکہ پرانے کاشتہ باغات میں کمی آئی ہے۔ 1990ء میں آم کی پیدوار تیرہ لاکھ گیارہ ہزار آٹھ سو بیاسی میٹرک ٹن تھی اور آج بھی پیداور وہی ہے۔ ملک بھر میں آم ایک سو چھپن ہزار ایکڑ رقبے پر کاشت کئے جاتے ہیں، لیکن اکثر علاقوں میں آم کے درختوں کی درست طریقے سے نگہداشت نہ ہونے کے علاوہ کھاد اور اسپرے کے بروقت استعمال میں کوتاہی کے باعث عام کی پیداوار متاثر ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ درختوں سے پھل اتارنے کے بعد ہونے والے نقصانات پر قابو پانے کے ناکافی اقدامات، پکنے سے پہلے ہی پھلوں کا اتار لینا، اسٹوریج تک معیاری ترسیل کیلئے سہولیات کا فقدان اور پھل ذخیرہ کرنے کی غیرمناسب سہولیات ایسے عوامل ہیں جو اندرون ملک اور برآمدی منڈیوں میں آم کی زیادہ سے زیادہ فروخت میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔
آم کی فصل تیار ہونے کے بعد کاشتکار کو آم خراب ہونے کے باعث 30 سے 40 فیصد تک نقصانات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس سے آم کی پیداوار متاثر ہوتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ باغباں آم کو پکنے کے بعد جدید مشینری کے بجائے ہاتھوں سے اتارتے ہیں جس سے آم کو نقصان پہنچتا ہے اور پیداوار میں کمی ہوتی ہے۔ آم کا بہترین حالت میں رہنے کا عرصہ بہت کم ہوتا ہے جبکہ آم کی فصل کی تیاری کے موسم میں درجہ حرارت 50 ڈگری تک پہنچ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ پھلوں کی حفاظت کے لیے سرد خانوں کا معقول انتظام نہ ہونا آم کی پیداوار میں غیر تسلی بخش اضافے کی ایک بڑی وجہ ہے۔ کسانوں نے حکومت کے عدم تعاون پر آموں کی کاشتکاری کم کر دی ہے۔ ساتھ ساتھ ایئر لائن اور شپنگ کمپنیز کی جانب سے فریٹ چارجز میں مسلسل اضافے کے باعث ایکسپورٹرزکی دلچسپی میں بھی کمی ہوتی جارہی ہے۔ اگر حکومت آم کی کاشت پر توجہ دے تو عام کی پیداوار کو دگنا کیا جاسکتا ہے۔پاکستان میں آم کی پیداوار کو بہتر بنانے کے لئے امریکی ادارے برائے عالمی ترقی یو ایس ایڈ کے تعاون سے صوبہ سندھ اور بلوچستان میں آموں کی پیداوار بڑھانے کے لئے مینگو پروگرام پر کام کیا جا رہا ہے۔ امریکی حکومت اپنے بین الاقوامی ترقیاتی ادارے کے توسط سے سال دو ہزار نو سے پاکستان میں اس منصوبے پر کام کر رہی ہے۔ یو ایس ایڈ کی اعانت سے صوبہ سندھ کے حیدر فارمز پر بہتر زراعتی طریقوں پر عمل پیرا ہوکر ’سپلائی چین ‘ قائم کی گئی ہے۔
یو ایس ایڈ ذرائع کے مطابق اِس وقت ادارہ پنجاب اور سندھ میں آموں کے ۵۱ سے زائد باغات میں پروسیسنگ کے آلات نصب کرنے میں مدد کر رہا ہے جِس کی وجہ سے آموں کو بین الاقوامی منڈیوں بشمول مشرقِ وسطیٰ، جنوبی ایشیا اور یورپ میں برآمد کرنے میں مدد ملے گی۔ یو ایس ایڈ اب تک 3000 سے زائد کسانوں کو آموں کی پروسیسنگ اور ان کی ذخیرہ کرنے کی مدت بڑھانے کے حوالے سے تربیت فراہم کر چکا ہے۔ یہ اعانت ۰۲ لاکھ پاکستانیوں کے لیے براہِ راست فائدے مند ثابت ہوگی، بیشمار کاروباروں کی آمدن میں اضافہ کرے گی، ملازمت کے مواقع پیدا کرے گی اور پاکستان بھر میں، بالخصوص جنوبی پنجاب اور شمالی سندھ میں معیشت کو فروغ دے گی۔پاکستان میں مختلف اقسام کے آم پائے جاتے ہیں جو اپنے ذائقے کی بدولت دنیا بھر میں مقبول ہیں۔ دسہری، چونسا، سندھڑی، فجری، دیسی اور الماس مارکیٹوں میں آنے کو ہیں۔ پاکستان میں پھلوں کے بادشاہ آم کی مختلف اقسام پائی جاتی ہیں۔پہلا نمبر آتا ہے “دُسہری” لمبوتر، چِھلکا خوبانی کی رنگت جیسا باریک اور گودے کے ساتھ چِمٹا ہوتا ہے۔ گودا گہرا زرد، نرم، ذائقےدار اور شیریں ہوتا ہے۔جب کہ “سِندھڑی” کا سائز بڑا، چِھلکا زرد، چکنا باریک گودے کیساتھ ہوتا ہے، گودا شیریں، رس دار اور گُٹھلی لمبی اور موٹی ہوتی ہے۔
دوسری جانب “چونسے” کا ذائقہ تو اپنی مثال آپ ہے یہ آم کی لاجواب قسم ہے جو دنیا بھر میں شہرت رکھتی ہے چونسا کا چھلکا درمیانی موٹائی والا مُلائم اور رنگت پیلی ہوتی ہے۔ اس کا گودا گہرا زرد، نہایت خوشبو دار اور شیریں ہوتا ہے۔ اِس کی گُٹھلی پتلی لمبوتری، سائز بڑا اور ریشہ کم ہوتا ہے۔سب سے مقبول “انور رٹول” کا سائز درمیانہ ہوتا ہے۔ چِھلکا چِکنا اور سبزی مائل زرد ہوتا ہے، گودا بے ریشہ، ٹھوس، سُرخی مائل زرد، نہایت شیریں، خوشبودار اور رَس درمیانہ ہوتا ہے۔ اور یہ “لنگڑا” نہ جانے کیوں اسے لنگڑا آم کہہ کر پکارا جاتا ہے۔ لنگڑا مختلف سائز کا ہوتا ہے، اس کا چِھلکا چِکنا، بے حد پتلا اور نفیس گودے کے ساتھ چِمٹا ہوتا ہے، گودا سُرخی مائل زرد، مُلائم، شیریں، رَس دار ہوتا ہے۔،
اور یہ ہیں جی “الماس” جس کی شکل گول ہوتی ہے اور سائز درمیانہ، چِھلکا زردی مائل سُرخ، گودا خوبانی کے رنگ جیسا مُلائم، شیریں اور ریشہ برائے نام ہوتا ہے، گولا شکل و صورت میں بھی گول ہوتا ہے۔ سائز درمیانہ، چِھلکا گہرا نارنجی اور پتلا ہوتا ہے۔ گودا پیلا ہلکا ریشے دار اور رسیلا ہوتا ہے۔مالدا سائز میں بہت بڑا ہوتا ہے، مگر گُٹھلی انتہائی چھوٹی ہوتی ہے۔ سہارنی سائز میں درمیانہ اور ذائقہ قدرے میٹھا ہوتا ہے