عازمینِ حج کی سہولت کے لیے اسمارٹ سسٹمز سے ای -ٹریکنگ تک اعلیٰ ٹیکنالوجی کا استعمال

سعودی عرب کی وزارتِ حج اور عمرہ اس مرتبہ حج کے موقع پر جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی کو بھرپورانداز میں بروئے کار لا رہی ہے اور دنیا بھر سے آنے والے عازمینِ حج کی حجازِ مقدس میں آمد سے لے کر واپس روانگی تک مختلف اسمارٹ سسٹمز کا اطلاق ونفاذ کیا جارہا ہے تاکہ ضیوف الرحمٰن با سہولت مناسکِ حج ادا کرسکیں۔سعودی وزارت ِحج نے بیرون ملک سے آنے والے عازمین کے لیے ایک مربوط ای ٹریک برقی نظام متعارف کرایا ہے۔اس کا رہائش ، ٹرانسپورٹ اور دیکھ بھال کے لیے ٹھیکوں تک سب پر اطلاق ہوگا ۔حجاج کرام کی سعودی عرب سے واپسی تک اس کو استعمال کیا جائے گا۔
وزارت کا کہنا ہے کہ اس سے تمام معاملات میں شفافیت کو یقینی بنایا جاسکے گا کیونکہ اس کے ذریعے تمام متعلقہ فریقوں کی نگرانی کی جائے گی۔ ای ٹریک برقی نظام کےتحت سعودی عرب میں مقیم افراد کو مختلف ایجنسیوں اور کمپنیوں کی جانب سے مہیا کردہ خدمات کی بھی نگرانی کی جاسکے گی اور ملکی عازمین کے لیے خدمات کواس نظام سے مربوط بنایا جاسکے گا۔اس نظام کے تحت درخواست گزاروں کو مناسب حج پیکج کے انتخاب میں مددملے گی اور وہ مختلف خدمات مہیا کرنے والے اداروں اور کمپنیوں کے ساتھ ای( برقی)- روابط استوار کرسکیں گے۔عازمینِ حج کے حقوق کے تحفظ کی غرض سے ٹھیکوں کی رقوم کی ادائی کے لیے ایک برقی نظام میں سہولت مہیا کردی گئی ہے اور ای-پورٹل کے ذریعے حج پرمٹوں کے لیے درخواستوں کو وزارتِ داخلہ کے برقی نظام میں منتقل کیا جا سکتا ہے۔
وزارتِ حج وعمرہ ان تمام خدمات کی براہ راست خود نگرانی کررہی ہے۔بالخصوص بڑے گروپوں کے معاملات وہ خود نمٹا رہی ہے کیونکہ یہ تمام امور حج کے اتنے بڑے اجتماع کو منظم کرنے ، سنبھالنے اور اس کا انتظام کرنے میں بڑی اہمیت کے حامل ہیں۔خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے 29 مئی کو ’’ضیوف الرحمٰن‘‘ ( اللہ کےمہمانوں) کے لیے خدمات پروگرام کا افتتاح کیا تھا۔یہ پروگرام سعودی عرب کے ویژن 2030ء کا حصہ ہے۔یہ 130 سے زیادہ اقدامات پر مشتمل ہے اور اس تمام پروگرام کو سعودی عرب کے 30 سے زیادہ سرکاری اداروں نے تیار کیا ہے۔ضیوف الرحمٰن پروگرام کے تین تزویری مقاصد ہوں گے : اوّل ، الحرمین الشریفین تک زیادہ سے زیادہ عازمین کی رسائی اور انھیں میزبانی میں سہولت بہم پہنچانا۔دوم، عازمینِ حج اور عمرہ کو اعلیٰ معیار کی خدمات مہیا کرنا اور ان کے مذہبی اور ثقافتی تجربات کو بھرپور بنانا۔
سعودی عرب کی وزارت ِحج اور عمرہ نے اس سال کے اوائل میں عازمین کے لیے برقی ویزوں کے اجرا کا اعلان کیا تھا۔اس کے تحت وہ آن لائن درخواست دے سکتے اور چند منٹوں میں اپنے ویزے وصول کرسکتے ہیں۔سعودی عرب کے حج اور عمرہ کے لیے برقی پلیٹ فارم کے نگرانِ اعلیٰ عبدالرحمٰن شمس نے مارچ میں ایم بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا تھا کہ اس پورٹل سے غیر سعودیوں کو مختلف خدمات کے پیکجز کے آن لائن انتخاب میں مدد ملے گی اور وہ ویزوں کے حصول کے لیے آن لائن درخواستیں دے سکیں گے۔انھوں نے بتایا تھا کہ ’’اس وقت سعودی عرب سے باہر سے تعلق رکھنے والے عازمین اپنے اپنے ملک میں حج اور عمرے کی خدمات مہیا کرنے والی کمپنیوں اور ایجنٹوں سے مربوط ہیں۔اب ان ممالک میں حج اور عمرے کے لیے عازمین کو سہولتیں مہیا کرنے کی غرض سے ان کمپنیوں کو برقی ویزے جاری کیے جاسکیں گے۔
سعودی عرب میں حج 1440ھ کے آغاز سے قبل عمرے کے لیے بڑی تعداد میں عازمین کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔وزارت کے مطابق 23 مئی 2019ء تک عمرے کے 74 لاکھ ،63 ہزار 259 ویزے جاری کیے گئے تھے اور ان میں 69 لاکھ 64 ہزار 943 عازمین سعودی عرب پہنچ چکے تھے۔ ان میں لاکھوں عمرہ ادا کرنے کے بعد اپنے اپنے ممالک کو لوٹ چکے تھے اور لاکھوں کی تعداد میں عمرے کے مناسک کی ادائی میں مصروف ہیں