ڈاکٹرقمرفاروق کی کتاب’’من کہی‘‘ سید قاسم علی شاہ

اس کائنات کا نظام توازن اور اعتدال پر قائم ہے یہی کائنات کا حسن ہے جب انسانوں نے مہذب معاشرے تشکیل دئیے تو یہاں بسنے والوں نے مغربی معاشرے کی پیروی کرتے ہوئے کامیاب ہونے اور پیسہ کمانے کی دوڑ میں اپنی ذمہ داریوں کو پس پشت ڈالا توہمارا معاشرہ بھی مغربی معاشرے کی طرح معاشرتی ناہمواریوں کا شکار ہو گیا-ہر زمانہ میں معاشرتی ناہمواریو ں ،اخلاقی بگاڑ ،معاشرتی رویوں اور رسوم واعمال کی اصلاح لکھنے اور بولنے یعنی اساتذہ و مصنفین کا بنیادی مقصد رہا ہے اسی مقصد کا حصہ بنے ڈاکٹر قمرفاروق اب تک دس سے زائد تصانیف لکھ چکے ہیں ان تصانیف میں سے “من کہی” ایک خوبصورت مجموعہ ہےجس کے ہر جملے میں سو رنگ پنہاں ہیں -جو ہر زمانے میں چراغ راہ کا کام دیں گے-
ڈاکٹر قمرفاروق صاحب کو اپنی بات اختصار سے بیان کرنے کا فن اللہ تعالی کی طرف سے عطا اور فضل کی شکل میں ملا ہے-آپ مختصر جملوں میں بڑی بات کہہ جاتے ہیں میں ان کے کئی جملوں سے بہت متاثر ہوا ہوں علمی خیالات کو منظم شکل دے کر نہایت اختصار سے بیان کرنے کی روایت کا آغاز حضرت علی ابن ابی طالب کرم اللہ وجہہ کے ارشادات پر مبنی کتاب نہج البلاغہ سے ہوا-جو خلیل جبران سے ہوتی ہوئی حضرت واصف علی واصف تک اور بالآخر ڈاکٹر قمرفاروق کے جملوں تک آ پہنچی جس میں لفظ لفظ قابل داد ،بعض جملے لاجواب اور بعض داد سے بالاتر ہیں ،ڈاکٹر صاحب کے جملوں کا اصلاحی رنگ بہت نمایاں ہے ان کے الفاظ تا دیر قائم رہنے والے نقوش ذہن پر چھوڑ جاتے ہیں دنیا میں بہت کم لوگ اپنی بات کو اختصار سے بیان کرنے کا فن جانتے ہیں لوگوں کی اکثریت بات سمجھانے اور لکھنے کے لئے وضاحتی بیان کا استعمال کرتی ہے حتی کہ طویل وضاحت کے بعد بھی اپنا مدعا بیان نہیں کر پاتے-
ڈاکٹر صاحب نے اپنی کتاب میں فکر واحساس کے رشتہ پر مبنی بہت خوبصورت موضوعات کا انتخاب کیا ہے جن میں رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم ،محبت رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم،دوستی ،انسانیت،زندگی کامیابی اور ناکامی کے ساتھ الغرض زندگی کے ہر پہلو کا احاطہ کئے ہوئے ہیں- فکر اور دانش پر مبنی تمام موضوعات بہت خوبصورت انداز میں تحریر کئے گئے ہیں اس لحاظ سے آپ کے تخیل کی بلند پروازی اور فکر ونظر کی وسعت قابل رشک ہے-
ڈاکٹر صاحب کے مشاہدے ومطالعے کی وسعت اور گہرائی کے ساتھ ان کے الفاظ میں احساس درد مندی کا بھی اندازہ ہوتا ہے-آپ پاکستان سے محبت کرنے والے انسان ہیں-فی الحال بارسلونا اسپین میں مقیم ہیں لیکن ان کی شخصیت حب الوطنی ،ادب نوازی،انسان دوستی سادگی اورتصوف کا فیضان نظر ہے کہ ان کا قلم فکری رسائی میں ڈوبا نظر آتا ہےانسان کی عظمت کا احساس اور قدروں کا پاس ان کے الفاظ سے جھلکتا ہے-آپ عام لوگوں کی رفاقت کو اپنی خوشبختی سے تعبیر کرتے ہیں -ڈاکٹر صاحب کی کتاب لکھنے بولنے سمجھنے اور فکر کرنے والے لوگوں کے لئے بہت بڑا سرمایہ ہے میں دعا گو ہوں اللہ ڈاکٹر صاحب کو شاد آباد رکھے اور آپ اسی طرح معاشرتی مسائل کے حل میں اپنا کردار ادا کرتے رہیں