برطانیہ کا پاکستان کو دی گئی 350 ارب روپے کی امداد کی تحقیقات کا اعلان

لاہور (آصف محمود) برطانیہ نےپاکستان کو گزشتہ سالوں میں دی جانے والی 350ارب روپے کی امداد کی تحقیقات کا اعلان کر دیا ہے۔ تحقیقات کااعلان باقاعدہ طور پر برطانوی پارلیمنٹ کی ویب سائٹ پر بھی شائع کردیا گیاہے یہ امداد برطانوی ادارے ڈیفڈ کے ذریعے پاکستان کو دی گئی تھی۔برطانوی پارلیمنٹ کی انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ کمیٹی نے اعلان کیا ہے کہ وہ جاننا چاہتے ہیں کہ پاکستان کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لئے 2013 سے اب تک برطانوی امداد سے کیا پراگریس ہوئی۔ برطانوی پارلیمنٹ کی کمیٹی کے مطابق یہ تحقیقات بھی کی جائیں گی کہ پاکستان میں صحت، تعلیم، معاشی ترقی، سکیورٹی استحکام اور موسمیاتی تبدیلی کے لئے اس امداد کو کس طرح استعمال کیا گیا۔ کمیٹی اس بات کا بھی جائزہ لے گی کہ پاکستان نے غربت پر توجہ اور صنفی مساوات سمیت دیگر وعدوں پر کس طرح اور کس حد تک عملدرآمد کیا۔ کمیٹی کے اعلان کے مطابق سی ایس ایس ایف (Stability And Security Fund)، رول آف لاء، پاکستان میں انٹرنیشنل سٹینڈرڈ کے مطابق سویلین اداروں کی دہشت گردوں کی
پراسیکیوشن کے لئے استعداد بڑھانے کے لئے دی گئی کروڑوں روپے کی امداد اور اس کے تصرف کی بھی تحقیقات ہوں گی۔ کمیٹی برطانوی حکومت کی پارٹنر این جی اوز، پرائیویٹ کنٹریکٹرز اور ملٹی لیٹرل ایجنسیوں کی طرف سے کئے گئے کاموں کی بھی تحقیقات کرے گی۔ یہ بھی دیکھا جائے گا کہ پاکستان کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لئے برطانوی امداد کے تحت ملنے والے پراجیکٹس اور پروگرامز کس حد تک سودمند ثابت ہوئے۔ برطانوی پارلیمنٹ کی انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ کی سلیکٹ کمیٹی کے چیئرمین سٹیون ٹوئگ نے بتایا کہ پاکستان کو دنیا میں سب سے زیادہ امداد برطانیہ دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود پاکستان میں غربت کی شرح حد درجے تک بڑھ چکی ہے۔ زچگی کے دوران بچوں کے مرنے کی تعداد بھی بڑھی ہے جبکہ بچوں کی ایک بڑی تعداد تعلیم حاصل نہیں کر رہی۔ پاکستان مہاجرین کو پناہ دینے والا دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے اور دنیا کے پہلے 10ملکوں میں شمار ہوتا ہے جہاں موسمیاتی تبدیلی کے بڑے خطرات موجود ہیں۔