حضرت بلال حبشی کا کردار ادا کرنے والے لیبی فن کار کی وفات کی افواہیں غلط نکلیں

لیبیا کے ایک مشہور فن کار اور فلم ‘دی میسج’ میں مؤذن رسول حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ کا کردار ادا کرنے والے اداکار علی احمد سالم نے اپنی وفات سے متعلق تمام افواہیں رد کر دی ہیں۔سنہ 2016ء کے بعد علی احمد سالم کی وفات کی متعدد بار افواہیں گردش کرتی رہی ہیں۔ دو ہفتے قبل بھی بعض اخبارات اور سوشل میڈیا پر علی سالم کی وفات کی افواہیں شائع کی گئیں۔
علی سالم نے العربیہ ڈاٹ‌ نیٹ سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ وہ چھ سال سے بن غازی میں مقیم ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مجھے ملازمت سے ریٹائر کر دیا گیا تھا جس کے بعد میں‌ نے ایک نجی تنظیم کے ساتھ کام شروع کیا اور آج کل عربی زبان کی فصاحت کے فروغ کے لیے ایک پروگرام میں کام کر رہا ہوں۔خیال رہے کہ علی احمد سالم کو سنہ 1976ء میں تیار ہونےوالی فلم’دی میسج’ میں اس وقت شہرت حاصل ہوئی جب انہوں‌ نے فلم میں موذن رسول حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ کا کردار ادا کیا۔ یہ فلم دو زبانوں میں تیار کی گئی۔ انگریزی میں اس کے ہیرو انتونی کوین اور عربی ورژن میں عبداللہ غیث ہیرو تھے۔
اپنی وفات سے متعلق افواہوں‌ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ‘موت سے کسی کو فرار نہیں۔ وہ اپنے وقت مقررہ پر آ کر رہے گی مگر میں فی الحال بہ قید حیات ہوں۔ میری موت کی افواہیں پھیلانے والوں کی ہدایت اور اصلاح کے لیے دعا گو ہوں’۔علی احمد سالم مصر کے شہر اسکندریہ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد لیبی اور والدہ مصری تھیں۔ 16 سال کی عمر میں وہ مصر سے لیبیا چلے گئے اور وہیں مستقل سکونت اختیار کرلی تھی