یسین ملک، شبیر شاہ، مسرت عام ، آسیہ اندرانی علی گیلانی اور دیگر رہنماوں کو آزاد کیاجائے،راجہ فاروق حیدر کا بارسلونا میں ریلی سے خطاب

بارسلونا(دوست نیوز)13 جولائی 1931ء ہم ہر سال یوم شہدا کشمیر کے طور پر مناتے ہیں اس دن سرینگر سنٹرل جیل کے احاطے میں عبدالقدیر نامی شخص کے مقدمے کی سماعت کے موقع پر ڈوگرہ فوج نے 22 بے گناہ مسلمانوں کو شہید کر دیا تھا۔ 8 جولائی 2016ء حزب المجاہدین کے خوبصورت نوجوان کمانڈر برہان مظفر وانی کو وادی کشمیر میں ہندوستانی فوج نے شہید کر دیا ۔
ان شہدا کی یاد میں دنیا بھر میں کشمیری وپاکستانی ریلیوں کا انعقاد کرتے ہیں۔بارسلونا میں ندائے کشمیر ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام بڑی ریلی نکالی گئی جس کی قیادت وزیراعظم آزاد جموں وکشمیر راجہ فاروق حیدر نے کی۔ ان کے علاوہ یورپ سے دیگر کشمیری رہنماوں نے بھی شرکت کی اور ریلی سے خطاب کیا۔
ریلی بارسلونا کے دل رامبلہ راوال سے شروع ہوئی اور اپنے مقررہ راستوں سے ہوتی ہوئی بلدیہ ہاوس کے سامنے اختتام پذیر ہوئی ،ریلی میں پاکستانی وکشمیری نوجوانوں ،بزرگوں، بچوں اور خواتین کی بڑی تعداد نے شرکت کر کے اپنے مظلوم کشمیری بہن بھائیوں کی آواز کو امن کے ٹھیکیداروں اور منصفو کوسنائی ۔ تمام راستہ ریلی کے شرکائ جارحانہ انداز میں کشمیر بنے گا پاکستان، ہمیں کیا چاہیئے، آزادی آزادی، بھارتی فوج ظلم وستم بند کرے کے نعرے بلند ہوتے رہے اور بارسلونا کی فضا مظلوم کشمیریوں کے حق گونجتی رہی۔اور مطالبہ کرتی رہی کہ انسانیت کا راگ آلاپنے والوں سنو ایک بستی کشمیر بھی ہے یہاں پر بھی انسان بستے ہیں لیکن ان کے ساتھ انسانوں والا سلوک نہیں کیا جاتا ۔ان کی آزادی کو سلب کیا گیا ہے۔ راستہ بھر سیاح اور مقامی لوگ ریلی کے متعلق معلومات لیتے رہے۔
راجہ فاروق حیدر نے ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا تہاڑ جیل گوونتانامو جیل ہے ریاست جموں کشمیر کے باشندوں کو غیر ملک ہندوستان میں لے جاکر تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ یسین ملک کو جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے،اس کے جسم کی ہڈیا ں ٹوٹی ہوئی ہیں۔شبیر شاہ ،مسرت عالم کو گرفتار کیا ہوا، ہماری بہن آسیہ اندرابی کو گرفتار کیا ہوا ہے،ہم آج بارسلونا سےانصاف کے ایوانوں اور سیکورٹی کونسل سے مطالبہ کرتے ہیں کہ یسین ملک اور دیگر کشمیری رہنماوں کو رہا کیا جائے ۔ان کی جان خطرے میں ہے،یسین ملک بیمار آدمی ہے اس کے ساتھ ظلم کیا گیا ہے۔ای یو کی ذمہ داری ہے کہ وہ بھارت کی جانب سے بنائے ہوئے لوہے کے جال کو توڑے اور انسانوں کی آواز کو باہر آنے دے۔اور یورپ خود جا کر دیکھے کہ کشمیر کے اندر کیا حال ہے۔واحد تحریک کشمیر ہے جسے باہر کی دنیا سے کوئی مدد نہیں مل رہی کشمیری اپنے طور پر لڑ رہے ہیں۔روزانہ مائیں اپنے جگر گوشے قربان کر رہی ہیں وہاں سے کسی ظلم کی دہائی باہر سنائی نہیں دے رہی۔برہان وانی کی شہادت کے بعد تحریک دوبارہ ابھری ہے۔اور ایک نئے رنگ کے ساتھ سامنے آئی ہے۔ کئی برہان وانی پیدا ہو گئے ہیں۔اور ہوتے رہیں گے
ندائے کشمیر ایسوسی ایشن کے صدر راجہ مختار احمد سونی اور دیگرمقررین نے کہا کہ کشمیری مظلوم و محکوم مسلمان اپنی آزادی کی جدوجہد میں قربانیاں دے رہے ہیں۔ طرح طرح کے ظلم و ستم بھارتی افواج کے برداشت کرتے ہوئے آزادی کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ سرینگر کے چوکوں میں پاکستان کا سبز ہلالی پرچم اٹھائے ہمارے بھائی اپنے سینوں پر گولیاں کھا رہے ہیں۔ روزانہ سبز ہلالی پرچم میں لپیٹ کر نوجوان شہداء کو دفنایا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ اور پوری دنیا تماشہ دیکھ رہی ہے۔