اسکیرا ریپبلیکانا کی ممبر پارلیمنٹ ماریہ دانتاس سے ملاقات،ملک عمران خان

ماریہ دانتاس (María Dantas )اسپین ،خاص طور پر کاتالونیا کی سب سے بڑی جماعت اسکیرا ریپبلیکانا کی طرف سے عوام کے طرف سے منتخب قومی اسمبلی( کانگرس ) کی ممبر ہیں، پاکستان میں ایسے ممبر کو ایم این اے (MNA) کہا جاتا ہے ۔ اور ان کے ساتھ ، شہزاد اکبر وڑائچ، جو کے حالیہ انتخابات میں اسکیرا ریپبلیکانا، اسی جماعت سے بلدیہ کے کونسلر کے امیدوار تھے ۔اور ماریہ دانتاس سے ملاقات بھی شہزاد اکبر وڑائچ کے ذریعے طے پائی ۔میرا اور شہزاد اکبر وڑائچ اور ماریہ دانتاس کا ٹائم پورے تین بجے بنا ہوا تھا ،شہزاد اکبر پہلے پہنچ گئے ،اور ساتھ میری آمد بھی ہو گئی ۔ہم دونوں ماریہ دانتاس کا انتظار کرنے لگے ۔یعنی ایم این اے، کانگرس کی موجودہ ممبر ،ماریہ دانتاس جیسے ہمارے پاس پہنچی ،اس کا سانس پھولا ہوا تھا ۔ اور سوری سوری کر رہی تھی ،میں پانچ منٹ لیٹ ہو گئی ۔وجہ ٹرین بنی پھر آگے سے لوکل بس ۔یہ کیا ایم این اے ؟ لوکل ٹرین ،لوکل بس پر سفر ،نہ کوئی بڑی بڑی گاڑیاں، نہ گن مین ،نہ نوکر ،نہ چاکر ،نہ کوئی ڈر، نہ کوئی خطرہ ،نہ کوئی پروٹوکول۔
کسی بھی ملک کی ترقی کا پہلا راز اور سبق 1 ۔۔۔سیاست دان مخلص اور ایماندار اور ملک اور عوام کے لیے ،ایم این اے بننے بعد سوچتا ہے ۔
سبق نمبر ۔2 مجھ سے اسکیرا ریپبلیکانا والوں نے خود رابط کیا ،اور کیا آپ کو تارکین وطن کے مسائل پتہ ہیں، ہمیں تھوڑا سا ٹائم چاہئے ۔
میں نے آئیں ،بائیں شائیں کی تو ،اسکیرا ریپبلیکانا والوں نے کہا ہم خود آپ کے پاس آتے ہیں ۔اور میرے پاس خود چل کر آئے، اس کو کہتے اصل میں عوامی لیڈر ۔
آب آتے اصل بات کی طرف ،مقصد کسی پارٹی یا شخص کی انفرادی تعریف کرنا حاصل نہیں،لیکن طریقہ کار واضع کرنا ،یورپ میں عوامی لیڈر کام کیسے کرتے ہیں ۔ماریہ دانتاس کا پاک ائی کیر پیڈ آفس آنے کے پیچھے، صرف ایک ہی مقصد تھا ،کانگرس میں تارکین وطن کو پیش آنے والے مسائل کو کانگرس میں کیسے پیش کیا جائے اور ان کے حل کے لیے موثر اقدامات کیے جائے ۔تو آئیے بات کرتے ہیں ہم نے کانگرس میں کون کون سے مسائل اٹھانے کی بات کی۔
1۔آرائیگو سوسیال بہت بڑا مسلہ ،سب سے پہلے میں نے تجویز دی ،کنڑیکت کو ختم کیا جائے ،آرائیگو سوسیال والوں کو بغیر کنٹریکٹ کے سفید ریذیڈینسی جاری کی جائے ،جس کا دورانیہ ایک سال ہو ،اور اس دوران سائل کو کسی بھی جگہ ،کام ڈھونڈنے کی اجازت دی ،جیسے ہی کام ملے ،وہ کمپنی گورنمنٹ سے اس بندے کو کنڑیکت سائن کرنے کی ریکوسیٹ بھیجے، اور اس کی ریذیڈینسی کام والی میں تبدیل کر دی جائے ۔
2۔فیملی بلانے کے لیے مکان کی انفورمے کا ایک سال کا ٹائم ختم کیا جائے ۔
3۔جن لوگوں نے زبان اور کلچر کے امتحانات پاس کیے ہیں۔ان کی نیشنیلٹی کا دورانیہ ،دس سے پانچ سال کیا جائے ۔
4۔سیتا ( Appointment ) کا ہنگامی بنیادوں پر کوئی نہ کوئی حل نکالا جائے ۔
5۔پاکستان سے فیملی منگوانے کے لیے ،ایک سال کا دورانیہ کم کر کے 2 سے 3 مہینے کیا جائے ۔۔۔ جس طرح باقی ممالک میں ہو رہا ہے ۔
6۔سوشل مکانات کی تعداد میں آضافہ کیا جائے اور مستحق فیملیوں کو سستے داموں مکان کرائے پے دیئے جائے۔ ۔تاکہ اوور بوکنگ سے بچا جاسکے ۔
7۔مجبور اور بڑی فیملیوں کے مزید سوشل امداد کا اعلان کیا جانا چاہئے ۔
8۔ اسپانش، غیر ملکی نثراد لوگوں کو اپنا نکاح رجسڑر کروانے میں جو تاخیر کی جاری اس کے اوپر ایکشن لیا جائے ،
9۔اسپین ایمبسی سے رابطے میں مشکل طریقے کو آسان بنایا جائے ۔اور وہاں پر پھنسے کیسز کو جلد نبٹایا جائے ۔
10۔بادالونا رجسڑر سول ،کا لوگوں سے متعصبانہ راویئے کے خلاف ایکشن لیا جائے ۔
11۔پاکستان زیادہ ،یا کسی ملک میں زیادہ ٹائم رہنے کی وجہ سے ،ریجیکٹ پیپرز پر ،نظر ثانی کی جائے ،اور ان کو دوبارہ ،وہی پیپر دے کر ،ان کی پریشانی دور کی جائے ۔
12۔پولیس کی طرف بےجا تنگ کرنا ،اور پیپر چیک کرنے کے بہانے لوگوں کی تضحیک کرنا ختم کیا جائے ۔
یہ تھی وہ چند باتیں جو ہم نے مل کر ڈسکس کی ۔امید ہے ،کہ آئیندہ بھی آپ کے مسائل مختلف حیلوں بہانوں سے ،مختلف باب اختیار تک پہنچاتے رہیں گے۔ہماری یہ نشست بڑی کامیاب رہی اور آئندہ بھی ،امیگریشن کے مطلق اس طرح کی نشستیں جاری رہیں گی۔ماریہ دانتاس نے تمام تارکین وطن پیش مشکلات کو کانگرس میں اٹھانے کا وعدہ کیا ،پاک ائی کیر کے دروازے ،کسی بھی پارٹی، سیاسی رہنما اور سوشل ورکر کےلئےکھلے ہیں ۔جو عوامی مسائل کو ہمارے ساتھ مل کر حل کرنے کا جذبہ رکھتا ہو۔۔۔۔۔