منی لانڈرنگ کی سزائوں میں اضافہ، 16 لاکھ سے زائد ملکی یا غیرملکی کرنسی منتقلی پر پابندی

اسلام آباد (نمائندہ دوست) پاکستان میں اندرون ملک 10ہزار ڈالر (16لاکھ گیارہ ہزار ) سے زائد کی نقل و حمل یا منتقلی کیلئے اسٹیٹ بنک سے اجازت لینا ہوگی، قائمہ کمیٹی خزانہ نےاینٹی منی لانڈرنگ (ترمیمی بل) 2019اور فارن ایکسچینج ریگولیشن (ترمیمی) بل 2019کی متفقہ منظوری دیدی۔قائمہ کمیٹی کا اجلاس چیئرمین کمیٹی اسد عمر کی زیر صدارت ہوا۔ منی لانڈرنگ کی سزائیں اور جرمانے بڑھا دئیے گئے ، ملزمان کو دس سال تک کی سزا ، 50 لاکھ روپے جرمانہ اور جائیداد ضبطی کی سفارشات منظور کرلی گئیں ، ملزمان کا ریمانڈ 90 روز سے بڑھا کر 180 روز کرنے کی تجویز بھی منظور تاہم حکومت نے منی لانڈرنگ کے الزام پربلاوارنٹ گرفتاری کی تجویزواپس لے لی ، کمیٹی نے اینٹی منی لانڈرنگ بل میں ایف آئی اے کی جانب سےگرفتار ی کو عدالت کے وارنٹ سے مشروط کرنے کی بھی سفارش کی ہے، کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں اسٹیٹ بنک سے گزشتہ دس برس کے دوران بیرون ملک رقومات کی منتقلی کی اجازت لینے والے درخواست گزاروں کی تفصلات بھی طلب کر لی اور یہ بھی ہدایت کی مسترد ہونیوالی اور منظور کی جانیوالی درخواست گزاروں کی بھی تفصیلات فراہم کی جائے۔قائمہ کمیٹی نے فارن ایکسچینج ریگولیشنز بل2019 کی منظوری دیدی جسکے تحت غیر ملکی کرنسی کی نقل و حمل کو کنٹرول کیا جائیگا، اندرون ملک دس ہزار ڈالر تک مالیت کی غیرملکی کرنسی اپنے پاس رکھنے اورنقل وحمل کی اجازت ہوگی جبکہ اس سے غیرملکی کرنسی رکھنے یااس کی نقل وحمل کیلئے اسٹیٹ بینک کی اجازت لینا ہوگی۔ اجلاس کے دوران کمیٹی ارکان نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی سفارشات پر تحفظات کا اظہار کیا۔ رکن کمیٹی عائشہ غوث پاشا نے کہا ایف اے ٹی ایف کو ڈھال بنا کر پاکستان میں اوورکلنگ کی جارہی ہے، دنیا بھر میں یہ کہاں ہوتا ہے کہ غیرملکی کرنسی ایک سے دوسرے ملک لے جانے پر پابندی ہو جس پرچیئرمین کمیٹی اسد عمر نے کہا فنانشل ایکشن ٹاسک فورس پاکستان کے ساتھ امتیازی سلوک کررہی ہے۔ اسد عمر نے حکام کو مخاطب کرکے کہا اینٹی منی لانڈرنگ بل آج منظور ہوچکا ہے اب کل سے منی لانڈرنگ کو ختم کردیں۔ فارن ایکسچینج ریگولیشن ترمیمی بل 2019 پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا اندرون ملک دس ہزار ڈالر سے زائد(یا اس کرنسی کے مساوی مقامی کرنسی ) کی نقل و حمل یا منتقلی پر اسٹیٹ بینک سے اجازت لینا ہوگی۔ڈی جی ایف آئی اے نے کمیٹی کو بتایا اوور انوائسنگ اور انڈر انوائسنگ کی مد میں منی لانڈنگ ہوتی ہے ،کچھ لوگ ایک لاکھ میں سے 40 ہزار بینک کے ذریعے اور 60 ہزار ہنڈی سے بھجواتےتھے۔