بورس جانسن کی غیرقانونی تارکین وطن کیلئے ایمنسٹی اسکیم کے مثبت اثرات ہوںگے، بیرسٹر گل نواز

لندن (سعید نیازی) برطانیہ کے معروف قانون دان بیرسٹر گل نواز خان نے کہا ہے کہ وزیراعظم بورس جانسن کی غیر قانونی تارکین وطن کے لئے ایمنسٹی کی اسکیم کی تجویز کے انتہائی مثبت اثرات ظاہر ہوں گے اور اس سے برطانوی معیشت کو فائدہ پہنچے گا، بیرسٹر گل نواز خان نے کہا کہ بورس جانسن نے وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالنے سے قبل سابق وزیراعظم تھریسامے کو یہ تجویز پیش کی تھی کہ جو لوگ طویل عرصہ سے برطانیہ میں مقیم ہیں اور کسی جرم میں بھی ملوث نہیں تو ان کے بارے میں غور کیا جائے کہ انہیں برطانیہ میں قیام کے لئے قانونی طور پر اجازت دی جائے۔ غور اس بات پر ہو رہا ہے کہ انہیں کام کرنے کی اجازت دی جائے، وہ اپنے آبائی ممالک آ جاسکیں اور وہ حکومت پر بوجھ بھی نہ بنیں، اس وقت اس تجویز پر غور نہیں کیا گیا تھا لیکن ابھی حال ہی میں اپنی ایک تقریب میں انہوں نے اس طرف اشارہ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایسی کوئی اسکیم آئی تو اس سے5لاکھ سے زائد افراد کو فائدہ پہنچے گا جس میں ایک بڑی تعداد پاکستانیوں کی بھی ہوگی۔ اگر اسکیم آئی تو جن باتوں کا خاص خیال رکھا جائے گا ان میں یہ نکات شامل ہوں گے کہ۔ اسکیم کے لئے رجوع کرنے والا شخص کتنے عرصہ سے برطانیہ میں مقیم ہے، وہ کسی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث تو نہیں اور اس کا خاندان بھی یہیں مقیم ہے، ان تمام باتوں کا خیال رکھا جائے گا، یہ اسکیم صرف ان افراد کے لئے ہوگی جو کہ غیر قانونی طور پر مقیم ہیں انہوں نے کہا کہ اگر یہ اسکیم آئی تو یہ بات انتہائی اہم ہوگی کہ اسکیم سے فائدہ اٹھانے کے خواہشمند افراد ایجنٹس کے چکروں میں پھنسنے کے بجائے کسی پروفیشنل سولیسٹر سے رابطہ کریں، اس سلسلے میں ایڈیشن افیئر خان سولیسٹرز کی ویب سائٹ پر اس حوالے سے تفصیلات بھی مہیا کر دی گئی ہیں، جسے اب تک ہزاروں افراد پڑھ چکے ہیں۔ بیرسٹر گل نواز نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ وہ ذاتی طور پر بھی ایمنسٹی اسکیم کے حق میں ہیں، وزیراعظم بورس جانسن نے نہایت مناسبب وقت پر اس اسکیم کے حوالے سے بات کی ہے، بعض افراد10سے15برس سے غیر قانونی طور پر یہاں مقیم ہیں، کوئی ان کا پرسان حال نہیں، ان کا رابطہ اپنے ممالک سے بھی کٹ چکا ہے، اگر وہ یہاں پر کام کرتے ہیں تو انہیں پکڑے جانے کا بھی خوف رہتا ہے اور لوگ ان کے استحصال بھی کرتے ہیں اگر انہیں برطانیہ میں قیام کی قانونی طور پر اجازت مل جاتی ہے تو اس سے نہ صرف انہیں بلکہ اس سے برطانیہ کی معیشت کو بھی فائدہ پہنچنے گا، بہت سے افراد ایسے بھی ہیں جو کہ انتہائی ہنرمند ہیں لیکن مجبوری کے سبب وہ اپنے ہنر کا استعمال نہیں کرسکتے، اس وقت ’’ان سکلڈ جاب‘‘ کرنے کے لئے لوگ دستیاب نہیں ہوتے، ایمنسٹی اسکیم سے ایسی مسائل حل ہوں گے، اس کے علاوہ برطانیہ میں بریگزٹ بھی ہونے والا ہے جس سے متعدد یورپی باشندے اپنے ممالک کو لوٹ جائیں گے، ایسی صورت میں ورک فورس کے حوالے سے پیدا ہونے والا خلاء غیر قانونی تارکین وطن بآسانی پُر کرلیں گے۔ انہوں نے کہا کہ غیر قانونی طور پر مقیم افراد ذہنی اذیت میں بھی مبتلا نظر آتے ہیں، اس لئے حکومت کو اس اسکیم کے حوالے سے ہمدردانہ غور کرنا چاہئے