بھارتی دہشتگردی،جنگی جنون کیخلاف پرویز اقبال لوسرکا اقوام متحدہ کو خط

برسلز: بھارت کی جانب سے سرحدی دہشت گردی اور مقبوضہ کشمیر میں جاری مظالم کے خلاف چیئرمین ای یو پاک فرینڈشپ فیڈریشن(یورپ) چوہدری پرویز اقبال لوسر نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گٹریس اور یورپی یونین کو خط بھجوا دیا۔انہوں نے اپنے خط میں مطالبہ کیا ہے کہ اقوام متحدہ اور یورپی یونین لائن آف کنٹرول پر سول آبادیوں کو کلسٹر بموں سے نشانہ بنانے اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی اور بدترین مظالم کا فوری نوٹس لیں۔خط میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں جاری مظالم اپنی تمام حدیں پار کر چکے ہیں، بھارتی فوج نے ایل او سی کے قریب سول آبادیوں پر کلسٹر بموں سے حملہ کیا جو کہ جنیوا کنونشن، انسانی حقوق سے متعلق بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے خلاف ہے۔
چوہدری پرویز اقبال لوسر کا کہنا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی افواج نے ظلم و بربریت کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ جنگی جنون میں مبتلا بھارت سرحد کے اطراف موجود کشمیریوں کو مہلک ہتھیاروں سے نشانہ بنا رہا ہے۔ سول آبادیوں کو کلسٹر بموں سے نشانہ بنانا بدترین دہشت گردی ہے۔ بھارت علاقائی امن کو تباہ اور خطے کو خطرناک جنگ میں دھکیل رہا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں اپنی فوج میں مسلسل اضافہ کر رہا جس کا مقصد نہتے کشمیریوں کو فوجی طاقت کے ذریعے دبا کر اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنا ہے۔چیئرمین ای یو پاک فرینڈشپ فیڈریشن نے مطالبہ کیا ہے کہ اقوام متحدہ اور یورپی یونین مقبوضہ کشمیر اور لائن آف کنٹرول پر بھارت کے مظالم کا فوری طور پر نوٹس لے۔ بین الاقوامی برادری کو آگے بڑھ کر بھارت کا ہاتھ روکنا اور مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کیلئے بھارت پر دباؤ ڈالنا ہوگا۔
چوہدری پرویز اقبال لوسر نے خط میں واضح کیا ہے پاکستان نے ہمیشہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کی بات کی۔ وزیراعظم خان نے اپنے حالیہ دورہ امریکا کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو تنازعہ کشمیر کے حل کیلئے ثالثی کا کہا۔ان کا کہنا ہے کہ دونوں ایٹمی طاقتوں کے درمیان مسئلہ کشمیر اور پھر بھارت کی آئے روز کی اشتعال انگیزیوں نے خطے کے امن کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ چیئرمین ای یو پاک فرینڈشپ فیڈریشن نے امید ظاہر کی ہے کہ اقوام متحدہ اور پورپی یونین معصوم اور نہتے شہریوں پر کلسٹر بموں کے حملے کا نوٹس لیں گے۔