سعودیہ کی تاریخ میں پہلی بار مسلسل 3 روز 3 خطبے دیے جائیں گے

فرش سے عرش تک لبیک اللھم لبیک کی صدائیں بلند ہونے لگیں۔ پچیس لاکھ سے زائد عازمین منیٰ کی خیمہ بستی میں جمع ہونا شروع ہوگئے۔ حج کا رکن اعظم وقوف عرفا ہفتے کو ادا کیا جائے گا۔
اے اللہ ہم حاضر ہیں۔۔
مناسک حج کا آغاز ہوگیا ہے، عازمین حج مکہ سے منی روانہ ہو رہے ہیں، جہاں دنیا کی سب سے بڑی خیمہ بستی ٓاباد ہوگئی۔ عازمین آج رات بھر منیٰ میں عبادت میں مصروف رہیں گے۔منیٰ میں رات قیام اور نماز فجر کی ادائیگی کے بعد عازمین حج کے رکن اعظم وقوف عرفہ کے لیے روانہ ہوں گے۔ 9 ذی الحج کو اہم ترین رکن کی ادائیگی کے بعد حجاج سورج غروب ہوتے ہی مزدلفہ روانہ ہو جائیں گے۔مزدلفہ پہنچ کر مغرب اور عشا کی نماز ساتھ ملا کر قصر ادا کریں گے، وہاں رات قیام کے دوران رمی اور جمرات کے لیے کنکریاں چنیں گے۔ حجاج کرام نماز فجر کی ادائیگی اور طلوع آفتاب کے بعد واپس منیٰ روانہ ہوں گے۔ سب سے بڑے شیطان کو کنکریاں ماری جائیں گی۔رمی کے بعد حجاج کرام جانوروں کی قربانی کریں گے اور سر منڈوا کر احرام کھول دیں گے۔ مکہ مکرمہ جا کر مسجد الحرام میں طواف زیارت کریں گے اور پھر منی واپس روانہ ہو جائیں گے۔
سعودی حکام کی ہدایت کے مطابق منیٰ میں اژدھام سے بچنے اور حجاج کرام کے تحفظ کے لیے انہیں قبل از وقت ہی ان کی جائے قیام عمارتوں سے بسوں کے ذریعے منیٰ کی جانب روانہ کیا جارہا ہے۔اس سال دنیا بھر سے تقریباً 20 لاکھ عازمین حج سعودی عرب پہنچ چکے ہیں۔ واضح رہے کہ سعودی عرب کی تاریخ میں پہلی بار مسلسل تین روز 3 خطبے دیے جائیں گے، پہلا خطبہ ٓاج نماز جمعہ کے موقع پر، دوسرا خطبہ کل حج کے موقع پر اور تیسرا خطبہ اتوار کو نماز عید الاضحیٰ کے موقع پر ہوگا