قیام پاکستان کے عینی شاہدین، چند سال کے مہمان.. اویس حفیظ

میرا تعلق اس نسل سے نہیں جو موبائل اور ٹیبلٹ پر گیم کھیل کر جوان ہورہی ہے، جس کے نزدیک گلی محلے میں کھیلنا کوئی انہونی بات ہو، جو اپنے آس پڑوس سے اتنی ہی باخبر ہو جتنی سات سمندر پار ملک سے، جو پاس کے لوگوں سے دور اور دور کے لوگوں کے پاس ہو، جس کےلئے سب سے بڑی ایکسائٹڈ خبر کسی نئے موبائل فون کا لانچ ہونا ہو، جو راستے یاد رکھنے کےلئے حافظے کے بجائے گوگل میپ پر بھروسہ کرے یا جو بڑے بزرگوں کو دیکھ کر کنی کترا کر نکل جائے۔ بلکہ میں اُن ’’پرانے‘‘ لوگوں میں سے ہوں، جو بڑے بزرگوں کی کہانیاں سن کر جوان ہوئے، جن کا بچپن اپنے بزرگوں کے سایۂ شفقت میں گزرا، جنہیں ہر رات کوئی نہ کوئی کہانی سن کر نیند آتی تھی۔
البتہ میرے ساتھ یہ تخصیصی معاملہ رہا ہے کہ میں نے دیومالائی، جنوں، پریوں کی کہانیاں نہیں سنیں بلکہ بچپن میں مجھے میری دادو (دادی) جان مجھے اپنے دور کے واقعات سنایا کرتی تھیں۔ میرے سامنے ایک زندہ تاریخ موجود تھی اور میں بڑے اشتیاق سے سوال پر سوال کیا کرتا تھا۔ کبھی میرے سوالوں میں حیرانی ہوتی، کبھی خوف اور کبھی تجسس۔ مثلاً دادو جان نے مجھے بتایا کہ کیسے 1940 کو منٹو پارک میں ہونے والے تاریخی جلسے میں وہ شریک ہوئیں۔ کیسے ایک بار انہیں قائداعظم سے ہاتھ ملانے کا موقع ملا۔ پھر یہ کہ 1947 میں تین چھوٹے بچوں کے ساتھ بمبے (ممبئی) سے لاہور ہجرت کے دوران کن کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ کیسے وہ سکھوں کے آنے پر سکھ اور ہندوؤں کے آنے پر ہندو روپ دھارتی تھیں۔ آگ و خون کے دریائوں کو عبور کرکے جب وہ لاہور پہنچیں تو ان کے آنسوؤں کی جھڑی نے کس طرح سجدۂ شکر ادا کیا۔ یہ محض چند سال کا ساتھ تھا، پھر دادو جان نہ رہیں مگر ان کی باتیں آج بھی ذہن پر نقش ہیں۔
اس کے بعد مجھے کچھ اور بزرگ ملے، جو گاہے بگاہے ہجرت سے متعلق اپنی یادداشتیں چھیڑا کرتے تھے۔ ایک صاحب نے بتایا کہ وہ لاہور کے ریلوے اسٹیشن پر ڈیوٹی دیتے تھے اور 1947 میں انہوں نے کئی ٹرینیں ایسی دیکھیں جو انسانوں کو لے کر چلتی تھیں اور لاشیں لے کر لاہور میں داخل ہوتی تھیں۔ یہاں پر ان کا اور ان کے ساتھیوں کا کام لاشوں کو نکالنے کے بعد نئے جذبے کے ساتھ دوبارہ ٹرین روانہ کرنا رہ گیا تھا۔
مجھے ایک وہ بابا جی بھی ملے جن کے بقول مشرقی پنجاب سے مغربی پنجاب کے سفر کے دوران انہوں نے لڑکیوں کی لاشوں سے بھرے ہوئے کنویں دیکھے تھے۔ میں ان لوگوں سے بھی ملا ہوں جو اپنے لڑکپن میں وارفتگی کے عالم میں متحدہ ہندوستان کی گلیوں میں ’’پاکستان کا مطلب کیا… لا الہ الا اللہ‘‘ کے نعرے لگایا کرتے تھے۔ جو قائداعظم کی ایک جھلک دیکھنے کےلئے میلوں کا سفر کیا کرتے تھے۔ جن کا سب کچھ بھارت میں رہ گیا مگر ان کے لبوں پر ایک حرفِ شکوہ بھی نہ ابھرا۔ جن کا سب کچھ ایک ’’نیا مگر اپنا‘‘ ملک بنانے کی خاطر تباہ ہوگیا، مگر وہ مطمئن تھے کہ اب وہ یہاں چین سے رہ تو سکیں گے۔ مگر آج اس نسل کے لوگ ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتے۔
اگرچہ ہمارے اردگرد کوئی ایک آدھ، عمر کے آخری حصے میں موجود بیمار، اپنی آخری سانسیں گنتا ایسا شخص موجود بھی ہوگا، مگر اب یہ نسل خاموشی اور کنارہ کشی کو ترجیح دیتی ہے۔ وگرنہ شاید وہ باہر نکل کر درفنطنیاں چھوڑنے والے اِن مٹھی بھر دانشوروں کو جواب دینے کی کوشش ضرور کرتے جو آج نظریۂ پاکستان اور مقصد پاکستان کے ساتھ کھلواڑ کرتے ہیں۔ جو کبھی پاکستان کے قیام کو دوسری جنگِ عظیم کا کارنامہ قرار دیتے ہیں اور کبھی قراردادِ پاکستان کو سرکارِ برطانیہ کا طے شدہ مسودہ۔
میں اس شخص کی آنکھوں سے جاری ہونے والی برسات کبھی نہیں بھول سکتا جب میں نے اسے کہا کہ پاکستان بنانے کا ایک مقصد تو معاشی آزادی بھی تھا کہ متحدہ ہندوستان میں مسلمان کبھی بھی اقتصادی خودمختاری حاصل نہیں کرسکتے تھے۔ تو روتے ہوئے اس نے مجھ سے کہا کہ ’’آج تم نے میرے والدیں کی شہادت کو ہی حرام کردیا ہے، خدا کی قسم! انہوں نے اس مقصد کےلئے اپنی جانیں نہیں گنوائی تھیں‘‘۔
11اگست کی تقریر سے لے کر غیر مسلموں کا پہلی کابینہ میں شامل کیا جانا، سب قبول۔ مگر کبھی پاکستان اور قیامِ پاکستان کے حوالے سے ابہام پھیلانے والے دانشوروں سے یہ بھی پوچھا جانا چاہئے کہ اس ملک کے بنانے میں انہوں نے کس چیز کی قربانی دی تھی؟ کس کس کے بزرگ ہجرت کرکے آئے تھے؟ کس کس کے خاندان والوں کو راستے میں شہید کیا گیا اور کس نے کتنی صعوبتیں جھیلیں؟ مجھے صد فیصد یقین ہے کہ ان لوگوں کے پاس ان سوالوں کا کوئی جواب نہیں ہوگا، کیونکہ اس ملک کی حقیقی قدر انہی لوگوں کو ہے جنہوں نے اس مٹی، اس دھرتی کےلئے اپنا لہو بہایا ہے۔ جنہوں نے اپنے خون سے اس سرزمین کی آبیاری کی ہے۔ جو ایک مقصد کے تحت اس ملک کے قیام کی جدوجہد کرتے تھے، جن کے نزدیک آج بھی یہ ملک ان کے بزرگوں کی امانت ہے۔
مگر پھر میں سوچتا ہوں کہ اور چند سال کی بات ہے کہ جب ہم میں اُس نسل کا کوئی ایک شخص بھی باقی نہیں رہے گا، جس نے خود ہجرت کی ہو، جس نے اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے رشتے داروں کو کٹتے دیکھا ہو، جس کی کمر اجتماعی قبریں کھود کھود کر جھک گئی ہو، جس نے لاشوں کے انبار میں سے اپنے عزیز و اقارب کو کپڑے دیکھ کر پہچانا ہو، جس کا سب کچھ بھارت میں رہ گیا ہو اور اسے پاکستان آکر نئے سرے سے زندگی کا آغاز کرنا پڑا ہو، جو قائداعظم کی ایک پکار پر اپنا سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر پاکستان کی طرف چل پڑا ہو۔
جب اس نسل کا کوئی شخص باقی نہیں رہے گا تو پھر ان لوگوں کو روکنے، ٹوکنے، ان کی تصحیح کرنے اور انہیں جواب دینے والا بھی کوئی باقی نہیں رہے گا کہ وہ پاکستان کے قیام کا سبب دوسری جنگ عظیم کو قرار دیں یا پھر تاجِ برطانیہ کا کوئی نیا منصوبہ۔ پھر کوئی انہیں یہ کہہ کر ٹوکنے والا بھی نہیں ہوگا کہ میرے بزرگوں کی شہادت کو گالی مت دو، ان کے عظیم مقاصد کے ساتھ کھلواڑ مت کرو۔ کیونکہ ان کے پاس کھلواڑ کرنے کو پوری تاریخ ہوگی۔ اب تو بس اور چند سال کی بات ہے، پھر کوئی یہ کہنے والا باقی نہیں بچے گا کہ ’’میں نے… ہاں، میں نے خود اپنی آنکھوں سے پاکستان بنتے دیکھا تھا‘‘