پاکستانیوں کے بیرونِ ملک 200 ارب ڈالر کی موجودگی کا دعویٰ غلط ثابت

200 ارب ڈالر کے اعدادوشمار پی ٹی آئی کا دیا ہوا نہیں بلکہ سابق وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے قومی اسمبلی میں بیان کیا تھا۔اسد عمر
اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے ایک دوسرے کی اعلیٰ سیاسی قیادت پر اثر و رسوخ کی وجہ سے شوگر ملز مالکان کو قیمتوں کے طریقہ کار میں تحفظ دینے اور اس حوالے سے جوڑ توڑ کرنے کا مورد الزام ٹھہرایا۔اس کے ساتھ پاکستانیوں کے بیرونِ ملک چھپائے گئے 200 ارب ڈالر کی انتہائی سطح سے کم ہو کر 5 سے 7 ارب ڈالر ہوچکی ہے۔ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں ان دونوں جماعتوں کے اراکین کے مابین گرما گرمی دیکھنے میں آئی، اجلاس کی صدارت سابق وزیر خزانہ اسد عمر نے کی۔
اس موقع پر فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے چیئرمین شبر زیدی اور انٹرنیشنل ٹیکسز کے سربراہ اشفاق احمد نے بتایا کہ پاکستان کو آرگنائزیشن برائے اقتصادی تعاون اور ترقی (او ای سی ڈی) کے سمجھوتے کے تحت41 ممالک سے پاکستانیوں کے بیرونِ ملک موجود اثاثوں کی تفصیلات موصول ہوچکی ہیں۔چیئرمین ایف بی آر نے بتایا کہ حکومت 31 دسمبر تک اس قسم کا ڈیٹا 80 ممالک کے ساتھ شیئر کرسکے گی، ان کے مطابق بیرونِ ملک اثاثوں کے حامل 378 پاکستانی ایسے ہیں جن کے غیر ملکی اثاثوں کی مالیت 5 ارب ڈالر یا مجموعی دولت کا تقریباً 78 فیصد ہے جو تقریباً 7 ارب ڈالر ہوگی۔جس پر اسد عمر نے ان افراد کے خلاف کارروائی کے حوالے سے پوچھا تو شبر زیدی نے بتایا کہ 378 میں سے 115 افراد نے گزشتہ برس جبکہ 72 افراد نے رواں برس ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ اٹھایا، مزید 19 کیسز ایک ارب 64 کروڑ کے ٹیکس مطالبے کے جواب میں 80 کروڑ 88 لاکھ کی ادائیگی پر ختم کردیے گئے۔
ان تفصیلات پر پی پی پی رہنما نفیسہ شاہ نے کہا کہ اگر بیرونِ ملک اثاثے صرف 5 سے 70 ارب ڈالر مالیت کے ہیں تو پی ٹی آئی کی جانب سے 200 ارب ڈالر کا کیا جانے والا دعویٰ غلط ہوگیا۔جس پر کمیٹی سربراہ اسد عمر نے بتایا کہ 200 ارب ڈالر کے اعدادوشمار پی ٹی آئی کا دیا ہوا نہیں بلکہ سابق وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے قومی اسمبلی میں بیان کیا تھا۔اجلاس کے دوران پی پی پی رکنِ اسمبلی نفیسہ شاہ اور اسد عمر کے مابین شوگر ملز مالکان کے معاملے پر تکرار بھی ہوئی جس میں دونوں اراکین ایک دوسری کی پارٹیز کو شوگر ملز مالکان سے تعلق ہونے کے حوالے طنز کرتے رہے۔اس موقع پر پاکستان کے مسابقتی کمیشن (سی سی پی) نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ ایک سال کے عرصے میں ایک کلو چینی کی قیمت میں 15 روپے یا 26 فیصد کا اضافہ ہوچکا ہے۔