مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم،بارسلونا میں پاکستانی، کشمیری اور سکھ کمیونٹی کابڑا احتجاجی مظاہرہ

بارسلونا(دوست نیوز)مودی حکومت کی جانب سےآرٹیکل 370 اور 35 کو منسوخ کرکے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کردیا گیا ہے اور مقبوضہ کشمیرمیں بھارت کے غاصبانہ اقدامات اور کشمیریوں پرمظالم کیخلاف بارسلونا کے دل کاتالونیا اسکوائر پر اسپین میں مقیم پاکستانی، کشمیری اور سکھ کمیونٹی کاایک بہت بڑا احتجاجی مظاہرہ ہوا۔جس میں بچوں، خواتین سمیت بڑی تعداد نے شرکت کی۔بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیرکی خصوصی حیثیت ختم کیے جانے اور نہتے کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کیخلاف دنیا بھر میں بسنے والی پاکستانی اورکشمیری برادری سراپا احتجاج ہے۔ پاکستانی کمیونٹی کے علاوہ سکھ برادری نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا،
شرکاء نے بھارت کی ہٹ دھرمی اور ناانصافیوں کیخلاف بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔ فضاء کشمیر بنے گا پاکستان۔ ہم لے کے رہیں گے آزادی اور انڈیا ٹیرریسٹ ،پاک فوج زندہ باد کے نعروں سے گونجتی رہی۔سکھ برادری سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ بھارت میں انصاف نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔تمام مذاہب کے ماننے والوں کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ ان کی زندگیاں بھی محفوظ نہیں ہیں۔ اقلیتیں غیر محفوظ ہیں، سکھ برادری اپنا ملک خالصتان چاہتے ہیں تا کہ بے وطنی کا احساس ختم ہو سکے۔
احتجاجی مظاہرہ میں شریک ایک پاکستانی خاتون نے میں کشمیر ہوں میں کشمیر ہوں ترنم سے گایا تو سناٹا چھا گیا۔ شرکاء نے مظاہرہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ ، عالمی عدالت انصاف اور سیکیورٹی کونسل کو مسئلہ کشمیر ہنگامی بنیادوں پر حل کروانے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیئے۔اسپین حکومت سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ وہ بھارت پر دباو ڈالے کہ مسئلہ کشمیر کو حل کیا جائے ۔اگر یہ مسئلہ حل کی جانب نہیں بڑھتا تو دنیا بھر میں اس مسئلہ کی حدت محسوس کی جائے گی۔ مقررین نے مطالبہ کیا کہ وادی میں جاری کرفیو کو ختم کرنے اور ذرائع ابلاغ کی سہولتوں کو فوری طور پر بحال کیاجائے تاکہ عالمی دنیا اصل صورتحال کا اندازہ لگا سکے۔
مودی سرکار نے گذشتہ ہفتہ آرٹیکل 370 اور 35 کو منسوخ کر کے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی گئی تھی، جس کے بعد مقبوضہ جموں و کشمیر کو بھارتی یونین کے زیر انتظام علاقہ قرار دیا گیا تھا۔ تاہم کشمیریوں نے اس غاصبانہ اقدام کو یکسر مسترد کردیا، جس کے بعد سے کریک ڈاؤن جاری ہے، وادی میں کرفیو نافذ کر کے سابق وزرائے اعلیٰ محبوبہ مفتی، سید علی گیلانی سمیت سینکڑوں حریت رہنماؤں اور کارکنوں گرفتار یا نظر بند کردیا گیا ہے۔
احتجاجی مظاہرہ کے آرگنائزر ناصر شہزاد ،محمد شفیق تبسم ،چوہدری طاہر فاروق وڑائچ اور دیگر نے کشمیری رہنماوں کو آزاد کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔