میں آج سے دنیا میں پاکستان کا سفیر ہوں، وزیراعظم عمران خان

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پہلے دنیا کو علم نہیں تھا کشمیر میں کیا ہو رہا ہے لیکن اب میں دنیا میں کشمیر کی آواز اٹھانے ولا سفیر بنوں گا۔آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم پاکستان عمران خان نے کہا کشمیر کی پارلیمان میں اعلان کرتا ہوں کہ میں آج سے دنیا میں آپ کا سفیر ہوں۔
وزیراعظم نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں نریندر مودی نے یہ اپنی آخری چال چلی ہے جو انہیں بہت بھاری پڑے گا۔ مغرب کو انتہا پسند ہندوؤں کے نظریات کا علم نہیں۔بھارتی وزیراعظم کو انتباہ جاری کرتے ہوئے عمران خان نے کہا پاکستان کوعلم ہے بھارت آزاد کشمیر میں کارروائی کرنے والا ہے لیکن مودی کو کہتا ہوں ایکشن لو آپ کو اینٹ کا جواب پتھر سے دیں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ ہمارا مذہب جنگ میں پہل اور جارحیت کی اجازت نہیں دیتا لیکن جنگ مسلط کی گئی تو پوری طاقت کےساتھ جواب دیں گے اور جنگ کبھی کسی مسئلے کا حل نہیں ہوتی۔عمران خان نے کہا کہ پورا کشمیر بند کرکے مودی کہتا ہے ہم خوشحالی کیلئے اقدام کر رہے ہیں لیکن جب کرفیو اٹھے گا اور ظلم ہوگا تو دنیا ذمہ دار ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو تکبر لے ڈوبے گا۔اقوام متحدہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ کشمیر کی صورتحال اقوام متحدہ کا امتحان ہے اور دنیا کے دو ارب مسلمان اقوام متحدہ کی جانب دیکھ رہے ہیں۔ مودی اقوام متحدہ کی قرارداد ایک جانب اٹھا کر پھینکی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا اقوام متحدہ تب چلتی ہے جب طاقتور فیصلہ کرے۔
وزیراعظم نے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ ہم انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس میں لے جائیں گے۔عمران خان نے کہا کہ نریندر مودی کا نظریہ آر ایس ایس کا نظریہ ہے جس کا مقصد مسلمانوں سے نفرت ہے۔ ہمیں آر ایس ایس کے خوفناک نظریے کا سامنا ہے کیونکہ آر ایس ایس مسلمانوں کےخلاف نفرت کے نظریے پر کاربند ہے۔انہوں نے کہا کہ آرایس ایس کے نظریے کے پیچھے ہندوستان کا ماضی ہے۔ ہندو انتہا پسند تنظیم نے جرمن نازیوں سے نظریے کی آبیاری کی۔ مقبوضہ کشمیر میں پچھلے 5 سل کے اندر جو ظلم کیا گی وہ اسی نظریہ کا شاخسانہ ہے۔
اس سے قبل وزیراعظم بذریعہ ہیلی کاپٹر آزاد کشمیر پہنچے جہاں صدر مسعود خان اور وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر نے انکا استقبال کیا۔ وزیراعظم پاکستان کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ اسپیکر چیمبر میں آل پارٹیز حریت کانفرنس اور کشمیری رہنماؤں سے بھی وزیراعظم عمران خان ملاقات کریں گے۔ وزیراعظم کی آمد پر پاکستان اور آزاد کشمیر کے ترانے بھی بجائے جائیں گے۔
وزیراعظم آزاد جموں کشمیر، اپوزیشن لیڈر اور اسپیکر اسمبلی نے بھی اجلاس سے خطاب کیا۔ وزیراعظم خطاب کے بعد آج ہی اسلام آباد روانہ ہوجائیں گے۔پاکستان کل 15 اگست کو بھارت کی یومِ آزادی کے دن کشمیریوں سے اظہارِ یکجہتی کیلئے یوم سیاح منائے گا۔واضح رہے کہ بھارت نے 5 اگست کو اپنے آئین کے آرٹیکل 370 اور 35 اے میں تبدیلی کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی ریاست کی حیثیت ختم کر دی تھی جس کے تحت لداخ اور جموں و کشمیر کو الگ کر دیا گیا۔مقبوضہ کشمیر سے متعلق نئے فیصلے کے بعد پاکستان نے بھارت سے سفارتی تعلقات محدود اور تجارتی معاملات معطل کیے ہوئے ہیں