اوور سیز پاکستانیوں کو کشمیر ڈیسک میں تبدیل کیا جائے۔۔اسد اللہ غالب

کشمیر کی بگڑتی ہوئی صورت حال کے پیش نظر امریکی ریاست فلوریڈا میںمقیم میاںمشتاق تڑپ اٹھے۔ وہ فرینڈز آف فیتھ فل یعنی ایف او ایف کے سربراہ ہیں اور پاکستان میں فلاحی کاموں میں پیش پیش ہیں۔ مگر اس بار ان کی پاکستان آمد کشمیر کے حالات کا جائزہ لینے کے لئے ہے تاکہ وہ اس کے پیش نظر اوور سیز پاکستانیوں کو متحرک کرنے کے لئے کوئی بھر پور عملی اور نتیجہ خیز لائحہ عمل تشکیل دے سکیں۔ وہ کہتے ہیں کہ وزیر اعظم عمران خان کی واشنگٹن آمد پر کینیڈا اور امریکہ کے پاکستانیوںنے جو ش وخروش دکھایاا ور اپنے وزیر اعظم کا لہو گرمایا تاکہ وہ امریکی صدر ٹرمپ کے سامنے ایک مضبوط قومی نمائندے کے طور پر ملک کا نقطہ نظر پیش کر سکیں۔ بھارت نے جیسے ہی کشمیر پر جابرانہ ہتھکنڈہ استعمال کیا تو ملکوںملکوں پاکستانی باشندے حرکت میں آ گئے۔ سلامتی کونسل کے اجلاس کے موقع پر بڑا اجتماع ہوا۔ لندن میں کشمیریوں اور پاکستانیوںنے مئوثر احتجاج کیاا ور پیرس کی تاریخ میں پہلی بار ایفل ٹاور کے سامنے پاکستانیوںنے فقید المثال جلوس نکالا اور فرانس کی رائے عامہ کو پیغام دیا کہ ان کی حکومت کی کشمیر پالیسی غلط ہے اورا س میں تبدیلی کی ضرورت ہے تاکہ کشمیری مسلمانوں کے انسانی حقوق کا تحفظ کیا جا سکے۔ اب تک پرتگال اسپین اور دیگر ملکوں میں بھی اوور سیز پاکستانی احتجاجی جلوس نکال چکے ہیں اور مشتاق چودھری نے کہاہے کہ پچا س سال بعد کشمیر کامسئلہ سلامتی کونسل کے زیر غورا ٓیا ہے اور عالمی رائے عامہ کی توجہ کا مرکز بھی بنا ہے تو اس لہر کو مستحکم بنانے کے لئے مستقل جدو جہد کی ضرورت ہے۔ ٹھیک ہے کہ حکومت نے فارن ا ٓفس میں ایک کشمیر ڈیسک قائم کر لیا ہے اور اہم ملکوں میں بھی پاکستانی سفارت خانوں کو کشمیر کاز کے لیے متحرک کیا جائے گا لیکن اوور سیز پاکستانیوں کو فعال کردار ادا کرنے کے لئے حکومتی اشارے یا امداد کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ خود سمجھتے ہیں کہ کشمیریوںکا کاز حق و صداقت پر مبنی ہے اور ان کے ساتھ سلامتی کونسل نے ستر برس قبل جو وعدے کئے تھے، ان کی تکمیل ابھی باقی ہے۔ کشمیریوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ ایک آزدانہ اور منصفانہ استصواب کے ذریعے کرنا ہے جس کی ضمانت بھارتی وزیر اعظم پنڈت نہرو بھی دے چکے ہیں مگر بھارتی حکومتوںنے اس کی نوبت ہی نہیں آنے دی اور کشمیریوں کو بزور طاقت دبانے اور محکوم بنانے کی کوشش جاری رکھی۔ بھارتی افواج میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا۔ ان کے ہاتھوں کشمیریوں کا قتل عام ہوا۔ مگر کشمیریوں کو دبایا نہیں جاسکا ۔ اب بھارت نے آخری وار کیا ہے اور کشمیر کو ایک مستقل قید خانے کی شکل دے دی گئی ہے۔ ریاست کا محاصرہ کیا جا چکا ہے، گلی گلی اور ہر موڑ پر فوج متعین ہے جوذرا سی نقل و حرکت پر فائر کھول دیتے ہیں۔ انسانی تاریخ میں اتنا طویل محاصرہ کبھی دیکھنے میںنہیں آیا۔ اس محاصرے کو دو ہفتوں سے زائد ہو چلا ہے ۔ا س دوران جمعہ کے دن آئے ۔ عید لااضحی آئی مگر کشمیریوں کو نہ سجدے کی اجازت ملی نہ سنت ابراہیمی پر عمل کرنے کی۔ وادی کشمیر میں بھوک کا راج ہے۔ ادویہ ناپید ہیں۔ بیرونی دنیا سے ان کا رابطہ کاٹ کے رکھ دیا گیا ہے۔ یہ ہے وہ صورت حال جس سے عالمی ضمیر کو آگاہ کرنے کی ضرورت ہے اورمیاںمشتاق کہتے ہیں کہ وہ واپس امریکہ جا کر تمام پاکستانی تنظیموں کو اس سلسلے میںمتحرک ہونے کے لئے کہیں گے اور کشمیر میں ایک تو انسانی حقوق کی پامالی اور دوسرے کشمیریوں کے حق خود ارادیت کو اجاگر کرنے کے لئے ہر ملک میں آباد پاکستانیوں سے کہا جائے گا کہ وہ سلامتی کونسل کے پانچوںمستقل ارکان کے سفارت خانوں،بھارتی سفارت خانوں اور اقوام متحدہ کے دفاتر کے سامنے روزانہ کی بنیاد پر احتجاج کریں تاکہ دنیا کے ضمیر کو جگایا جا سکے اور یہ کوئی مشکل یا ناممکن کام نہیں۔ د نیا کے بڑے جمہوری ممالک انسانی حقوق کے علم بردار ہیں ، ہمیں صرف انہیں یہ بتانا ہے کہ کشمیر میں بھارتی فوج کس طرح انسانی حقوق کو روند رہی ہیں اور کشمیریوں کی زندگی کس حد تک دوبھر بنا دی گئی ہے۔ میاں مشتاق نے کہا کہ مسئلہ صرف کشمیر تک محدود نہیں ۔ بھارت نے کئی ریاستوںمیں اسی طرح جبر کا سلسلہ شروع کررکھا ہے۔ کشمیر سے تو آرٹیکل تین سو ستر کو ہٹایا گیا ہے مگر بھارت کی مزید چھ ریاستوں کو تین سو اکہتر کے آرٹیکل کے تحت خصوصی حیثیت حاصل ہے۔ اور اب انہیں بھی خدشہ لاحق ہو گیا ہے کہ کشمیر کی طرح کسی دن انہیں بھی بھارت اپنے چنگل میں جکڑ لے گا۔ اس لئے بھارت کے خلاف اقوام عالم کو کھڑا کرنا بے حد آسان کام ہے مگر اس کے لئے جدید اور سائینٹفک انداز میں کام کیا جانا چاہئے ۔ ہم وسیع پیمانے پر سوشل میڈیا کااستعمال کریں گے اور کشمیر پر سلامتی کونسل کی قراردادوں کا متن جاری کریں گے۔ بھارت جس شملہ معاہدے اور اعلان لاہور کی بات کرتا ہے اس کا بھی مسودہ سوشل میڈیا پر شیئر کریں گے اور کشمیر کی بگڑتی ہوئی صورت حال کی مانیٹرنگ بھی جاری رکھیں گے اور کشمیریوں کو درپیش تما م مصیبتوں کا ریکارڈ ۔ آڈیو ۔ ویڈیو اور دستاویز کی شکل میں انٹر نیٹ کے ذریعے دنیا کے کونے کونے میں پھیلائیں گے۔ اصل کام بھارت کی سب سے بڑی جمہوریہ کے دعوے کی قلعی کھولنا ہے۔ اس کے لئے ہم سوشل میڈیا کا بھی سہارا لیں گے اور مطبوعہ مواد کے ذریعے بھی انسانی حقوق کی تنظیموں کو باخبر رکھیں گے۔ میاںمشتاق نے تسلیم کیا کہ امریکہ میں بھارت کی بہت بڑی اور مئوثر لابی کام کرر ہی ہے لیکن پاکستانیوں کا سا جوش و خروش بھارتی شہریوں کے اندر نہیں پایا جاتا۔ اس کا ایک مظاہرہ وزیر اعظم کے دورہ واشنگٹن میں کیا جا چکاا ور انشا اللہ جب ستمبر میں وزیر اعظم عمران خان جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لے نیو یارک پہنچیں گے تو انسانی مظاہروں کے اگلے پچھلے ریکارڈمات ہو جائیں گے اور امریکہ آزادی کشمیر کے نعروں سے گونج اٹھے گا۔
پاکستان میں میاں مشتاق کے لئے عام طور پر فلاحی ا دارے دلچسپی کا مرکز ہیں، سال کے شروع میں آئے تو انہوںنے شیخو پورہ میں اس اسکول کا نظام بہتر کیا جس میں مفت تعلیم دی جا رہی ہے اور ہوسٹل کی سہولت بھی فری ہے۔ اس اسکول کی عمارت اسٹیٹ آف دی ا ٓرٹ کا نمونہ ہے۔ مشتاق چودھری کہتے ہیں کہ اگر وہ پاکستان میں ہوتے تو اپنے بچوں نواسے نواسیوں اور پوتے پوتیوں کو اسی سکول میں داخل کرواتے۔ اس کے علاوہ میں انہیں رائے ونڈ روڈ پر ڈاکٹر شہر یار کے زیر تعمیر کینسر ہسپتال لے گیا جسے دیکھ کر میں بھی حیرت زدہ رہ گیا۔ یہ کسی انسان کا بہت بڑا معجزہ ہے کہ بیک وقت چار سو کینسر کے مریضوں کو علاج کی فری سہولت میسرا ٓئے گی اور ان کے لواحقین کے قیام و طعام کے لئے ہمارے دوست ڈاکٹر محمود شوکت نے ایک سرائے کی تعمیر کاآغا زکر دیا ہے۔ یہاں میاںمشتاق نے دل کھول کر چندہ پیش کیا۔ اسی طرح میںنے انہیں ڈاکٹر آصف محمو د جاہ سے ملایا جن کی کسٹمزہیلتھ کیئر تنظیم ہر آفت میں مصیبت زدہ لوگوںکی مدد کرتی ہے۔ میری ملاقات میاںمشتاق سے ہوئی تو انہوںنے سب سے پہلا سوال ڈاکٹر جاہ کے بارے میں کیا ،میںنے بتایا کہ وہ حج پر گئے ہیں ، اتفاق کی بات ہے کہ وہ اگلے ہی روز واپس بھی ا ٓ گئے مگر امکان یہ ہے کہ دونوں کی ملاقات اس ویک اینڈ پر ہی ہوسکے گی کیونکہ ڈاکٹر صاحب دفتری مصروفیات کی وجہ سے اسلام آباد چلے گئے ہیں۔اتوار کو ممکنہ طور پر ہم ڈاکٹر محمود شوکت کے عشایئے میں اکٹھے ہوں گے تو میاںمشتاق کے ساتھ کشمیر کاز پر تفصیل سے بات ہو سکے گی اور وہ جن فلاحی کاموںمیں حصہ لے رہے ہیں ، ان کی تفصیل بھی جاننے کاموقع ملے گا۔ مگر فی الوقت مجھے ان کی یہ تجویز بے حد پسند آئی کہ اوور سیز پاکستانیوں کے وسیع لشکر کو کشمیر ڈیسک کی شکل میں جمع کر کے دنیا بھر میںمتحرک کیا جائے تاکہ کشمیریوں تک یہ پیغام جا سکے کہ وہ بھارت کے جبر کے سامنے تنہا نہیں ہیں۔