جج نے پائلٹ کو فون کرکے تارکین وطن بچوں کو ملک بدر کرنے والی پرواز واپس بلالی

سڈنی: آسٹریلیا میں تارکین وطن بچوں کو ملک بدر کرنے کے لیے جانے والی پرواز کے پائلٹ کو مقامی عدالت کے جج نے فون کرکے واپس بلا لیا۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق آسٹریلیا کی عدالت میں تارکین وطن خاندان کی جبری ملک بدری کے خلاف مقدمے میں اس وقت دلچسپ اور حیران کن صورت حال پیدا ہوگئی جب جج نے سری لنکا کے تامل تارکین وطن خاندان کو جبری طور پر واپس ان کے وطن لے جانے والی پرواز کے پائلٹ کو فون کرکے واپس آسٹریلیا میں لینڈ کرادی۔
عدالت نے تارکین وطن خاندان کو عارضی طور پر ملک بدر ہونے سے بچا لیا ہے اور اب وزارت داخلہ اس معاملے کی ازسر نو تحقیقات کرے گی جن کا عدالت میں موقف تھا کہ مذکورہ خاندان مہاجرین کی تعریف کے ذمرے میں نہیں آتا اس لیے آسٹریلیا میں پیدا ہونے کے باوجود 2 بچیوں کو تاحال شہریت نہیں دی گئی اور والدین کے ساتھ ملک بدر کردیا۔عدالت میں وزارت خارجہ کی جانب سے داخل کیے گئے جواب میں کہا گیا تھا کہ مذکورہ تامل مرد اور خاتون 2012 اور 2013 میں پناہ کی تلاش میں دو مختلف واقعات میں کشتیوں کے ذریعے آسٹریلیا پہنچے تھے اور ان کی دونوں بیٹیوں کی پیدائش آسٹریلیا میں ہوئی جن کی عمریں چار اور دو سال ہیں۔
آسٹریلیا میں تارکین وطن کے حوالے سے سخت قوانین رائج ہیں تاہم ایک وفاقی جج کی جانب سے غیر معمولی طور پر تارکین وطن کو ملک بدری کے لیے لے جانے والے طیارے کو پرواز واپس آنے کے حکم سے اندازہ ہوتا ہے کہ آسٹریلیا میں تارکین وطن کے خلاف سخت پالیسیوں پر ملک میں اتفاق نہیں