پاکستان کی آواز پر عرب دنیا نے لبّیک کہہ دیا

مسئلہ کشمیر پر پاکستان دنیا بھر کی سفارتی سرگرمیوں کا مرکز بن گیا، پاکستان کی آواز پر عرب دنیا نے لبیک کہہ دیا۔او آئی سی کا اعلامیہ جاری ہونے کے بعد عرب ورلڈ متحرک ہوگئی، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزراء خارجہ کل پاکستان کے دورے پر اسلام آباد پہنچیں گے۔دونوں وزراء خارجہ مسئلہ کشمیر پر بات کرنے کےلیے پاکستان آرہے ہیں، وہ دفترخارجہ اور عسکری حکام سے ملاقاتیں کریں گے۔
اس سے قبل وزیراعظم اور سعودی ولی عہد کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ بھی ہوا، جس میں کشمیر کی حالیہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔وزیراعظم اور سعودی ولی عہد نے 57 اسلامی ملکوں کی تنظیم او آئی سی پر بھی مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے تحت حل کرنے پر زور دیا۔وزیراعظم عمران خان نے جیسا قوم سے خطاب میں کہا تھا کہ اگر آج کچھ ملک آپ کے ساتھ نہیں ہیں تو آگے چل کر ہمارے ساتھ ہوجائیں گے، وہی ہوا۔عرب ورلڈ اور او آئی سی، مسئلہ کشمیر پر پاکستانی موقف کے ہم آہنگ اور ساتھ کھڑی ہوتی نظر آنے لگی ہے۔
سعودی عرب کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور عادل الجبیر، عرب امارات کے وزیر خارجہ شيخ عبداللہ بن زائد بن سلطان النہیان کل ایک روزہ دورے پر پاکستان پہنچ رہے ہیں، ذرائع کے مطابق دونوں وزراء ایک ساتھ پاکستان پہنچيں گے۔دونوں وزراء کا دورہ پاکستان کشمیرکی صورتحال کے تناظر میں ہے، پاکستان میں سعودی سفیرنواف بن سعید المالکی ایک انٹرویو میں واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ بھارتی حکومت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے پر سعودی عرب کو خاصی تشویش ہے اور سعودی عرب اس مسئلے کو بین الاقوامی قرار دادوں کے تحت حل کرنے پر زور دیتاہے۔اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی نے بھی مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی ظلم و بربریت پر اعلامیہ جاری کیا اور واضح طور پر کہا کہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے تحت حل ہونا چاہیے