فرانس، 8 ماہ میں100 خواتین گھریلو تشدد سے ہلاک

فرانس(رضا چوہدری)نئی اعدادوشمار کے مطابق فرانس میں آٹھ ماہ میں 100 خواتین گھریلو تشدد سے ہلاک ہو چکی ہیں۔ذرائع کے مطابق گزشتہ ہفتے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق رواں سال فرانس میں کم از کم 100 خواتین ہلاک ہوچکی ہیں۔ خواتین کی تنظیم نے حکومت سے مطالبہ کیا ہےکہ بڑھتے ہوئے مسئلے سے نمٹنے کے لیے مزید اقدامات کریں۔
پیرس میں مظاہروں کے دوران ان تمام 100 خواتین کے ناموں پر متعدد نشانیاں رکھی گئیں تھیں جنہیں رواں سال قتل کیا گیا ہے۔موجودہ شرح پر فرانس میں سال کے دوران لگ بھگ 150 نسائی وادیوں کی ریکارڈنگ کی جا رہی ہے جبکہ 2018 میں یہ تعداد 121 تھی ان تازہ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ پیرس میں برطانیہ ، نیدرلینڈز ، اٹلی سمیت دیگر مغربی یورپی ہمسایہ ممالک کی نسبت نسائی اموات کی شرح زیادہ ہے۔
مہم چلانے والوں کا کہنا ہے کہ گھریلو تشدد سے نمٹنے اور زیادتی کی شکار خواتین کےلیے پناہ گاہ فراہم کرنے کے لیے وسیع پیمانے پر مالی اعانت فراہم کرنے سمیت بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔منگل کو نکالی گئی ریلی میں مطالبہ کیا گیا کہ اس کے لیے وسائل مختص کریں جو کم از کم ارب یورو ہیں۔کچھ دن پہلے، انصاف کی وزیر مارلن شوپپا نے دس لاکھ یورو مختص کرنے کا اعلان کیا تھا۔ فرانس جیسے ملک کے لیے ایک ملین یورو ایک چھوٹی سی رقم ہے