فلسفہ شہادت امام حسینؓ تحریر:آیت اللہ ڈاکٹر سخاوت حسین سندرالوی۔امریکہ

نواسہ رسول، جگر گوشہ علی ؑوب تولؑ، سید الشہداء ؑ، سرور کاروان حریت، مصداق ذبح عظیم اور محافظ قرآن و اسلام حضرت امام حسین علیہ السلام نے پیغمبر اسلام ؐ کی سرپرستی میں آغوش فاطمہ ؑ میں پرورش پائی۔ آپ ؑبچپن ہی سے فضائل و کمالات کے مرکز شمار ہوتے تھے۔ سرور کائنات ؐ نے خود آپؑ کا نام رکھا۔ مدینے کی گلیوں میں اپنے کندھوں پر بٹھایا۔ رضوان بہشت سے لباس و خوراک منگوائی، حالت سجدہ میں پشت پر سوار ہونے کے باعث آنحضور ؐ نے سجدے کو طول دیا۔ کیا میں تمہارے نبیﷺ کا نواسہ نہیں ہوں40ھ میں پیدا ہونے والے شہزادے نے 61ھ کو میدان کربلا میں اپنا تن من دھن قربان کرکے اسلام کو حیات جاویدانی بخش دی۔ وصیت نامے میں تحریر فرمایا! ’’نہ میں سرکشی اور جنگ وجدال کا ارادہ رکھتا ہوں اور نہ ہی میرا مقصد فساد پھیلانا ہے نہ کسی پر ظلم کرنا میں تو نانا کی امت کی اصلاح کیلئے نکلا ہوں میری غرض امر بالمعروف نہی عن المنکر اور اپنے جد اور بابا کی سیرت کی پیروی ہے‘‘ آپؑ کا یہ جملہ فلسفہ شہادت عظمیٰ کی عکاسی کرتا ہے کہ خدا یا مجھے نیکی سے محبت اور برائی سے نفرت ہے آپ ؑنے گوشہ نشینی کی بجائے جہاد کو ترجیح دی آپؑ نے لشکر کشی نہیں کی ورنہ اپنے ساتھ عورتوں اور بچوں کو لے کر نہ جاتے۔ آپ
ؑنے اپنی ذات کی بجائے اسلام کو زندہ رکھا۔ جس سے اسلام کے ساتھ ساتھ آپؑ بھی زندہ جاوید ہوگئے۔ اگر کوئی کہے کہ امام حسینؑ اور شہدائے کربلا نے اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالا تو زمانہ رسول ؐ کے تمام غزوے اور سریے مورد اعتراض واقع ہوں گے۔ آپ ؑ نے ثابت کردیا کہ یہ گردن کٹ تو سکتی ہے جھک نہیں سکتی یزیدنے اس ہاتھ سے بیعت مانگی جس کے پیچھے ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء ؑکی محبت پنہاں تھی۔ میدان منیٰ میں ایثار ابراہیمیؑ کا عملی نمونہ وادی نینوا میں پیش کر کے ذبح عظیم کی تفسیر فراہم کی اگر امام ؑعالی مقام یہ قربانی نہ دیتے تو انبیاء کی محنت اکارت جاتی آپؑ کے سر کے کوفہ وشام میں قرآن پڑھنے سے حدیث تقلین کا عملی نمونہ منظر عام پر آیا۔ قاتلان حسین نے سر مظلوم کو نوکِ نیزہ پر بلند کر کے اپنی شکست کا کھلا اعلان کردیا۔
بقول استاد قمر جلالوی
جھکانا چاہا تھا جس سر کو شام والوں نے
شکست دیکھیے اسی سر کو خود اٹھا کے چلے
آپؑ کے ایثار و احتجاج کے بعد ھر تخت نشین کیلئے کردار کی تصدیق مشکل ہوگئی اور یہ آشکار ہوگیا کہ لبادہ اسلام اوڑھ کر تخت پر بیٹھنے والا ہر شخص خلیفہ رسول نہیں ہوتا۔ بلکہ کبھی اس لباس میں یزیدبھی نمودار ہوسکتا ہے حاکم اسلامی کیلئے خاندانی حسب و عظمت کردار کی شرط قرار پاگئی۔ امام حسین ؑنے جوارِ روضہ رسول ؐ میں یہ جملہ کہہ کر ’’مجھ جیسا اس جیسے کی بیعت نہیں کرسکتا‘‘ حق وباطل کا معیار قائم کردیا۔ اگر شخصیتوں کا اختلاف ہوتا تو آپؑ ’’مجھ جیسا‘‘ نہ فرماتے۔
آپؑ نے 28 رجب 60ھ میں اپنے نانا کے شہر کو ہمیشہ کے لئے ترک کیا۔ 3شعبان شب جمعہ کو 60ھ وارد حرم الٰہی ہوئے۔ آپؑ نے چار ماہ اور پانچ دن جوار خانہ کعبہ میں عبادت کے عالم میں گزارے۔ کوفہ کے مصلحت پسندوں نے امام عالی مقامؑ کو متعدد خطوط بھیجے کہ وہ کوفہ تشریف لائیں۔ آپؑ نے اپنے سفیر حضرت مسلم بن عقیلؑ کو کوفہ بھیجا تاکہ وہ وہاں کے حالات سے خبر دیں جنہیں کوفہ میں بے دردی سے قتل کردیا گیا اور ان کے بچوں کو پابند سلاسل کردیا گیا جو بعد ازاں شہید کر دئیے گئے۔ 8ذی الحج کو آپ ؑ مکہ سے عازم کربلا ہوئے۔ آپؑ کے ساتھ بوڑھے جوان بچے اور عورتیں بھی تھے۔ آپؑ کو مدینہ سے عبدﷲ ؓبن عباس۔ محمد ؓبن حنفیہ اور حرم رسولؐ حضرت ام سلمہ ؓ نے روکا تھا۔ جب کہ امامؑ نے یہ کہہ کر رخت سفر باندھا کہ اسلام کے لیے ہر قربانی دوں گا مکہ سے نکلتے ہی آپؑ کے چچا زاد بھائی عبدﷲ ؓبن جعفر طیار کا خط ملا جس میں عراق نہ جانے کا مشورہ تھا جسے آپ ؑنے قبول نہ فرمایا امام حسین ؑ کے اطمینان میں کوئی چیز رکاوٹ نہ بن سکی۔
منزل حاجر سے آپ نے کوفے والوں کو خط تحریر فرمایا جس میں انہیں ان کا وعدہ یادد لایا گیا۔ قصر بنی مقاتل پر عبداﷲ ابن حر جعفی ملے جب کہ منزل شراف پر آپؑ نے محرم کا چاند دیکھا اور یہیں پر لشکر حر سے ملاقات ہوئی اور حر سمیت لشکریوں نے امامؑ کے پیچھے نماز ادا کی آپؑ نے حکم دیا کہ لشکر حر کو پانی پلایا جائے باقی ماندہ پانی ان کے گھوڑوں کو پلایا گیا۔ حر نے امامؑ سے کہا کہ ہمیں حکم ہے کہ آپؑ کو زندہ قید کر کے کوفہ لے جائیں آپؑ نے اپنے جواب میں دنیا بھر کے انقلابی اذہان کو ایک خط فکر دیا اور فرمایا کہ میرے لئے یہ ممکن نہیں کہ میں کوفہ میں خاموشی سے قتل کردیا جائوں۔ امام مظلومؑ نے حرؓ کے جواب میں یہ بھی فرمایا تھا میں راستہ دکھانے والا ہوں راستہ بدلنے والا نہیں ہوں۔ اس ایک جملے نے حرؓ کے ایمان پر پڑی ہوئی گرد جھاڑ دی۔2 محرم آپؑ وارد کربلا ہوئے اور 60ہزار درہم کے بدلے میں4مربع میل اراضی کو اہل غاضریہ کے بنی اسد قبیلے سے خریدفرمایا۔ کربلا کی سرزمین پر قدم رکھتے ہی آپؑ نے حقوق بشر کا پہلا زریں اصول رقم کردیا۔ ورنہ حکومتی معاملات اور ہنگامی حالات میں خرید و فروخت کی باریکیوں کا خیال کون رکھتا ہے؟ علامہ مجلسی ؒنے اپنی کتاب بحار الانوار میں لکھا ہے کہ اسی سرزمین سے حضرت آدمؑ‘ ؑحضرت نوحؑ، حضرت ابراہیم ؑ حضرت اسماعیلؑ حضرت موسیٰؑ حضرت سلیمان ؑ اور حضرت عیسیٰؑ جیسے انبیاء کا بھی گزر ہوا جنہیں مصائب و آلام کا سامنا کرنا پڑا۔ سات محرم 61ھ کو سادات بنی ہاشم کیلئے فوج اشقیاء نے پانی بند کردیا۔ عاشورہ کی شب امام حسین ؑ نے اعداء کو ایک رات کی مہلت دی۔ امامؑ عالی مقام علیہ السلام آخری وقت تک جنگ سے کنارہ کشی فرماتے رہے مگر جب فوج اشقیاء نے ہدایت قبول کرنے سے صراحۃً انکار کردیا تو پھر اپنا سب کچھ لٹانے کے لیے امامؑ اپنے اہل بیتؑ و انصار کو لیکر میدان میں وارد ہوئے۔ حبیب ابن مظاہر، مسلم ؓبن عوسجہ، عابسؓ شاکری، بریرؓ ہمدانی، نافع ؓابن ہلال۔ حرؓ ریاحی، وہب کلبیؓ۔زہیر قینؓ، سعیدؓ، اسلم ترکیؓ جیسے اصحاب اور پھر حضرت عباسؑ، علی اکبر، عونؑ و،محمد، قاسمؑ، عبداللہ ؑ، جعفرؑ، اولاد عقیلؑ جیسے قرابت داروں نے میدان جنگ میں وہ جوہر دکھائے کہ جس کی نظیر ناممکن ہے۔ آخر چھ ماہ کے علی اصغرؑ کو بھی قربان کرکے خود سر کو سجدے میں رکھ دیا۔ ابن صفی نے خوب نقشہ کھینچا۔
تہہ شمشیر سجدہ اور ایسا معتبر سجدہ
بتااے بے نیاز اب اعتبار بندگی آیا
آپؑ نے فرمایا تھا ’’اگر دین محمدی کی بقا ء میرے قتل کے سوا ممکن نہیں تو تلوارو آئو مجھ پر ٹوٹ پڑو‘‘ آپؑ کی قربانی سے ہر دور کے مظلوموں اور محروموں کو وقت کے جابر و ظالم سے ٹکرانے کا درس بھی ملا اور ضرورت پڑنے پر اسلام کیلئے سب کچھ قربان کرنے کی تلقین بھی ہوئی۔ حضرت امام علی ؑ کے سجدے کی تکمیل آپؑ نے کی۔ جب کہ خطبے کی تکمیل آپؑ کی ہمشیرہ جناب زینب ؑ نے کوفہ و شام کے بازاروں اور درباروں میں کی۔ امامؑ کے صاحبزادے حضرت امام زین العابدین ؑ نے بیماری کے باوجود خطبے دے کر کوفہ و شام کے لوگوں کو یزید کے خلاف عملی جہاد تک آمادہ کرلیا۔ جب یزیدنے دربار میں سید سجادؑ سے پوچھا شہزادے اس جنگ میں کون جیتا تو آپؑ نے فرمایا کہ جس کے نانا کا نام قیامت تک اذان میں شامل رہے گا۔ پیغمبر اکرم ﷺ کا ارشاد ہے کہ حسنؑ اور حسینؑ جوانانِ بہشت کے سردار ہیں۔ نیز فرمایا حسینؑ ہدایت کا چراغ اور نجات کا سفینہ ہیں۔ حسینؑ مجھ سے ہے اور میں حسینؑ سے ہوں۔ حسینؑ کا دو ست میرا دوست اور حسینؑ کا دشمن میرا دشمن ہے۔ خدا سب مسلمانوں کو امام حسین علیہ السلام اوران کے باوفا اصحاب کے راستے پر چلنے کی توفیق دے اور کردارِ حسینی سے محبت اور کرداریزیدی سے نفرت کا جذبہ عطا کرے۔ (آمین)