ُپاکستان اور کشمیر لازم و ملزوم ..کامران یوسف گھمن

“پیرس نامہ ”
کامران یوسف گھمن
kamranghumman@hotmail.com
پاکستان کی ترقی بیرون ممالک بیٹھے پاکستانیوں کی دلی مراد ہے، اسی مراد کو پورا کرنے کے لئے ہزاروں، لاکھوں پاکستانی بیرونی دنیا سے بیٹھ کر اپنے پیارے وطن میں ہر سال کثیر زر مبادلہ بھیجتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ کب ان کا پیارا وطن جہاں ان کے بزرگ ابدی نیند سو رہے ہیں اور جسے قائد اعظم نے لاکھوں مسلمانوں کی قربانیوں سے حاصل کیاایک ترقی یافتہ ملک بنے گا۔ شائیدوطن عزیز مملکت خداد داد کے باسیوں کو ابھی اور بہت سی قربانیاں دینا باقی ہیں، خدا کی قسم بیرون ممالک بیٹھے پاکستانی اس قربانی کو دینے کو تیار ہیں لیکن انہیں ہر بار ایسا گھاو ٗ لگایا جاتا ہے کہ ان کا اعتماد تو کمزور ہو جاتا ہے لیکن ان کا جذبہ کسی صورت کم نہیں کیا جاسکتا اور اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آج جب بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی حیثیت کو بدلنے کا اقدام کیا تو نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں بیٹھے پاکستانیوں کا خون کھول گیا اور بھارت کے خلاف نفرت اور غصے کی اس لہر میں یورپ کے پاکستانی پیش پیش نظر آئے۔ گزشتہ دنوں پاکستان کمیونٹی کے زیر اہتمام فرانس کے شہر پیرس میں ایفل ٹاور کے باہر ایک مظاہرے کا انعقاد کیا گیا تاکہ فرانس اور خصوصا ً پیرس میں موجود پاکستانیوں کی کثیر تعداد اپنے جذبات کا اظہار کر سکے اور بیرونی دنیا کو یہ پیغام دے سکے کہ پاکستانی دنیا کے کسی کونے میں بھی ہوں ان کے دل اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں اور یہاں راقم یہ بتانا ضروری سمجھتا ہے کہ اس مظاہرے میں ہر پارٹی سے تعلق رکھنے والے پاکستانی شریک تھے اور ان کا اتحاد اس بات کا مظہر ہے کہ کشمیر کو بھارت کے تسلط سے آزاد کروانے اور وہاں بسنے والے لاکھوں کشمیریوں کو بھارت کے مظالم سے بچانے کے لئے پاکستانی ان کے شانہ بشانہ ہیں اور خون کے آخری قطرے تک وہ ان کا ساتھ دیں گے۔
قائد اعظم نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا اور بھارت پاکستان کی شہ رگ کو الگ کرنے کے ناپاک خواب دیکھ رہا ہے لیکن اس مکار دشمن کے یہ خواب صرف خواب ہی ہوں گے کیونکہ پاکستان کی افواج اور پاکستان کی عوام نے یہ ٹھان لیا ہے کہ جب تک بھارت مظلوم کشمیروں کو ان کی مرضی کے مطابق رہنے کا حق نہیں دیتا پاکستان ان کی سفارتی، جذباتی اور ہر طرح سے مدد جاری رکھے گا یہ ان کا حق بھی ہے اور ہمارا فرض بھی۔ افواج پاکستان کے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ کو یہاں خراجِ تحسین پیش کرنا چاہوں گا جنہوں نے ایک قدم بڑھاتے ہوئے دشمن کو للکارا اور ایک واضع پیغام دیا ہے کہ پاکستان اپنی سرحدوں کی حفاظت کرنا جانتا ہے اور ہر پاکستانی خون کے آخری قطرے تک اپنے کشمیری بھائیوں کی مدد کے لئے موجود ہے۔ پاکستان میں موجودہ حکومت جو ویسے تو سیاسی سمجھ بوجھ سے عاری اور نا بلد ہے لیکن پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت اور اس کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپنے بیان میں واضع کہا کہ بے شک موجودہ حکومت شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور محترمہ فریال تالپور پر ناجائز مقدمات بنا کر ان کو قید و بند کی صعوبتیں دے کر اپنا سیاسی غصہ نکال رہی ہے اس کے برعکس پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت اور شریک چیئرمین جو گزشتہ مہینوں سے قید ہیں ایک ہی پیغام دے رہے ہیں کہ ہمیں اس وقت کشمیریوں کا ساتھ دینا ہے اور ہم دیتے رہیں گے۔ وہ ہر قسم کی سختیوں اور صعوبتوں کو برداشت کرتے ہوئے بھی پاکستان اور کشمیری عوام کی خاطر ہر محاذ پر شانہ بشانہ کندھے سے کندھا ملا کر پُرعزم ہیں۔
مجھے پیرس میں رہتے ہوئے پندرہ برس سے زائد عرصہ بیت گیا ہے اور میں یہاں ایسے لوگوں کو بھی جانتا ہوں جوشائید ان پندرہ برسوں میں ایک بار بھی پاکستان واپس نہ گئے ہوں اور شائید اگلی زندگی بھی ان کا پاکستان جانا ممکن نہ ہو سکے لیکن جب کشمیر اور پاکستان سے جڑے کسی بھی معاملے کی بات آتی ہے تو ان کی اپنے وطن سے محبت عشق کی طرح باہر نکل آتی ہے اور یہ وہی جذبہ ہے جو پاکستان بنتے وقت اس پاک وطن میں موجود ان کے آباو اجداد کے اس مٹی کو دئیے گئے خون کا نتیجہ ہے۔
ایک اور اہم بات کا ذکر کرنا آج ضروری سمجھتا ہوں، آئی ایس پی آر کے ڈی جی میجر جنرل آصف غفور کی پریس کانفرنس تھی انہوں نے کہا کہ مودی نے جو کام کیا ہے اس پر شائید مودی کو ادراک نہیں تھا کہ وہ کیا کرنے جا رہا ہے اور شائید پاکستان اور افواج پاکستان اس سے غافل رہیں گی، اور پھر انہوں نے اس بات کا تذکرہ بھی کیا کہ انگلینڈ میں کیسا احتجاج ہو رہا ہے کشمیریوں کے حق میں۔تو جناب ڈی جی آئی ایس پی آر صاحب نہ صرف انگلینڈ بلکہ یورپ بھر میں پاکستانی کمیونٹی احتجاج کر رہی ہے بلکہ آئندہ دنوں منظم اور شدید احتجاج ہوں گے اور یہ نہ صرف ہماری ذمہ داری بلکہ فرض بھی ہے کیونکہ پاکستان ہے تو ہماری پہچان ہے اور ہماری شہ رگ دشمن کی ناپاک نظروں میں ہو تو ہمیں اپنا دفاع بھی کرنا آتا ہے اور ہم آخری حد تک جانے کو بھی تیار ہیں، ایک اور بات انہوں نے کہی کہ کشمیر ایشو پر ساری قوم ایک پیج پر ہے اور واقعی ساری قوم ایک پیج پر ہے اور ہم اپنا حق لینا جانتے ہیں اور دشمن ہماری طاقت سے واقف ہے۔
راقم کو آج بھی یاد ہے کہ یوم ستمبر پر جب پاکستان کے نغمے اور شہداء کی قربانیوں کی یاد سکولوں میں پروگراموں میں دلائی جاتی تھی تو جذبہ دیدنی ہوتا تھا، آج وقت کی چالیس سے زائد بہاریں گزر گئیں بچپن سے لڑکپن اور اب بڑھاپے کی جانب سفر شروع کر دیا ہے تو آج بھی شہداء کی یاد دلوں کو گرما دیتی ہے اور یوم ستمبر کا اگر آج اگر ذکرنہ کیا جائے تو ایسا ممکن ہی نہیں، پاک فوج کے ان شہداء د کو سلا م جنہوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے اس عظیم مملکت کا دفاع کیا، ان شہداء، غازیوں کی قربانیوں کا صلہ پیارا پاکستان آج دشمن کی آنکھ میں کھٹکتا ہے اور یہ تاقیامت قائم رہنے کے لئے اللہ کا انعام ہے کیونکہ ہماری ابتداء لاالہ سے ہے اور ہماری انتہا بھی لا الہ پر ہے، آج بھی دشمن جانتا ہے کہ اس قوم کا جذبہ 6ستمبر 1965 سے مختلف نہیں اور آج بھی جوان کسی جارحیت کی صورت میں راجہ عزیز بھٹی شہید کی طرح سینوں پر گولے کھانے اورنوجوان راشد منہاس شہید کی طرح اپنی جان جانِ آفرین کے سپرد کرنے اور کیپٹن کرنل شیر خان شہید کی طرح جرائت و بہادری و دلیری کا عملی نمونہ پیش کرنے کو بے قرار ہیں، ان کے جذبوں میں نہ تو کمی آئی ہے نہ ہی دنیا کی کوئی طاقت انہیں مرعوب کر سکی ہے، یہ اللہ کے شیر اپنی جانیں اللہ کے حضور پاک وطن کے لئے قربان کرنے کو بے قرارہیں۔
کشمیر پاکستان کا ایسا مسئلہ ہے جس پر پوری قوم ایک ہے، اور اس کے لئے ہم آخری گولی اور آخری سپاہی تک جائیں گے، یوم دفاع پر پاک فوج کے ان شہیدوں کو سلام پیش کرنا چاہوں گا اور ان کے والدین، ماں بیٹوں، بیویوں اور بہنوں کو سلام پیش کرتا ہوں، ان کے گھروں پر جائیں اور انہیں خراج عقیدت پیش کریں، اور آج کے دن یہی پیغام ہے کہ اگر دشمن جارحیت کرے اور قوم کو کال دی جائے تو ہمیں نکلنا ہے اور ہم نکلیں گے۔اور دنیا کو بھارت کا اصلی چہرہ بے نقاب کریں گے