سوئس حکومت نے دہشت گردی کے ملزم کی شہریت منسوخ کردی

سوئٹزرلینڈ نے بدھ کے روزبتایا ہے کہ اس نے پہلی بار کسی دہشت گرد تنظیم سے تعلق رکھنے والے دوہری شہریت کے حامل ایک شخص سے اپنی شہریت واپس لی ہے۔ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ، “پہلی بار ملک میں امیگریشن سروس نے دہری شہریت والے شخص سے سوئس شہریت واپس لی ہے۔”
بیان میں کہا گیا ہے کہ اس شخص کو ایک کالعدم تنظیم کے لیے پروپیگنڈا کرنے اور جنگجو بھرتی کرنے کے الزام میں کئی سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔سوئس حکومت حکام نے زور دے کر کہا ہے کہ امیگریشن سروس ایسے کسی بھی شخص کی دہری شہریت والے شخص سے شہریت واپس لےسکتی ہے۔ جو سوئٹزرلینڈ کے مفادات یا وقار کو نقصان پہنچاتا اور ملکی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کا موجب بنے۔اس شخص کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی تاہم وہ وفاقی انتظامی عدالت میں فیصلے کے خلاف نظر ثانی کی درخواست دے سکتا ہے۔
سوئس اخبار’بلیک’ کے مطابق سوئٹرزلینڈ کی حکومت کی طرف سے جس شخص کی شہریت منسوخ کرنےکا اعلان کیا گیا ہے وہ ترکی سے تعلق رکھتا ہے اور اس کی عمر33 سال ہے۔ اسے سنہ 2018ء میں جنیوا میں ایک عدالت نے شام میں سرگرم النصرہ فرنٹ کے لیے پروپیگنڈہ کرنے کے الزام میں اڑھائی سال قید کی سزا سنائی تھی۔رواں سال مئی میں سوئس حکومت نے ایسے دسیوں افراد کی نشاندہی کا اعلان کیا تھا جو دہری شہریت رکھنے کے ساتھ ساتھ بیرون ملک دہشت گردی کی یا دیگر جرائم میں ملوث پائے گئے ہیں