سعودی عرب، رواں سال 12 پاکستانیوں، 6 بچوں،3 خواتین سمیت 134 کے سر قلم

کراچی(دوست نیوز) سعودی عرب نے رواں برس21پاکستانیوں سمیت134افراد کے سر قلم کردیئے،گزشتہ برس2018 میں سعودی عرب نے 149 افراد کو پھانسی دی، یہ انکشاف جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کو دی گئی رپورٹ میں کیا گیا۔ برطانوی میڈیا نے رپورٹ کے حوالے سے لکھا کہ سعودی عرب رواں برس میںاب تک 134افراد کو پھانسی دے چکا ہے ، ان میں سے 6 بچے تھے جب انہیں گرفتار کیا گیا تھا۔ ڈیتھ پنلٹی پروجیکٹ نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا کہ مزید 24افراد کو پھانسی کا خطرہ ہے جن میں 3بچے، سیاسی مخالفین ، علما اور انسانی حقوق کے کارکن بھی شامل ہیں ۔رواں برس پھانسی دیئے جانے والوں میں کم از کم 58 غیر ملکی شہری تھے ۔ سزائے موت پانے والوں میں21پاکستانی، 15یمنی، 5شامی اور چار مصر ی تھے ،اس کے علاوہ دو اردن، دو نائیجیریا،ایک صومالیہ کے شہری ہیں جب کہ دو کی شناخت نہیں بتائی گئی۔اس سال پھانسی پانے والوں میں تین خواتین اور 51وہ ہیں جن پر منشیات کے الزامات تھے۔ڈیتھ پینلٹی پروجیکٹ کے مطابق رواں برس اپریل میں ایک بڑے پیمانے پرہلاکت کے متعلق بھی بیان کیا گیا جہاں 37مردوں کو سرعام موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا