پیدائشی عیسائی اور پیدائشی مسلمان اور مسجد قرطبہ۔۔از قلم فیاض قرطبی

پیدائشی عیسائی اور پیدائشی مسلمان اور مسجد قرطبہ
دنیا میں غریب انسان کوئی بھی نہیں
از قلم فیاض قرطبی
ہفتہ کی شام کو دریائے کبیر (Guadalquivir) پر بنے پرانے رومن پل سے گزر کر مسجد قرطبہ کی طرف جانے کےلئے پہنچا تو دور سے دیکھائی دے رہا تھا کہ آج معمول سے زیادہ سیاح گھوم رہے ہیںجیسے ہی پل کے وسط میں پہنچا تو آگے جم غفیر راستہ بند کئے کھڑا تھا اور دور تک ہجوم نظر آرہا تھا ساتھ میوزک بینڈ کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں
ہم نے سوچا شائد کوئی موسیقی کا کنسرٹ ہے کوئی مشہور موسیقار آیا ہوا ہوگالیکن جب ہجوم میں سے گزرتے مسجد قرطبہ کے قریب بنے باب فتح تک پہنچا تو دیکھا کہ یہ تو عیسائیوں کا کوئی مذہبی تہوار ہے کیونکہ مختلف چرچوں کے ممبرز اپنے کندھوں پر حضرت عیسی کا مجسمہ اور صلیب اٹھائے سڑک کے درمیان سے گزر رہے ہیں اور ساتھ ہر چرچ کا اپنا موسیقی بینڈ ہےمیں حیران تھا کہ اس قسم کے مذہبی جلوس تو عموما ایسٹر کے دنوں یعنی مارچ کے ماہ میں ہر محلہ میں بنے چرچ نکالا کرتے ہیں گزشتہ بیس سال سے قرطبہ میں رہتے ستمبر کے مہینے میں اس قسم کے مذہبی تہوار کو مناتے کھبی دیکھا نہی
مسجد قرطبہ کے چاروں اطراف گلیاں عوام سے بھری ہوئی تھیں اور مختلف دیہات کے چرچ اپنے اپنے مجسمے اور صلیب اٹھائے مسجد قرطبہ کے مرکزی دروازے کے زریعہ مسجد کے صحن میں داخل ہو رہے تھے
میں نے قریب ایک اسپینش سے پوچھا کہ یہ کون سا تہوار ہے اور ستمبر میں کیوں منایا جارہا ہے تو اس نے تفصیل بتائی کہ یہ قرطبہ شہر اور اس کے گرد و نواح کے 42 مختلف چرچوں کا مشترکہ نمائش (ایکسپو )ہے جسے میگنا ایکسپوMegna exposacion کا نام دیا گیا ہے جس میں حضرت عیسی کے بنائے گئے مختلف مجسمے رکھے جائیں گے اور ہر چرچ اپنے پیرون کاروں کے ساتھ جلوس کی شکل میں اپنے اپنےمجسمے مسجد کے اندر جا کر رکھیں گے ( جسے اسپینش مسجد کھیتڈرال کہتے ہیں)یہ نمائش پورا ہفتہ جاری رہے گی۔یہ چرچوں کی تنظیم کے پچھترہویں سالگرہ کی مناسبت سے منائی جارہی ہے اور ساتھ کسی عیسائی سینٹ کی پانچ سویں سالگرہ کا دن بھی تھا۔مسجد قرطبہ کے ارد گرد عوام کے ہجوم کے جوش و خروش دیدنی تھا لڑکیوں اور خواتین کی اکثریت خوب میک اپ کے ساتھاسکرٹ پہنے نیم برہنہ ہاتھوں میں الکحول تھے گھنٹوں کھڑی رہیں۔میں سوچ رہا تھا کہ ان کا حضرت عیسی کے ساتھ مذہبی وابستگی کا عالم بھی پیدائشی مسلمانوں جتنا ہی باقی بچا ہے اب عیسائی تہوار بھی صرف چھٹی گزارنے اور پک نک کے طور پر منائے جاتے ہیں۔دوسری سوچ یہ بھی آئی کہ صلیب اور مجسموں کی نمائش کےلئے پورے اندلس میں صرف مسجد کی کیوں منتخب کی گئی
لگتا ہے چرچ کی تنظیموں نے جان بوجھ کر یہ نمائش مسجد قرطبہ میں لگائی تاکہ مسلمانوں کو قرطبہ سے بیدخل کرنے اور مسجد کو کھیتڈرل بنائے جانے کی یاد تازہ کی جائے

دنیا میں غریب انسان کوئی بھی نہیں
اللہ تعالی نے ہر انسان کو بنا مانگے اربوں روپے مالیت کے اثاثہ جات عطا فرما رکھے ہیں لیکن بیشتر انسانوں کو اسکا ادراک ہی نہی ہے
روزانہ اخبارات اور اپنے اردگرد لوگوں کے زریعہ معلوم ہوتا ہے کہ فلاں فرد نے یورپ سے یا انڈیا سے جگر ٹرانسپلانٹ کروایا جس پر ایک کروڑ خرچ آیا اسیطرح انسانی جسم کے سینکڑوں اعضا ہے جن کو صرف دوسرے انسانوں (عطیہ کردہ)سے اتار کر آپ کے جسم سے جوڑنے پر کروڑوں خرچ آتا ہے یہ قیمیت ان اعضا کی نہی ہے یہ صرف ماہرین طب کا معاوضہ ہے۔امیر سے امیر انسان بھی اپنے جسم کا ایک عضو پوری دولت دے کر کسی انجینئیر سے نہیں بنوا سکتا۔انسان نے کھبی اس بات پر غور نہی کیا کہ ہمارے خالق نے ہمیں کن کن خوبصورت اور قیمتی اعضا سے نوازا ہے۔آنکھ کا ایسا کیمرہ دیا جو سکینڈ کے ہزارویں حصہ میں اپنے سامنے کے مناظر کو دیکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے زرا تصور کیجیے کہ آپ کے پاس انکھیں نہ ہوں تو آپ کےلئے دنیا کے رنگ دنیا کی اشیا کی کیا قدر و قیمیت و اہمیت رہ جاتی
اللہ تعالی نے کیا خوب فرمایا ہے قران مجید فرقان حمید میں
تم اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاو گے