مسئلہ کشمیر پر ممبران یورپین پارلیمنٹ کی کوشش لائق تعریف

برسلز(حافظ انیب راشد)اس ماہ کی 17 تاریخ کو یورپین پارلیمنٹ کے ا سٹراسبرگ اجلاس میں مسئلہ کشمیر پر بحث نے بھارت کے اس مؤقف کو کم از کم یورپ میں سب سے زیادہ زک پہنچائی ہے کہ’کشمیر اس کا اندرونی معاملہ ہے‘۔اس بات پر ممبران یورپین پارلیمنٹ فل بینین، ٹرائین باسکو، نوشینہ مبارک ، ماریا ایرینا، شفق محمد، رچرڈ کوربٹ، اینتھیا میکن ٹائیر، کرس ڈیوس ، جینا ڈائو ڈنگ ، آڈوئیا ولانیوا روئینرا اور کلاز بخنر کو جتنا بھی خراج تحسین پیش کیا جائے کم ہے کہ جنکی پیش کردہ فوری قرارداد اور اس پر گفتگو نے بارہ سال کے طویل عرصے کے بعد یورپی یونین کو اپنا موقف واضح انداز میں بیان کرنے کا موقع دیا۔ان ممبران نے لفظوں کو چبائے بغیر مہذب انداز میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کو سنگین قراردیتے ہوئے مودی حکومت کے اقدامات کو نا قابل قبول قرار دیا۔اسی طرح وہ تمام لوگ بھی قابل تعریف ہیں جن کے بڑے بڑے مظاہروں نے ان ممبران کو مسئلے کی سنگینی پر متوجہ کیا۔اس ساری صورتحال کو سمجھنا ضروری ہے کیونکہ مودی حکومت نے اس اقدام کو اس وقت اٹھایا جب یورپ بھر میں ادارے چھٹیوں پر ہوتے ہیں۔یورپین پارلیمنٹ میں بحث کے آغاز سے قبل یورپین یونین کا بیان وزیر برائے یورپین افیئرز ٹائیٹی جوہانا تپرینن نے پڑھکر سنایا۔یونین کے اس بیان نے بھارت کے اس وقت بیرونی دنیا کیلئے اختیار کردہ ہر مؤقف کو سفارتی اندا ز میں رد کردیا ۔
1 )بھارت نے دفعہ تین سو ستر کے خاتمے کا جواز یہ پیش کیا کہ یہ اس کا اندرونی معاملہ ہے ۔
2) یہ عمل کشمیری عوام کی معاشی ترقی اور بہتری کیلئے اٹھایا گیا ہے۔
3) کرفیو عوام کو بیرونی شرپسندوں سے بچانے کیلئے عائد کیا گیا ہے۔
4) اس مسئلے پر نہ کوئی ثالثی قبول ہے اور نہ ہی بھارت اس پر کسی سے مذاکرات کرے گا۔
5) بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں نہ کوئی ظلم ہے اور نہ ہی انسانی حقوق کی کسی طرح کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔
6) یہ مسئلہ کوئی خاص سنگین نہیں، وہ اس سے نمٹ لے گا۔ یورپین یونین کے بیان میں ان تمام نکات کا مسکت جواب دیا گیا ہے ۔
یورپین یونین نے کہا کہ یہ ایک طویل عرصے سے حل طلب تنازعہ ہے یہ اس کا اندرونی مسئلہ نہیں۔ بھارت اور پاکستان کے درمیان اس مسئلے کے حل کیلئے مذاکرات ناگزیر ہیں ۔دونوں ملک کنٹرول لائن کے دونوں طرف کے عوام کے مفاد میں کشمیر کا سیاسی اور سفارتی حل نکالیں۔یونین نے اصرار کیا کہ ’یہی اس طویل عرصے سے جاری حل طلب مسئلے کا واحد حل ہے اور جو خطے میں عدم تحفظ اور عدم استحکام کا سبب ہے۔ پارلیمنٹ میں پیش کردہ اس بیان میں مزید کہا گیا کہ یونین کو انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں لوگوں کی بنیادی آزادیوں پر لگائی گئی قدغنوں پر تشویش ہے۔یورپین یونین نے اس کے بعد مطالبہ کیا کہ عوام کے ذرائع آمدورفت، کمیونیکیشن اور تمام بنیادی سہولتوں کو جلد از جلد بحال کیا جائے۔بھارت کی جانب سے ظلم و ستم کے انکار کا جواب یورپ نے یہ کہ کر دیا کہ اس کا موقف وہی ہے جو اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے اپنی دونوں رپورٹوں میں اپنایا ہے۔یورپین یونین نے انڈیا کی اس بات کو بھی تسلیم کرنے سے انکار کردیا کہ یہ کوئی تنازعہ ہے۔ یااس کے نزدیک یہ ایک معمولی سی بات ہے جس سے وہ خود نمٹ لے گا۔اس کا جواب یورپین افیئرز کی وزیر کے بیان میں یوں آیا ۔ کہ’آج کی دنیا میں پہلے سے پھیلے ہوئے تنازعات میں کوئی بھی کشمیر کے ایک اور تنازعے کو برداشت نہیں کر سکتا ۔
ہم دو نیوکلیر ملکوں کے درمیان کشیدگی میں اضافے کو روکنے کیلئے اپنی ہر ممکن کوشش کریں گے۔ اسی بحث کے دوران دو انڈین نژاد ممبران سمیت 8 ارکان پارلیمنٹ نے پاکستان کے خلاف بات کی ۔ان بیانات میں پاکستان کو دہشت گرد اور بنیاد پرست ملک قرار دیا گیا اور انڈین اقدامات کی حمائیت کیلئے جواز لائے گئے۔ اسی سے پاکستان کے مودی+ آر۔ایس۔ایس/ ہٹلر سلوگن کے خلاف دلائیل کی کمزوری کا اندازہ کیا جاسکتاہے۔امید ہے کہ ریاست کی جانب سے کالعدم تنظیموں پر موئثر کنٹرول کمزور نہیں پڑنے پائے گا۔ اسی بحث کے دوران پاکستانی ذمہ داران نے یہ ضرور نوٹ کیا ہوگا کہ آئندہ انڈیا یورپین پارلیمنٹ میں اپنے کاز کو آگے بڑھانے کیلئے کن پارلیمانی گروپوں کے ساتھ تعلق بڑھائے گا؟۔یورپ کے حوالے سے دیکھا جائے تو انسانی حقوق کا احترام اور تشدد سے دوری، پاپولسٹ اور انتہا پسند سیاستدانوں میں اضافے کے باوجود آئیندہ بھی اہم بیا نیے رہیں گے۔اسے قبول عام بنانے کیلئے ’ امن کی شدید خواہش‘سے منسلک کرنا ضروری ہو گا ۔امید ہے وزیر اعظم جنرل اسمبلی کی تقریر میں کرفیو کے خاتمے اور انسانی حقوق کمشنر کے دورہ جموں و کشمیر کو ضرور موضوع بنائیں گے۔ورنہ انہیں اپنے ہاں دورے کی دعوت تو دے ہی ڈالیں گے۔