میسی نے فیفا کے سال کا بہترین کھلاڑی کا ایوارڈ جیت لیا

لیونل میسی نے فیفا کے مردوں کے سال کے بہترین کھلاڑی کا ایوارڈ جیت لیا جبکہ ان کے حریف کرسٹیانو رونالڈو میلان کے معروف لا اسکالا اوپرا ہاؤس میں ہونے والی تقریب سے دور رہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق بارسیلونا کے اسٹرائیکر لیونل میسی کی جیت حیران کن تھی کیونکہ انہوں نے گزشتہ سیزن میں لیورپول کی چیمپیئز لیگ میں مدد کرکے یوئیفا کے بہترین کھلاڑی کا ایوارڈ جیتنے والے وین ڈائیک کو پیچھا چھوڑ دیا ہے۔یوونٹس کے فارورڈ کھیلنے والے رونالڈو کو بھی اس ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا تھا تاہم انہوں نے تقریب میں شرکت سے انکار کردیا تھا کیونکہ ان کا نام فیفا کے 11 بہترین ٹیم میں میسی کے ساتھ شامل کیا گیا تھا۔
32 سالہ میسی اور 28 سالہ وین ڈائیک دونوں ہی اب بیلن ڈی اور حاصل کرنے کی دوڑ میں آمنے سامنے ہیں جس کا اعلان 2 دسمبر کو کیا جائے گا۔ایوارڈ جیتنے پر تقریب کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے لیونل میسی کا کہنا تھا کہ ‘میرے لیے سب سے اہم چیز ایک مجموعی جیت ہے تاہم آج کی رات میرے لیے بہت خاص ہے’۔یہ پہلی مرتبہ ہے کہ میسی نے فیفا کا بہترین ایوارڈ حاصل کیا ہے جسے 2016 میں قائم کیا گیا تھا۔رونالڈو نے اس سے قبل 2016 اور 2017 میں یہ ایوارڈ جیتا تھا جبکہ کروشیا لوکا موڈرچ نے گزشتہ سال رونالڈو اور میسی، دونوں کو پیچھے چھوڑ دیا تھا۔چیمپیئنز لیگ میں میسی 12 گولز کے ساتھ ٹاپ اسکورر تھے تاہم سیمی فائنل میں لیورپول نے میسی کے کلب بارسلونا کو شکست سے ہمکنار کرایا تھا۔
میگن راپینو نے عالمی کپ جیتنے والی اپنی ساتھی الیکس مورگن اور انگلینڈ کی لوسی برونز کو خاتون کے ایوارڈ میں شکست دے دیا جبکہ ان کے کوچ جل الیس نے خواتین کی کوچنگ کا ایوارڈ جیتا۔34 سالہ راپینو خاتون کے عالمی کپ میں 6 گولز کے ساتھ ٹاپ اسکورر رہی تھیں اور انہوں نے گولڈن بوٹ بھی جیتا تھا۔راپینو کا کہنا تھا کہ ‘میرے پاس الفاظ نہیں، مجھے یقین نہیں آریا، میرے ساتھ بہت کم ایسا ہوتا ہے’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘پیشہ ور فٹبال کے کھلاڑی ہونے کے ہمارے پاس بہترین مواقع ہیں، ہمارے پاس بہترین پلیٹ فارم ہے جس کو استعمال کرتے ہوئے ہم دنیا کو بہتر کرسکتے ہیں’