مسئلہ کشمیر اور ہمارے سفارت خانے وقونصل خانے.. ڈاکٹرقمرفاروق

‎دنیا میں شاید یہ پہلا واقعہ ہے کہ ایک پوری ریاست کے 80لاکھ باشندوں کو بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھا ہوا ہے اور دنیا جو جانوروں کے حقوق پر بھی ہزاروں کی تعداد میں باہر نکل آتی ہے یہ اسی لاکھ انسان محسوس نہیں ہورہے ۔سب سے زیادہ حیرت اس بات پر ہے کہ اسپین میں ایک جانوروں کے حقوق کی تنظیم ہے جس کےکارکن برہنہ ہوکر جسموں پر سرخ رنگ ڈال کر احتجاج کرتے ہیں اور جانوروں کے ذبح پر اعتراض کرتے ہیں وہ تنظیم بھی خاموش ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانوں کے ساتھ ان جانوروں سے بھی بدتر سلوک روا رکھا ہوا ہے۔
‎اقوام متحدہ ہو یا اس کی سلامتی کونسل ہو یہ صرف اپنی سلامتی کے ضامن ادارے ہیں ان کومسلمان ممالک میں ہونے والے ظلم وستم نظر نہیں آتے پوری دنیا کے اندربلکہ اقوام متحدہ کے سامنے بھی انسان انسانیت کی بقاکےلئے چیخ رہے ہیں مجال ہے کہ آواز سنائی دے
‎وزیراعظم عمران خان نے واضح الفاظ میں پیغام بھی دیا ہے کہ بھارت کے ساتھ کاروبار یا مالی مفادات اسی وقت تک ہیں جب تک وہاں انسان آباد ہیں اور دنیا کو باخبر کر رہے ہیں کہ مسئلہ کشمیر دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان ہے اگر یہ مسئلہ دنیا حل نہیں کرتی تو دونوں ممالک حل کریں گے اور اس کا نتیجہ پھر پوری دنیا بھگتے گی ۔
پاکستان سفارتی سطح پر ناکام ہوا ہے اور اس کی ناکامی کی بڑی وجہ ایک عرصہ تک وزیرخارجہ کا نا ہونا اور دوسرا اسلامی ممالک کے درمیان اعتماد کی فضا کا قائم نا ہونا ہے اسلامی ممالک ایک کلمہ گو ہونے کے باوجود بھی ایک صفحہ پر نہیں ہیں اور ان کے درمیان اتحاد نہ ہونے کا سب سے بڑا فائدہ غیر مسلم ممالک اٹھا رہے ہیں اسلامی ممالک کی معشیت کو کمزور کر رہے ہیں اور آپس کے اختلافات کو ہوا دے کر جنگ وجدل میں مصروف رکھا ہوا ہے اور ہم دو میں نہیں بلکہ کئی ایک بلاکس میں تقسیم ہیں اور ہر ایک کسی ایک بڑے کا آلہ کار بنا ہوا ہے یہی وجہ ہے کہ او آئی سی بھی اپنا کردار ادا کرنے سے قاصر ہے۔
سفارت کاری میں یہاں پاکستان ناکام ہوا ہے وہاں پر دنیا بھر میں پاکستان کے سفارت خانے بھی وہ کارکردگی نہیں دکھا سکے جس کی امید کی جاتی ہے میں چونکہ اسپین میں رہتا ہوں اور اسپین میں پاکستان کا سفارت خانہ اور قونصل خانہ مسئلہ کشمیر یا پاک بھارت کشیدگی پرکسی قسم کی رائے عامہ ہموارنہیں کرسکا ،جب پاک بھارت کشیدگی عروج پر تھی اور بھارت نے پاکستانی حدود کی خلاف ورزی بھی کی جس کے نتیجہ میں بھارت کو ایک لڑاکا طیارہ بھی پاکستان کے ہاتھوں تباہ کرانا پڑا اور اپنا پائلیٹ بھی گرفتار کرایا اس وقت وزیراعظم پاکستان عمران خان نے جنگ کو ٹالنے اور امن کی بحالی کی خاطر بھارتی پائلیٹ واپس کر کے دنیا کو پیغام دیا کہ ہم امن پسند قوم ہیں اگر جنگ مسلط کی تو بھر پور جواب دیا جائے گا
اس موقع پر سفارت کاری کی بڑی ضرورت تھی کہ قونصل خانہ اور سفارت خانہ مقامی سیاسی جماعتوں کے فیصلہ کن کردار ادا کرنے والوں سے ملاقاتیں کرتے اور پاکستان کے موقف کو ان کے سامنے رکھتے اور ہمدردی حاصل کرتے اس موقع پر بھی ای یو ہاک فرینڈ شپ فیڈریشن اسپین کے صدر کامران خان نے بارسلونا سنٹر میں پر امن پاکستان کے نام سے ایک ریلی کا اہتمام کیا جس کے ذریعے مقامی لوگوں کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی کہ بھارتی پائیلٹ کو واپس کرنےسے مراد کہ ہم امن پسند لوگ ہیں اور دنیا میں امن چاہتے ہیں اگر اس طرح کے پیغامات قونصل خانے اور سفارت خانے کی جانب سے بھی مختلف اداروں کو جاتے تو ایک ہمدردی کی رائے عامہ تیار ہو سکتی تھی لیکن ہمارے قونصل خانے اور سفارت خانے کے لئے اور بہت مصروفیات ہیں
اب جبکہ 80لاکھ کشمیری اپنے گھروں میں محصور ہیں اور بنیادی ضروریات زندگی سے محروم ہیں جن کو صرف ایک بات کی تمنا ہے کہ ہمیں خوراک چاہےنا دو لیکن ہمارے لئے آواز تو اٹھاؤ ہم آپ کے مسلمان بھائی ہیں اگر یہ بھی قبول نا کرو تو ہم آپ جیسے انسان تو ہیں انسانیت کا واسطہ ہے کہ ہمارے لئےآواز بلند کرو
ایسی صورتحال میں حکومت پاکستان کے ساتھ ساتھ سفارت خانے اور قونصل خانے بھی سفارت کاری سرانجام دیں جس کے لئےانہیں باہر ممالک میں تعینات کیا جاتا ہے۔پاسپورٹ اور دیگر کمیونٹی کے کام کے لئے دوسرا عملہ موجود ہے یہ کام ان کو کرنے دیا جائے ۔عملہ کو ایک گائیڈ لائن دی جائے اور اس پر عمل کرایا جائے اور خود پاکستان کے لئے پاکستان کی معیشت کے لئے سفارت کاری کے فرائض سرانجام دیں اور ان کاموں کی داغ بیل ڈالیں جو آپ کے تین سال گزرنے کے بعد نئے آنے والے بھی جاری رکھ سکیں ۔
آج 50روز سے زائد دن گزر گئے مقبوضہ کشمیر میں کرفیو لگا ہوا ہے اور ان پچاس دنوں میں اسپین میں پاکستانی سفارت خانہ جس کے بارے میں کوئی علم نہیں کیونکہ ان کے کرتا دھرتا کبھی بھی صحافیوں کو نہیں بلاتے اور نا پریس بریفنگ دیتے ہیں کیا کر رہے ہیں جبکہ بارسلونا میں قونصل خانہ ابھی تک مسئلہ کشمیر پر کوئی ایسی ویڈیو کوئی رپورٹ کوئی پریس ریلیز جاری نہیں کی جس سے علم ہوسکے کہ قونصل جنرل صاحب اسپین کے صوبہ کاتالونیا کی صوبائی حکومتی ،اپوزیشن اور بڑی سماجی تنظیمات سے مقبوضہ کشمیر میں جاری کرفیو پر بات چیت کی ہو اور انہیں اس ظلم وستم سے آگاہ کیا ہو
کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں کس طرح کشمیریوں کی نسل کشی کر رہا ہے اور انسانی بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کر رہا ہے
میں امید کرتا ہوں کہ قونصل جنرل صاحب آج سے ہی کاتالونیا کی سیاسی جماعتوں کے نمائندوں اور سماجی تنظیمات اور مقامی میڈیا ہاوسز کو کشمیر میں ہونے والی بربریت سے آگاہ کرنے کے لئے ان کے دفاتر کا دورہ کریں گے اور تفصیلی بریفنگ دیں گے ۔
مجھے امید ہے اور یہ موقع بھی ہے کہ جس طرح یوم پاکستان کے پروگرام میں 19قونصل جنزلز کو دعوت دے کر بلایا گیا تھا گو اس وقت صرف تین قونصل جنرل ہی آسکے لیکن اب دوبارہ کوشش کریں اور 19قونصل جنزلز کے ساتھ میٹنگز کی جائیں اگر وہ تمام ایک ساتھ نہیں آ سکتے تو فردا فردا بھی ان سے ملاقات کی جا سکتی ہے ۔اور ان کو کشمیری عیوام کی مشکلات اور مودی سرکار کی بربریت سے آگا کیا جائے