چوہدری پرویز اقبال لوسر نے یورپی پارلیمنٹ کے نائب صدرفیبیو ماسیمو کاستالد سے ملاقات

برسلز(پ ر(ای یو پاک فرینشپ فیڈریشن یورپ کے چئیر مین چوہدری پرویز اقبال لوسر نے یورپی پارلیمنٹ کے نائب صدرفیبیو ماسیمو کاستالد سے انکے آفس میں اہم ملاقات کی اور انہیں مقبوضہ کشمیر کی کشیدہ اور تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کرتے ہوۓ بتایا کے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی سیکورٹی فورسسز کی گشمیری عوام پر ظالمانہ کاوائیاں اورکرفیو کو آج ۵۲ روز ہوچکے ہیں اور کشمیری عوام ہر قسم کے بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہیں۔انھوں نے فیبیو ماسیمو کاستالد کو بتایا کہ کس طرح بھارتی وزیر اعظم نریندرمودی وادی میں کشمیری مسلمانو ں کی نسل کشی کی تیاری کر رہا ہے اور سیکورٹی فورسسز نے جنت نظیر وادی کو کلسٹر بموں پیلٹ گنوں اور کیمیکل کے استعمال سے اجاڑ بستی میں تبدیل کررکھا ہے۔ جبکہ خواتین کے ساتھ اجتماعی زیادتی اور سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ پر مسلسل معطلی اور وادی میں داخلے پر پابندی کو بھارتی ہٹ دھرمی قرار دیا۔حالانکہ اقوام متحدہ کی قراردادیں موجود ہونے کے باوجود نہ تو ان پرعمل کیا جارہا ہے بلکہ دن بدن کشمیر کے حالات ابتربناکر کشمیریوں کے حقوق کو سلب کررکھا ہے۔چوہدری پرویز اقبال لوسر نے کہا کہ کشمیری عوام لاکھوں قربانیاں دینے کے باوجود غلامیکی زندگیاں گذارنے پر مجبور ہیں۔انھوں نے کہا کہ یوروپین پارلیمنٹ کو چاہیئے کہ وہ کشمیر یوں کیلئےاپنی بھر پور آواز اٹھائیں۔ اس موقع پر نائب صدر یوروپین پارلیمنٹ فیبیو ماسیمو کاستالد نے چوہدری پرویز اقبال لوسر کو یقین دلایا کے وہ پارلیمنٹ کے آئندہ اجلاس میں مسئلہ کشمیر کے پائیدار حل کےلئے بھرپورآواز اٹھائیں گے۔ یاد رہے کے فیبیو پہلےرکن یورپی پارلیمنٹ ہیں جہنوں نے مقبوضہ کشمیر کی بدلتی ہوئی صورتحال پر سب سے پہلے آواز اٹھائی۔اور بھارتی ظلم وتشدد کی مذمت کی۔انھوں نے فی الفور کرفیو کو ختم کرنے اور حالات کومعمول پرلانے کےلیے فورسسز کےانخلا اور بنیادی سہولیات کی فراہمی اور حریت قیادت کی بلاجواز نظر بندی اور گرفتاریوں پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت پر زور دیا ۔ملاقات میں اس بات پر بھی غور کیا گیا کہ دوطرفہ مسائل کے حل کےلیے سہہ افریکی امن مذاکرات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔