ہزاروں مراکشی خواتین کا زنا اور اسقاط حمل کروانے کا اعتراف

شمالی افریقہ کے ملک مراکش کی کم سے کم 7 ہزار خواتین نے اعتراف کیا ہے کہ وہ ’زنا کاری‘ کی مرتکب ہوئیں اور انہوں نے مراکشی قانون کے خلاف ورزی کرتے ہوئے اسقاط حمل بھی کروایا۔مذکورہ 7 ہزار مراکشی خواتین نے یہ اعتراف دراصل حکومت کی جانب سے گرفتار کی گئی ایک خاتون صحافی سے اظہار یکجہتی کے طور پر کیا۔ان خواتین نے گزشتہ ماہ 31 اگست کو گرفتار کی گئی خاتون صحافی ھجر الریسونی سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ انہوں نے شادی کے بغیر مخالف جنس کے ساتھ جنسی تعلقات بھی استوار کیے اور انہوں نے اسقاط حمل بھی کروایا۔مراکشی پولیس نے خاتون صحافی ھجر الریسونی کو شادی کے بغیر سیکس اور اسقاط حمل کے الزام میں گرفتار کیا تھا اور اب ان کے خلاف مراکشی عدالت میں مقدمہ زیر سماعت ہے۔مراکش میں اسقاط حمل غیر قانونی ہے اور اس میں ملوث پائے جانے والے افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جاتی ہے۔
مراکش میں اس وقت ہی اسقاط حمل کی اجازت دی جاتی ہے جب ماں کی زندگی یا پیٹ میں پلنے والے بچے کی صحت کے حوالے سے کوئی پیچیدگی ہو۔شمالی افریقہ کے ملک میں ’ریپ‘ اور ناجائز جنسی تعلقات کے بعد ہونے والے حمل کو ضائع کروانا بھی غیر قانونی ہے اور ‘ابارشن’ کرنے والے ڈاکٹرز اور افراد کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے۔مراکش کی اسمبلی نے 2016 میں اسقاط حمل سے متعلق ایک نئے بل کا مسودہ تیار کیا تھا، جس کے تحت ’ریپ‘ اور ’ناجائز جنسی تعلقات‘ کے بعد ہونے والے حمل کو شواہد پیش کیے جانے کے بعد ضائع کرنے کی قانونی اجازت ہوگی، تاہم اس بل پر تاحال قانون سازی نہیں ہوسکی۔ھجر الریسونی کو بھی پولیس نے اسقاط حمل کے الزام میں گرفتار کیا ہے اور ان پر الزام ہے کہ انہوں نے دارالحکومت ربط کے ایک کلینک سے یہ عمل کروایا۔خاتون صحافی کی گرفتاری پر مراکش میں کام کرنے والی انسانی حقوق و خواتین کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے احتجاج کیا ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ خاتون صحافی کو آزاد کیا جائے۔خاتون صحافی نے عدالت میں اپنے خلاف لگے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ پولیس نے انہیں محض حاملہ خواتین کے کلینک سے باہر نکلنے کی شک کی بنیاد پر گرفتار کیا۔ان کے حوالے سے سامنے آنے والی بعض خبروں میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ خاتون صحافی نے اس سے قبل بھی اسقاط حمل کروایا تھا۔عدالت نے ھجر الریسونی کی ضمانت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے انہیں پولیس کے حوالے کر رکھا ہے اور اب تک کی ہونے والی سماعتوں میں یہ ثابت نہیں کیا جا سکا کہ خاتون نے اسقاط حمل کروایا تھا۔
بعض تنطیموں اور صحافتی اداروں سمیت خاتون صحافی کے خاندان نے ان کی گرفتاری کو حکومت کی جانب سے دباؤ ڈالنے کی کوشش قرار دیا ہے۔ھجر الریسونی پر شادی کے بغیر جنسی تعلقات استوار کرنے اور اسقاط حمل کروانے کا کیس بنائے جانے کے بعد دارالحکومت ربط میں خواتین ان کی حمایت میں سڑکوں پر نکل آئیں اور انہوں نے ان سے اظہار یکجہتی کے طور پر ’زناکاری‘ کا اعتراف کیا۔برطانوی اخبار ’دی انڈیپینڈنٹ‘ کے مطابق ھجر الریسونی سے اظہار یکجہتی کرنے والی خواتین نے ایک دستاویزات پر دستخط بھی کیے، جن پر کم سے کم 7 ہزار خواتین کے دستخط موجود ہیں۔خواتین کے دستخط والے بیان کو فرانس کے معروف اخبار نے اپنے صفحہ اول پر شایع کیا، جس میں خواتین نے خاتون صحافی سے اظہار یکجہتی کے طور پر شادی کے بغیر سیکس اور اسقاط حمل جیسے جرائم کا اعتراف کیا۔خواتین کے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ انہوں نے مراکشی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نہ صرف شادی کے بغیر سیکس کیا بلکہ انہوں نے اسقاط حمل بھی کروایا اور اب انہیں بھی گرفتار کیا جائے۔برطانوی اخبار نے اپنی رپورٹ میں مراکشی حکومت کے اعداد و شمار دیتے ہوئے بتایا کہ مراکش میں صرف گزشتہ برس ہی اسقاط حمل کے 73 کیسز ریکارڈ کیے گئے۔
اعداد و شمار کے مطابق مراکش میں گزشتہ برس ساڑھے 14 ہزار افراد کو ’بدکاری‘ جبکہ 3 ہزار سے زائد افراد کو ’زناکاری‘ میں ملوث پایا گیا۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ برس 180 ہم جنس پرست افراد کی جانب سے بھی جنسی رغبت رکھنے کے واقعات پیش آئے۔خاتون صحافی کی حمایت میں اتنی ساری خواتین کے سامنے آنے اور ھجر الریسونی کی گرفتاری کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے شروع ہونے سے مراکش میں کشیدگی کی صورتحال ہوگئی ہے اور واقعے نے نیا رخ اختیار کرلیا ہے۔خیال کیا جا رہا ہے کہ مراکش میں خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں اس معاملے پر مزید احتجاجی مظاہرے منعقد کرکے حکومت پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کریں گی۔