تحریک کشمیر سپین کے زیراہتمام بارسلونا میں آل پارٹیز کشمیر کانفرنس

بارسلونا(دوست نیوز)تحریک کشمیر سپین کے زیراہتمام بارسلونا میں آل پارٹیز کشمیر کانفرنس بارسلونا میں کا اہتمام کیا گیا تحریک کشمیر سپین صدر ناصر شہزاد ، خالد بیگ اور دیگر عہدیداروں نے منیربانی کی۔آل پارٹیز کشمیر کانفرنس بارسلونا میں مسلم لیگ ن لیگ اسپین، پی پی پی اسپین ، پی ٹی آئی اسپین،مسلم سوسائٹی سپین،پاک فیڈریشن سپین، صحافی برادری اوردیگر کمیونٹی کی اہم شخصیات نے شرکت کی اور وزیر اعظم عمران خان کےاقوام متحدہ کے اجلاس میں جو مودی سرکار کو بے نقاب کیا اس پر عمران خان کو خراج تحسین پیش کیا گیا ،عمران خان نے اپنا حق ادا کر دیا اور امہ مسلمہ اور کشمیر کا سفیر بن کر دکھا دیا۔
آل پارٹیز کانفرنس میں مسئلہ کشمیر کو مقامی کمیونٹی میں کس طرح اجاگر کیا جاسکتا ہے پر تجاویز بھی دی گئیں۔تجاویز میں مقامی زبان میں پمفلٹ بنوائے جائیں اور انہیں دکانوں پر تقسیم کیا جائے۔بارسلونا میں دوسرے ممالک کے قونصل جنرلز کے ساتھ ملاقاتیں کر کے انہیں مسئلہ کشمیر اور موجودہ درد ناک صورتحال پر اعتماد میں لیا جائے۔ ٹرانسپورٹ اور میٹرو کے اسٹاپ پر کشمیریوں کا دنیا کے نام پیغام کے اشتہارات لگوائیں جائیں۔ جب کوئی بڑا احتجاج ہو تو اس وقت مخصوص شرٹس لوگوں میں تقسیم کی جائیں جن پر کشمیر لہو لہان کا نعرہ درج ہو اور منظر کشی کی گئی ہو۔ پاکستانی وکشمیری کمیونٹی بڑی تعداد میں باہر نکل کر لوگوں کو مسئلہ کشمیر پر متوجہ کریں مقامی میڈیا کو مظاہرین کی بڑی تعداد نکال کر لایا جاسکتا ہے۔اس کے علاوہ دیگر تجاویز بھی دی گئیں
مقررین کا موقف تھا کہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ بھارت نے اس مسئلہ کے حل کیلئے ہمیشہ تاخیری حربے اور عذر تلاش کئے اور پاک بھارت تعلقات کے درمیان کشیدگی میں اضافہ کیا۔شرکاء کانفرنس نے عہد کیا کہ ہم سب متحد ہو کر ہر فورم پر آواز اٹھائیں گے۔ دنیا بھلے ہمارا ساتھ نہ دے ہم اپنے موقف پر ڈٹے ہیں۔ عین ممکن ہے کہ کشمیر کا خون میں نہایا ہوا خطہ پرامن بن جائے۔ درحقیقت دونوں ملکوں کے درمیان تنازعات کا ختم ہونا ہی خطے میں امن کا پیش خیمہ ہوگا۔آخر میں کشمیر کی آزادی اور خودمختاری کیلئے دعا بھی کی گئی۔بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کیلئے بھارتی آئین کی دفعہ 370 کو مسوخ کرتے ہوئے ریاست کی آئینی حیثیت تبدیل کر دی ہے اور اسے بھارت کا باقاعدہ حصہ قرار دے دیا ہے۔ تاہم اقوام متحدہ کی قردادوں کے مطابق یہ ایک متنازعہ اور حل طلب علاقہ ہے۔