‘کاتالونیا آزادی تحریک‘مزید سات کارکنوں کو دہشت گردی کی منصوبہ بندی کے الزام میں گرفتار

کاتالونیا کے علیحدگی پسندوں نے ہسپانوی حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ان کی ’حق خود ارادیت‘ کی تحریک میں ’پرتشدد بیانیے‘ کو فروغ دے کر اسے بدنام کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
دہشت گردی کی منصوبہ بندی کا الزام
اسپین کی پولیس نے پچھلے ہفتے تئیس ستمبر کے روز ‘کاتالونیا آزادی تحریک‘ کے مزید سات کارکنوں کو دہشت گردی کی منصوبہ بندی کے الزام میں گرفتار کیا۔
ہسپانوی پولیس کا الزام ہے کہ یہ سات افراد مبینہ طور پر ایک دہشت گرد تنظیم سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کے قبضے سے دھماکا خیز مواد بھی برآمد ہوا ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق ایک گروپ نے کاتالونیا کے علاقائی صدر کوئیم تورا سے رابطہ کر کے بارسلونا کی پارلیمان پر قبضے کی منصوبہ بندی کی تھی۔
ان گرفتاریوں کے خلاف اتوار کو علیحدگی پسندوں نے ایک بڑا مظاہرہ کیا۔ کاتالونیا کے شہر سبدل میں بارہ ہزار سے زائد افراد سڑکوں پر نکلے۔ کاتالونیا کی اسپین سے آزادی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت آزادی کی پرامن تحریک میں ‘پرتشدد بیانیہ‘ داخل کر کے انہیں سیاسی طور پر نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ کاتالونیا کے علاقے سے اسپین کی وفاقی پولیس کو نکالا جائے اور گرفتار رہنماؤں کو رہا کیا جائے۔پہلے سے کشیدہ اس صورت حال میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ہے کیوں کہ اسپین کی سپریم کورٹ آنے والے دنوں میں بارہ علیحدگی پسند رہنماؤں کے خلاف مقدمے کا فیصلہ سنانے والی ہے۔ ان رہنماؤں کو سن 2017 میں بغاوت کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔
آزادی کی ناکام کوشش
کاتلان کی مقامی پارلیمان نے دو سال پہلے اسپین سے آزادی کا اعلان کر دیا تھا۔ اس کے جواب میں اسپین کی مرکزی حکومت نے غیرعمومی کارروائی کرتے ہوئے کاتالونیا کا انتظام اپنے قبضے میں لے لیا تھا اور کابینہ کو برطرف کرنے کے ساتھ ساتھ علاقائی پارلیمان تحلیل کر دی گئی تھی۔اس وقت نیم خودمختار ہسپانوی علاقے کاتالونیا کے سربراہ کارلیس پوج ڈیمونٹ اور ان کی کابینہ کے چند ارکان اسپین سے فرار ہو گئے تھے اور انہوں نے برسلز میں سیاسی پناہ لے لی تھی۔ اسی سال دسمبر میں کاتالونیا میں انتخابات کا انعقاد کرایا گیا تھا جن میں ایک مرتبہ پھر علیحدگی پسند سیاسی جماعتوں نے واضح برتری حاصل کر لی۔