ٹرمپ نے تارکین وطن کوگولی مارنے،کرنٹ چھوڑنے کا حکم دیا،امریکی صحافیوں کا دعویٰ

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے صحافیوں کی جانب سے شائع ہونے والی کتاب میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تارکین وطن کو ٹانگ پر گولی مارنے کا حکم دیا تھا۔نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق کتاب میں بتایا گیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے مہاجرین کو جنوبی سرحد عبور کرنے سے روکنے کے لیے سخت رویہ اپنانے کا کہا جس میں سرحدی باڑ میں کرنٹ چھوڑنے، چبھنے والی خاردار تار لگانے جو انسان کا گوشت تک کاٹ دے اور پانی اور سانپوں سے بھرے گڑھے بنانے کی بات شامل ہے۔واضح رہے کہ امریکا کی میکسیکو سے ملنے والی سرحد پر دیوار تعمیر کرنا ڈونلڈ ٹرمپ کا مرکزی پالیسی ہدف تھا۔دیوار کی تعمیر کا آغاز ہوچکا ہے جس کے لیے پینٹاگون نے فوجی فنڈز میں سے اس کی تعمیر کے لیے 3.6 ارب ڈالر مختص کیے ہیں۔صحافی مائیکل شیئر اور جولی ڈیوس کی جانب سے ‘سرحدی جنگ: ٹرمپ کے تارکین وطن پر ظلم کے اندر کی کہانی’ کے عنوان سے شائع کتاب انٹرویوز پر مبنی ہے جس میں درجنوں حکام کا بغیر نام ظاہر کیے انٹرویو شامل کیا گیا ہے اور اسے نیویارک ٹائمز نے شائع کیا ہے۔
اس میں مارچ 2019 کا ذکر کیا گیا جب ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوبی سرحد سے تارکین وطن کو امریکا میں داخل ہونے سے روکنے کے احکامات دیے تھے۔کتاب کے اقتباس کے مطابق امریکی صدر نے نجی سطح پر اپنے ساتھیوں کو تجویز دی تھی کہ سپاہی پیر پر گولی ماریں تاہم انہیں بتایا گیا کہ یہ غیر قانونی ہوگا۔یاد رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ عوامی سطح پر بھی یہ تجویز دے چکے ہیں کہ سپاہی پتھر پھینکنے والے تارکین وطن پر گولی چلائیں۔کتاب کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے کئی سنگین اقدامات اٹھانے کی تجاویز بھی دیں۔اقتباس میں بتایا گیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ساتھیوں کو ہدایت کی کہ امریکا – میکسیکو سرحد پر دوپہر کے بعد سے مکمل شٹ ڈاؤن کیا جائے۔ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھی ان کے سرحد کو بند کرنے کے خیال کو تبدیل کرنے میں کامیاب ہوئے تاہم بعد ازاں امریکی صدر نے اپنے کئی ساتھیوں کو عہدے سے ہٹا دیا تھا جن کے بارے میں ان کا ماننا تھا کہ وہ ان کے تارکین وطن کے خلاف کریک ڈاؤن میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ان افراد میں ہوم لینڈ سیکیورٹی کے سیکریٹری کرسٹجین نیلسن بھی شامل ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا ردعمل
دوسری جانب امریکی صدر نے صحافیوں کے انکشافات کو ‘جھوٹی خبر’ قرار دیا۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بیان جاری کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ‘میں سرحدی سیکیورٹی کے حوالے سے سخت ہوں گا، مگر اتنا بھی سخت نہیں’۔

سرحد پر ہو کیا رہا ہے؟
ڈونلڈ ٹرمپ نے غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف کریک ڈاؤن کا اعلان 2016 میں اپنی صدارتی مہم کے دوران ہی کردیا تھا۔یاد رہے کہ دسمبر 2018 میں کانگریس نے امریکی صدر کے مطالبے پر دیوار کی تعمیر کے لیے 5 ارب 70 کروڑ ڈالر فنڈز کے اجرا کی منظوری دینے سے انکار کردیا تھا جس کی پاداش میں ڈونلڈ ٹرمپ نے حکومتی اداروں کے لیے پیش کیے جانے والے بجٹ پر دستخط کرنے سے انکار کردیا تھا۔بجٹ جاری نہ ہونے کی وجہ سے فیڈرل بورڈ آف انوسٹی گیشن (ایف بی آئی) کے ایجنٹس، ایئر ٹریفک کنٹرولر اور میوزیم کے ملازمین اپنی تنخواہوں سے محروم ہوگئے تھے۔
بعد ازاں امریکی صدر نے جنوری کے آخر میں شٹ ڈاؤن عارضی طور پر ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ کانگریس کے رہنماؤں کے ساتھ وفاقی حکومت کو دوبارہ بحال کرنے کے لیے سمجھوتے پر اتفاق ہوگیا ہے۔کانگریس کی جانب سے حکومت کو دیوار کی تعمیر کے لیے ایک ارب 37 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے فنڈز استعمال کرنے کی منظوری دی گئی تھی، جبکہ ٹرمپ انتظامیہ نے اس مقصد کے لیے 5 ارب 70 کروڑ ڈالر کی رقم کا مطالبہ کیا تھا۔فروری کے مہینے میں امریکی صدر نے کانگریس کی جانب سے فنڈز منظور نہ کیے جانے پر قومی ایمرجنسی کا اعلان کیا تھا۔جون میں انہوں نے میکسیکو سے 90 روزہ معاہدہ کیا جس کے تحت سرحد پار کرنے والے تارکین وطن کا بہاؤ کم کیا جانا تھا۔اس معاہدے میں باہمی تعاون اور میکسیکو کا ملک بھر میں فوج کا تعینات کیا جانا، جیسے کئی اقدامات شامل تھے۔گزشتہ ماہ میکسیکو کا کہنا تھا کہ انہوں نے کئی غیر قانونی تارکین وطن کو امریکا میں داخل ہونے سے روکا ہے جس کے بعد سرحد پار کرنے والوں کی تعداد مئی کے مقابلے میں کم ہوکر 56 فیصد ہوگئی ہے۔موجودہ مالی سال میں اب تک 8 لاکھ افراد کو جنوبی امریکی سرٖحد پر گرفتار کیا جاچکا ہے، یہ تعداد 2018 کے مقابلے میں دوگنی ہے۔ان میں سے کئی افراد تشدد یا غربت کی وجہ سے ملک چھوڑ کر جانا چاہتے تھے