اسپین میں قومی انتخابات،کوئی پارٹی واضح اکثریت حاصل نہیں کرسکی

بارسلونا(دوست نیوز)اسپین گزشتہ پانچ سال سے حکومت سازی مکمل نہیں کرسکا ،اور ان پانچ سالوں میں چار انتخابات ہوئے لیکن کوئی بھی سیاسی جماعت سادہ اکثریت بھی حاصل نہیں کرسکی۔اپریل 2019میں ہونے والے انتخابات کے نتیجہ میں بھی کوئی حکومت نہ بن سکی اور اتحاد کے لئے مختلف جماعتوں کے درمیان ہونے والے مذاکرات کی ناکامی کے بعد 10نومبر 2019کو دوبارہ انتخابات کرانے کا اعلان کیا گیا۔
گزشتہ روز ہونے والے انتخابات میں عوامی سر مہری دیکھنے کو ملی اور جس طرح عوام میں سرگرمیاں پائی جاتی تھیں وہ کہیں نظر نہیں آئیں۔ انتخاب سے قبل تمام سیاسی جماعتوں نے عوام سے اپیل کی تھی کہ تمام لوگ ووٹنگ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں تاکہ مُلک کو ایک مستحکم حکومت مل سکے جو کہ گزشتہ کئی سالوں سے نہیں بن پا رہی۔لیکن اس اپیل کے باوجود اس انتخاب میں پچھلے انتخاب کی نسبت ٹرن آوٹ بھی کم رہا ۔

قومی اسمبلی کےانتخابات میں دو پاکستانی نژاد امیدواروں نے بھی حصہ لیا ۔لیکن اپنی روایت برقرار رکھتے ہوئے کامیابی حاصل نہ کرسکے۔ سینٹ کے لئے بھارتی نژاد امیدوار بھی کامیاب نہ ہوسکا ۔پاکستانی نژاد اسپانش افراد نے بھی کافی تعداد میں ووٹ ڈالے اور اپنے دیگر پاکستانیوں کو بھی انتخابات کا حصہ بننے کے لئے ترغیب دی
ووٹوں کی تقریباً مکمل (99.99%) گنتی کے بعد اسپین کےعام انتخابات کے نتائج کچھ یوں ہیں
سوشلسٹ پارٹی: 120
پاپولر پارٹی: 88
بوکس: 52
پودےموس: 35
ایسکیرا: 13
سیودادانوس: 10
جُونتس پر کاتالونیا: 8
دیگر: 24
حکومت بنانے کے لیے پہلے مرحلے میں تین سو پچاس نشستوں کی قومی اسمبلی کے کم از کم ایک سو چھہتر 176ارکان کی حمایت درکار ہوگی، ناکامی کی صورت میں سادہ اکثریت سے حکومت بنانے کی کوشش کی جائے گی۔
کوئی بھی سیاسی جماعت اکیلے یا اپنے “نظریاتی” اتحادیوں کے ساتھ حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں دکھائی دے رہی۔اسپین دوبارہ انتخابی بحران کا شکار ہوجائے گا اور سیاسی جماعتوں کے درمیان مذاکراتی دور چلیں گے ،
10نومبر کو ہونے والے انتخابات گو کسی جماعت کو اکثریت نہیں دلا سکے لیکن دو انہونیاں ضرور ہو گئی ہیں۔ نئی جماعت ووکس پہلی بار 52 نشستیں حاصل کر کے اسپین کی تیسری بڑی سیاسی جماعت بن کر ابھری ہے۔ ووکس انتہائی دائیں بازو کے نظریات کی حامل جماعت ہے اور مسلمانوں سے نفرت کا کھل کر اظہار کرتی ہے ۔ووکس اندلس سے مسلمانوں کے اخراج کو فخریہ بیان کرتی ہے اور مسلمانوں کو دہشت گرد اور مجرمانہ سرگرمیوں کا پشت پناہ سمجھتی ہے
انتخابات کی دوسری انہونی سیوتادانس پارٹی (اورنج رنگ) جس نے اپریل کے انتخاب میں 57 نشستیں حاصل کی تھیں کل کے انتخاب میں صرف 10 نشستیں حاصل کر سکی اس طرح وہ قومی جماعت ہونے کے باوجود علاائی جماعت سے بھی کم نشستیں حاصل کر سکی۔
کاتالونیا کی آزادی پسند جماعتوں کے لیڈران کو سزا کے بعد یہ پہلا قومی انتخاب ہے ۔انتخاب کے بعد کاتالان صدر نے اپنی ٹویئٹ میں کہا ہے کہ کاتالونیا کی آواز سُنے بغیر سپین میں حکمرانی نہیں کی جاسکے گی۔ میں الیکشن کی جیت پر سوشلسٹ پارٹی کو مبارک دیتا ہوں اور وزیراعظم سانچیس سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ اپنی ذمہ داریاں صحیح طرح نبھائیں، بیٹھیں اور مذاکرات کریں۔