پاکستان ٹائیفائیڈ کی نئی ویکسین متعارف کروانے والا پہلا ملک

گزشتہ روز پاکستان نے ٹائیفائیڈ سے بچاؤ کے لیے نئی ویکسین متعارف کروادی ہے اور یہ نئی ویکسین ملک میں بڑھتی ٹائیفائیڈ کی بیماری کو دیکھتے ہوئے متعارف کروائی ہے کیونکہ جو ویکسین اور دوا ٹائیفائیڈ کے مریضوں کو دی جارہی تھی اُس سے مرض کی روک تھام میں کوئی اضافہ نہیں ہورہا تھا۔
حکومتِ پاکستان نے یہ نئی ویکسین ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کے ذریعے منظور کروائی ہے اور یہ ویکسین صوبہ سندھ میں دو ہفتوں کی حفاظتی ٹیکوں کی مہم کے دوران استعمال کی جائے گی کیونکہ صوبہ سندھ میں 2017 کے بعد سے اب تک ٹائیفائیڈ کے 10,000 کیسز درج کیے گئے ہیں۔
اِس دو ہفتوں کی مہم میں 9 ماہ سے 15 سال کی عُمر کےبچوں کو ویکسین لگائی جائے گی، اِس دو ہفتوں کی مہم کے بعد یہ ویکسین ملک کے دیگر حصوں میں بھی فراہم کی جائے گی۔
حکومتِ پاکستان کو یہ ویکسین بین الاقوامی تنظیم ’غوی دی الائنس ویکسین‘ کی جانب سے مفت فراہم کی گئی ہے،’غوی‘ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پاکستان کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے لکھا کہ ’مبارک ہو! پاکستان دُنیا کا پہلا ملک بن گیا جس نے لوگوں کی زندگی بچانے کے لیے ٹائیفائیڈ ویکسین متعارف کروائی ہے۔‘
واضح رہے کہ حکومتِ پاکستان، غوی اور ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی ایک مشترکہ پریس ریلیز کے مطابق پاکستان میں 2017 کے دوران ٹائیفائیڈ کے 63 فیصد کیسز درج ہوئے تھے اور ٹائیفائیڈ سے ہلاکتیں ہونے والوں میں 70 فیصد تعداد بچوں کی تھی۔