بارسلونا میں بے گھر افراد کی تعداد میں اضافہ،لوگ سٹکوں اور پارکوں میں سونے پر مجبور

بارسلونا(دوست نیوز)اسپین میں کئی سالوں سے تارکین وطن کی تعداد میں بے پناہ اضافہ ہورہا ہے جس کی وجہ سے رہنے کے لئے گھر اور بنیادی ضروریات میسر نہیں ہیں اور یہ بے گھر افراد رات سڑکوں، پارکوں میں سو کر گزارتے ہیں
حکومت کہ مطابق اس وقت اسپین میں تقریباً 14ہزار اس قسم کہ تارکین وطن ہیں جو کہ 2016 میں محض 4ہزار کے قریب تھے ۔۔بارسلونا میں ساحل کہ آس پاس، پارکوں، عارضی رہائش میں درجنوں افراد سوتے ہیں۔
2019 میں کمی کے باجود 2015 سے 2018 کہ درمیان ان کی تعداد 10گنا بڑھ گی ہے جو کہ 350 سے بڑھ کر 3700ہو گی ہے جس کی وجہ سے رسیپشن سنڑز (استقبالیہ مراکز ) میں کمروں کی کمی کے سبب تھانوں میں زمین پر سو رہے ہیں۔ حکام نے نابالغوں کہ لیے 3000نئی جگہیں بھی کھول رکھی ہیں
کاسیل ڈیلس انفینٹ نامی غیر سرکاری تنظیم کے ایکسل راوا کا کہنا ہے جو کہ نوجوانوں کہ لیے مکانات کی تلاش کرتے ہیں” ہم برسوں سے اس کہ بارے میں انتباہ کر رہے ہیں مگر جب تک مسلہ گمبھیر نہیں ہوا تب تک کچھ نہیں کیا گیا
ان نوجوان تارکین وطن پر اسپین کی دائیں بازو کی جماعت کی طرف سے شدید تنقید کی گی ہے جس نے بعض اوقات سیاحوں کو لوٹنے کے پکڑے جانے کہ بعد ان سب کو مجرم قرار دیا ہے
لیکن کاتالونیا کے ریکارڈ کے مطابق 80% سے زیادہ نوجوان تارکین وطن نے کبھی کوئی جرم نہیں کیا ہے اور صرف ایک بہت ہی کم فیصد بار بار جرائم کرتے ہیں بہت بڑی اکثریت تربیت حاصل کرنا، کام کرنا اور پیسے گھر بھیجنا چاہتی ہے۔
نوجوانوں کے علاوہ ایسے بزرگ شہری بھی موجود ہیں جن کے پاس گھر نہیں ہے وہ رات سڑک پر گزارتے ہیں اور دن کو سیاحوں کو میوزک سے لطف اندوز کرکے اپنی زندگی کے دن پورے کررہے ہیں۔
ان دنوں بارسلونا میں سردی کی شدت میں اضافہ ہورہا ہے، اگر آپ سڑک پر کسی کو سوتے ہوئے دیکھتے ہیں تو 934832901 پر فون کرمتعلقہ ادارے کو آگاہ کریں تاکہ بے گھر شخص حکومت کی جانب سے دئیے گئے شیلٹر ہوم میں رہ سکے۔ سٹی کونسل کی خدمت میں شامل ہے،کہ وہ ان بے گھر افراد کو رات کا کھانا ، گرم شاور ، بستر اور ناشتہ دے۔