قران کا یورپ کی فکر اور معاشرہ پر اثرات کا جائزہ لینے کے لئے دس ملین یوروز کا فنڈ مختص

بارسلونا(دوست نیوز)جو مسلمان اس وقت یورپ میں آباد ہیں ان پر تاریخ کی بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ یورپ کی عوام کو اسلام کی اصل تعلیمات سے آگاہ کریں اور اپنے رہن سہن سے اپنے کردار و اخلاق سے اور دعوت و تبلیغ سے تبلیغ کریں
یورپ میں پچھلے تین سو سال میں مختلف انقلاب اور نظریات نے یورپ کی سوسائٹی میں عیسائی مذہب کو ریاست اور عوام کے فیمل معاملات سے الگ تھلگ کر دیا یورپ کی بیشتر عوام پچھلے سوسال سے مذہب کو اب بس پیدائشی مذہب کے طور پر اپنائے ہوئے ہے جبکہ عملی طور پر وہ لبرل اور سیکولر ہوچکے ہیں
یورپی قران پراجیکٹ پر میڈرڈ کے مقامی ریڈیو پر اس پراجیکٹ کی اسپینش انچارج Mercedes Garciaکے انٹرویو سے کچھ معلومات اخذ کی ہیں ۔جس کے مطابق یورپی یونین کی یورپین ریسرچ کونسل کا دس ملین یورو فنڈ مختص (پاکستانی دوارب روپے کے لگ بھگ) کیا گیا ہے جو قران کا یورپ کی فکر اور معاشرہ پر اثرات کا جائزہ لے گا۔اور یورپ کے مختلف ممالک کے مختلف شبعوں کے ماہرین اس موضوع پر ریسرچ کریں گے
میڈرڈ یونیورسٹی کی مرسیڈز گارسیا اور فرانس اور اٹلی اور انگلینڈ کی یونیورسٹیوں کے چار پروفیسرز اپنی اپنی یونیورسٹیوں میں پی ایچ ڈی کے خواہش مند طلبا میں سے اپنی الگ الگ ٹیمیں بنائیں گے جو مختلف موضوعات پر ریسرچ کریں گےیہ چاروں افراد اسلام اور عربی زبان اور مشرقی علوم کے ماہر ہیں اور ان موضوعات پر کئی کتب اور تحقیقی مقالے لکھ چکے ہیں ۔یہ پراجیکٹ چھ سال پر مبنی ہوگا
گیارہویں صدی سے انیسویں صدی تک قران کے یورپی زبانوں میں تراجم پر ریسرچ ہوگی،یورپ میں بیداری مذہب کی تحریک میں قران کے اثرات کا جائزہ لیا جائے گا۔یورپی ممالک کے لڑیچر پر قران کے اثرات کا مطالعہ کیا جائے گا
اور دوسری جانب گزشتہ ایک عشرے کے دوران قرآن مجید کے حوالے سے مغرب میں خصوصیت سے بے ادبی کے واقعات دیکھنے کو ملے ہیں۔ چند برس قبل پادری ٹیری جونز نے امریکہ میں قرآن مجید کو نذر آتش کرنے کی کوشش کی اور چند روز قبل ناروے میں اسی واقعہ کو دہرانے کی کوشش کی گئی ۔ عمر الیاس نامی نوجوان نے بروقت غیرت کا ثبوت دیتے ہوئے قرآن مجید کی بے ادبی کرنے والے شخص کے مذموم ارادوں کے راستے میں حائل ہونے کی کوشش کی ‘ جس پر اُمت مسلمہ کی غالب اکثریت نے اس کی تحسین کی اور اس نوجوان کے جوش وجذبے کو بھرپور طریقے سے سراہا گیا۔ گو‘ بعض مصلحت کوش افراد نے اس واقعہ پر دوسری رائے دی‘ جس کو اُمت کی غالب اکثریت نے قبول نہ کیا۔