عام انتخابات میں 24 مسلمان امیدواروں کے منتخب ہونے کی توقع

لندن( مرتضیٰ علی شاہ،عمران منور)برطانیہ میں جمعرات کو ہونے والے عام انتخابات میں پاکستانی، بنگلہ دیشی اور کرد پس منظر سے تعلق رکھنے والے 24 کے لگ بھگ مسلمان امیدواروں کے منتخب ہونے کی توقع کی جارہی ہے، جیو اور دی نیوز کی جانب سے حلقہ بندیوں، امیدواروں اور رجحان کا جو تجزیہ کیا گیا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عام انتخابات میں متوقع طور پر کامیابی حاصل کرنے والے مسلمان امیدواروں میں 70 فیصد پاکستانی جبکہ بنگلہ دیشی دوسرے نمبر پر ہوں گے، انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے والے امیدواروں کی اکثریت کا تعلق لیبرپارٹی سے متوقع ہے، دوسرے نمبر پر کامیاب ہونے والے مسلمان امیدواروں کاتعلق کنزرویٹو اور تیسرے نمبر پر لب ڈیم سے ہوگا، فی الوقت کم وبیش 3 ملین مسلمان برطانیہ میں مقیم ہیں اور اس طرح مذہبی گروپوں میں عیسائیوں کے بعد ان کا نمبر دوسرا ہے، ہمارے تجزیئے سے ظاہر ہوتا ہے کہ جمعرات کو ہونے والے عام انتخابات میں مسلمانوں کی ریکارڈ تعداد حصہ لے رہی ہےجن کی مجموعی تعداد 70 سے زیادہ بتائی جاتی ہے جبکہ 2017 کےانتخابات میں مسلمان امیدواروں کی تعداد صرف 47 تھی، لیبر پارٹی نے 33 مسلم امیدواروں کوٹکٹ دیئے ہیں، خیال کیا جاتاہے کہ اور اگر کوئی بڑا واقعہ نہ ہوا تو ان میں سے 16 ٹوری امیدواروں کے مقابلے میں کامیاب ہوجائیں گے جبکہ بعض کی کامیابی کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے۔ کنزرویٹو پارٹی نے 22 مسلمانوں کو امیدوار بنایا ہے لیکن ان میں سے صرف 5 کی کامیابی ہی یقینی معلوم ہوتی ہے۔ کوئی مسلمان کبھی لبرل ڈیموکریٹ کے ٹکٹ پر رکن پارلیمنٹ منتخب نہیں ہوا لیکن ایسا معلوم ہوتاہے کہ رواں انتخابات میں یہ پارٹی اپنی پالیسی میں تبدیلی لائے ہے اور اس نے 17 مسلمان امیدواروں کو لیبر اور ٹوری پارٹی کے خلاف ٹکٹ دیئے ہیں جن میں سے 2 کی کامیابی یقینی نظر آتی ہے۔ لیبر پارٹی نے جن مسلمانوں کو ٹکٹ دئے ہیں ان میں بیڈفورڈ سے محمد یاسین، برمنگھم لیڈی ووڈ سے شبانہ محمود، برمنگھم پیری بار سے خالد محمود، بولٹن سائوتھ ایسٹ سے یاسمین قریشی، مانچسٹر گورٹن سے افضل خان، بریڈ فورڈ ایسٹ سے عمران حسین،بریڈ فورڈ ویسٹ سے ناز شاہ، وارنگٹن سائوتھ سے فیصل رشید، ٹوٹنگ سے ڈاکٹر روزینہ الین خاں شامل ہیں، ان سب نے ان ہی نشستوں سے 2017 کے انتخابات جیتے تھے،اور اس مرتبہ بھی ٹوٹنگ کی نشست کے علاوہ تمام امیدوار ہی مطمئن نظر آتے ہیں،کوونٹری سائوتھ سے زارا سلطانہ اوربرمنگھم ہال گرین کی محفوظ سیٹ سے طاہر علی کو ٹکٹ دیاگیاہے،اور ان کی کامیابی یقینی نظر آتی ہے۔رخسانہ علی کو بیتھنل گرین اور بو سےاور روپا حق کو ایلنگ سینٹرل اور ایکٹن سے،ٹولپ صدیق کو ہیمپسٹیڈ اورکلبرن سے امیدوار بنایاگیا ہے یہ بنگلہ دیش نژاد ہیں،ا ن میں 3 سابق پارلیمنٹ کے رکن تھے افسانہ بیگم کو پاپلر اورلائم ہائوس کی محفوظ نشست کیلئے ٹکٹ دیاگیاہے،بروم وچ سےلیبر کی ایک محفوظ سیٹ پرکرد نژاد ابراہیم ڈوگس کو ٹکٹ دیاگیاہے۔لیبر پارٹی کی کرد نژاد ایک اور امیدوار فریال کلارک کو ان فیلیڈ نارتھ سے ٹکٹ دیاگیا ہے۔پینڈل، وائی کومب اورسائوتھ ووڈ فورڈ سے اظہرعلی، خلیل احمد اور فائزہ شاہین لیبرپارٹی کی امیدوار ہیں،ان تینوں نشستوں پر اس سے پہلے اینڈریو سٹیفنسن ،سٹیو بیکر اور یان ڈنکن سمتھ کامیاب ہوئے تھے۔اب مذکورہ بالا تینوں امیدوار ٹوری پارٹی کے ان رہنمائوں کو شکست دینے کیلئے زور شور سے مہم چلارہے ہیں۔فائزہ شاہین نے بڑی تعداد میں عوامی شخصیات کی حمایت حاصل کرلی ہےاور اداکار ہف گرانٹ نے گزشتہ ہفتہ ان کے حلقے میں ان کیلئے مہم چلائی تھی۔اگر اس حلقے سے وہ ٹوری امیدوار یان ڈنکن سمتھ کو پچھاڑنے میں کامیاب ہوجاتی ہیں تو یہ بہت بڑا اپ سیٹ ہوگا۔ بہت سی نشستوں پر مسلمان اور خاص طورپر پاکستانی اور کشمیری کمیونٹی کسی امیدوار کی فتح اور شکست میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔آکسبرج سے لیبر پارٹی کے ایران نژاد امیدوار کنزرویٹو پارٹی کے سربراہ وزیر اعظم بورس جانسن کو پچھاڑنے کی کوشش کریں گے۔وہ ماس کوربن سپورٹنگ موومنٹ کی مدد سے بھرپور مہم چلارہے ہیں،ان کے علاوہ پاکستانی کشمیر نژاد امیدوار برومس گروو سے ساجد جاوید، ویلڈن سے نصرت غنی، گلنغم سے رحمان چشتی اور سٹریٹ فورڈ سے کرد نژاد ندیم ضحاوی بھی سابقہ پارلیمنٹ کاحصہ تھے،ثاقب بھٹی نووارد ہیں اور انھیں ٹوری پارٹی نے میری ڈن کی محفوظ نشست سے امیدوار بنایا ہے۔پاکستان نژاد عمران احمد خان، اور صومالی نژاد مو علی کا لیبر پارٹی کی میری کریاغ اوراینا مک مورن سے سخت مقابلہ متوقع ہے۔سابقہ پارلیمنٹ میں یہ دونوں نشستیں لیبر پارٹی کے پاس تھیں۔لبرل ڈیموکریٹ سے گزشتہ انتخابات میں جیتی گئی کسی بھی نشست پر کسی مسلمان کو ٹکٹ نہیں دیا ہے لیکن سٹن اورچیم سے حنا بخاری،اور برمونڈسے اور سائوتھ وارک سے حمیرہ ملک کو شارٹ لسٹ کیا ہے2010 سے یہ نشستیں لب ڈیم کے پاس تھیں لیکن 2015 میں کنزرویٹو امیدواروں کے مقابلے میں یہ نشستیں ہار دی تھیں۔اب لبرل ڈیموکریٹ یہ نشستیں دوبارہ جیتنا چاہتی ہے اور اس کاقوی امکان بھی نظر آتاہے۔ایک اور خوش قسمت امیدوار لیڈز ناتھ ویسٹ کے علاقے لیڈز سے کامران حسین نظر آتاہے اگرچہ بریگزٹ پارٹی اور گرین پارٹی نے مسلمانوں کو ٹکٹ دیئے ہیں لیکن انتخابا ت پر اس کے نمایاں اثرات مرتب ہوتے نظر نہیں آتے۔ایس این پی اور ویلش پلیڈ کائمرو نے ان انتخابات میں کسی مسلمان کو ٹکٹ نہیں دیاہے